ملک :  --

سید احمد بن زینی دحلان حسنی،اہل سنت کے بزرگ علماء میں سے ہے۔ وہ شافعی مذہب،مفتی اور فقیہ ہے۔اس کا شمار وہابیوں کے سخت مخالفین میں ہوتا ہے۔وہ امام حسن مجتبی [1]کی اولاد میں سے  ہے۔وہ سال 1232ق یا 1321ق میں مکہ میں متولد ہوئے[2].

زندگی نامه

زینی دحلان نے نوجوانی میں ہی قرآن حفظ کیا  اور اس کے بعد اس زمانے  میں رایج  علوم کی  تحصیل میں مشغول ہوگیا اور فقہ میں اس نے کتابیں  مثل البهجة الوردیه، صفة الزبد و متن الغايه و التقريب اور علم معانی میں متن عقود الجمان، نحو میں متن الفیه ابن مالک، منطق میں کتاب السلم المنورق اخضری اور علم کلام میں کتاب ام البراهین سنوی و جوهرة التوحید ابن لقانی مالکی پڑھیں[3].

زینی دحلان نے بہت سارے اساتید سے مختف علوم و فنون میں کسب فیض کیا  اور روایت کی اجازت حاصل کی ،جیسے محمد سعید مقدسی، علی سرور، شیخ عبدالله سراج حنفی، بشری جبرتی، شیخ حامد عطار، شیخ احمد مرزوقی، عثمان بن حسن دمیاطی ازهری، وجیه کُزْبَری، قاضی علی خان مدارسی هندی، ابوفَوز محمد بن رمضان مرزوقی مفتی مالکی، محمد بن حسين حبشي باعلوي، یوسف صاوی، شیخ محمد شَنَواتی ازهری، شیخ محمد امیر کبیر ازهری، شیخ عبدالله شَرقاوی ازهری و فقه حنفی اس نے محمدحسین کُتبی  سےپڑھی اور اکثر اساتید زینی دحلان مصری تھے.[4] 

شروع میں زینی دحلان حنفی مذہب تھے  اور بعد میں شافعی کو خواب میں دیکھ کر شافعی مذہب بن گئے اور مکہ مکرمہ کے شافعی مفتی بن گئے[5].

زینی دحلان تصوف میں آل باعلوی کی طریقت پر تھے اور یہ طریقت اس نے بزرگان جیسے سید محمد بن حسین حبشی، عمر بن عبدالله جفری، سید عبد الرحمن بن علی سقاف باعلوی، احمد بن سالم جفری، ابی بکر بن عبدالله عطاس و سید عبدالله بن احمد سے روایت کی ہے اور ان سے اجازت لی ہے[6].

زینی دحلان کے شاگر بہت زیادہ تھے، جن کا تعلق مختلف ممالک سے تھا جیسے مغرب، یمن، حجاز، هند، مصر و دیگر اور اس سے روایت کی اجازت لی تھی، اس کے شاگرد یہ ہیں:

ابوبکر بن محمد شَطا بکری دمیاطی[7]، ادریس بن عبدالهادی علوی، قاضی عبدالله بن هاشمی، عبدالملک بن عبد الکبیر فاسی، شیخ محمد طیب تونسی، أحمد بن محمد بناني، أبو جيدة فاسي، شيخ مكي بن عزوز، سيد حسين حبشي باعلوي، شيخ محمد سعيد بابصيل مكي، سيد سالم بن عيدروس باعلوي، سيد عمر شطا مكي، شيخ أحمد بن عثمان عطار، نور عليّ بن ظاهر مدني، شيخ حبيب الرحمن هندي، شهاب أحمد بن إسماعيل برزنجي، محمد بن محمد مرغني اسكندري، محمد الإمام بن إبراهيم سقا مصري، شيخ حسين بن محمد طرابلسي، محمد شريف دمياطي، شهاب أحمد بن حسن عطاس، نور الحسنين بن محمد حيدر حيدرابادي، أحمد رضا عليّ خان بريلوي، سيد أبو بكر بن عبد الرحمن باعلوي، عباس بن جعفر بن عباس حنفی مکی، عبدالحمید بن علی بن عبدالقادر قدس مکی شافعی، عبدالستار بن عبدالوهاب حنفی مکی و سید علوی بن احمد بن عبدالرحمن سقاف مکی[8].

مکے کے شافعی مفتی زینی دحلان مذاہب اربعہ کے بارے میں کافی معلومات رکھتے تھے۔ اس  سے جو بھی سوال ہوتا تھا مذاہب اربعہ کے مطابق جواب دیتے تھے، یہاں تک کہ اس کی عمر کے آخری سالوں میں اس زمانے کے حکمران صرف اس سے ہی مسائل پوچھتے تھے، خاص طور پر جب کوئی نیا مسئلہ پیش آتا تھا۔ دحلان حدیث کےلیے سپیشل اہتمام کرتے تھے یہاں تک کہ صحیح بخاری کو الحمد کی طرح  حفظ کیا تھا۔

زینی دحلان  علماء کی نگاه میں

زرکلی وهابی، زینی دحلان کے بارے میں لکھتا ہے: فقیہ مکہ ، مکے میں پیدا ہوئے اور فتوا  و تدریس کی کرسی سنبھالی[10] کتانی نے لکھا ہے: مکے کے مفتی زینی دحلان علامہ اور نیک تھے اور ان شخصیات میں سے تھے جس کے وسیلے سے اللہ تعالی نے اسلام کو نفع پہنچایا[11] حسن سقاف اور بغدادی اس کو مفتی، رئیس العلماء اور شیخ الخطباء پکارتے تھے[12]. زینی دحلان اپنے زمانے کے مشہور علما میں سے تھے یہاں تک کہ علامہ لکنوی نے اپنے مکہ کے سفر کے دوران زینی دحلان سے ہدایہ  مرغینانی کے تمام اسانید کی اجازت لی اور اسے «الشیخ الفقیة الکامل النبیة مفتی الشافعیة» سے تعبیر کیا[13].

عبد الرزاق دمشقی، زینی دحلان  کے بارے میں لکھتے ہیں: (فريد العصر والأوان، علي الهمة عظيم الشان، علم العلماء الأعلام، وملجأ السادة الكرام، عمدة الأفاضل، ونخبة ذوي الشمائل، من طار ذكره في الأقطار، واشتهر فضله وقدره في النواحي والأمصار ... وكان لطيف المعاشرة، حسن المسايرة، سار في منهج العلم والأدب من صغره، واعتاد قطف ثمرات الرفعة من ابتداء عمره ... إلى أن انفرد في جلالته، وانجلبت القلوب على مهابته، وله كنايات حسنة، وتأليفات مستحسنة ... وكان رئيس علماء الحجاز، ومقدمهم في الحقيقة والمجاز، وكانت الإمارة الحجازية تنظر إليه بعين الرعاية، وتضمه إليها ضم العناية، ولم يزل مقامه يعلو، وقدره يسمو، إلى أن اختارته الآخرة)[14].

چونکہ زینی دحلان وہابیوں کے خلاف سخت علما میں سے تھے اور وہابیوں  پر  کئی رد لکھی ہیں، اس لیئے وہابی علما نے  جیسے سهسوانی هندی، تویجری، بن باز، بن جبرین نے اپنی کتابوں میں  اس کی طرف بری نسبتیں دی ہیں اور اس پر رد لکھی ہیں[15]۔اور یہ اہل سنت اور ان کے علما کے درمیان  زینی دحلان  کے بلند مرتبہ ہونے کی علامت ہے اور وہابیوں نے بین الاقوامی سطح پر اس کی شہرت کم کرنے کےلیے اس پر کئی الزامات لگائے ہیں۔

 

زینی دحلان کے نظریات:

  1. جواز شد رحال و زیارت قبر پیامبر(ص(: زینی دحلان معتقد ہے کہ شد رحال اور زیارت قبر پیامبر (ص) جایز و مستحب ہے اور جواز زیارت قبر پیامبر (ص) پر اہل سنت کا اجماع ہے[16].
  2. جواز توسل و استغاثه: زینی دحلان معتقد ہے کہ سلف،صحابہ و تابعین نے غیر اللہ سے توسل کیا ہے اور موثر حقیقی اور واقعی خدا وند ہے، پیامبر (ص) و ولی کی طرف نسبت از باب مجاز دی جاتی ہے[17].
  3. جواز طلب شفاعت:زینی دحلان معتقد ہے کہ پیامبر (ص) سے شفاعت طلب کرنا جایز ہے اور اپنی امت کی شفاعت سے متعلق احادیث متواتر ہیں[18].
  4. قبر میں پیامبر (ص) کا زندہ ہونا: زینی دحلان قائل ہے کہ کہ روایات کے مطابق تمام انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں[19].
  5. ۔ 1.وہابیوں کا خارجی ہونا: زینی دحلان اپنی کتاب فتنہ وہابیت میں لکھتا ہے کہ وہابی خوارج ہیں۔ انہوں نے وہ آیاتیں جو کافروں کی شان میں نازل ہوئی ہیں ان کی نسبت مومنین اور مسلمانوں کی طرف دی ہے۔ وہابیت ایک فتنہ تھا جو جہان اسلام میں پیدا ہوا اور روایات میں اس فتنہ کی طرف اشارہ ہوا ہے[20].
  6. قبر پیامبر (ص) و اولیای الهی کی تعمیر جایز ہے:زینی دحلان معتقد ہے کہ اولیائے الہی کی قبور کو مسمار کرنا جایز نہیں ہے[21].
  7. ایمان حضرت ابوطالب (ع(: زینی دحلان کا اعتقاد ہے کہ ابو طالب مومن اور اہل نجات تھے، لہذا اس نے اس بارے میں ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ہے: (اسنی المطالب فی نجاة ابی طالب)۔حسن سقاف نے اس پر تعلیقہ اور مقدمہ لکھا ہے کہ بہت سارے علما جیسے(برزنجی، سیوطی، سبکی، قرطبی، شعرانی و دیگر) کا اعتقاد ہے کہ ابوطالب مومن تھے۔
  8. لعنت یزید:زینی دحلان دوسرے اہل سنت علما کی طرح یزید پر لعنت کرنے کو جایز سمجھتا ہے۔ اس نے اپنی کتاب میں یزید پر لعنت بھیجی ہے[22].
  9. جواز مولد النبی (ع)[23].
  10. پیامبر اسلام کی خدمت میں امت کے اعمال کا پیش کیا جانا (ص)[24].

 

سیاسی و اجتماعی سر گرمیاں 

۱۔ مفتي شافعي مكه:زینی دحلان نے سال 1281 ق میں سید محمد حبشی کی وفات کے بعد افتاء مکہ مکرمہ بر اساس مذہب شافعی کی مسوولیت سنبھالی[25].

۲۔ مشيخه علما: سال 1284 ق میں زینی دحلان نے مسجد الحرام میں مشیخۃ العماء کا عہدہ سنبھالا[26].

تالیفات

زینی دحلان نے  مختلف موضوعات  جیسےفقهی، اعتقادی، سیره، تاریخ اور علوم قرانی  کے بارے میں بہت ساری کتابیں  لکھی ہیں جن کی مجموعی تعداد ۳۰ بنتی ہے۔اسی طرح وہابیوں کی رد میں خاص طور پر محمد‌ بن عبدالوهاب کی رد  میں کچھ کتابیں لکھی ہیں۔

۱۔. فتنة الوهابیة: اس کتاب میں زینی دحلان وہابیت کے بارے میں لکھتا ہے:وہابیت ایک بہت ہی بڑی مصیبت ہے جس کا اہل اسلام شکار ہوگئے اور یہ سب کچھ اس کے بانی کے توحید و شرک، زیارت، استمداد از اولیا، توسل اور شفاعت کے بارے میں  غلط نظریئے کی وجہ سے ہوا ہے۔اس کے افکار  کا عملی نتیجہ اسلامی معاشرے میں نہ صرف دینی اصلاح کا باعث نہیں بنا بلکہ بہت ساری مشکلات کا سبب بنا۔ اس کے متشدد نظریات مسلمانوں کی پریشانی کا سبب بنیں،بہت ساری کتابیں ان کی مخالفت اور رد میں لکھی گئیں ، یہاں تک کہ اس کے والد اور بھائی نے بھی جو خود بھی نامور عالم تھے اس کی مخالفت میں کتابیں لکھیں ہیں.[27]

۲۔ الدرر السنیة في الرد على الوهابیة: زینی دحلان نے یہ کتاب بحث توسل ، زیارتِ قبور، استغاثه و تبرک میں وہابی عقاید کی رد میں لکھی ہے۔ اس کتاب میں اس نے زیارت نبی (ص)، توسل به اولیا و صالحان،  اسی طرح تبرک به آثار کے جواز کو ثابت کیا ہے،اور ان افعال کے منکروں کے سوالات کا جواب دیا ہے۔اس میں اس نے  وہابیت کے قبیح افعال کا بھی ذکر کیا ہے اور وہابیت کی پیدائش کے بارے میں بھی اشارہ کیا ہے۔آخر میں اس نے پیامبر اکرم (ص) کی کچھ احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں پیامبر اسلام (ص) نے اس فتنے کی پیدائش کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

۳۔ خلاصة الکلام في بیان أمراء البلد الحرام: زینی دحلان اس کتاب میں وہابی فتنے کو جہان اسلام میں سب سے بڑا فتنہ سمجھتے ہیں جس میں محمد بن عبد الوہاب کے پیروکار دوسرے مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں۔وہ اس کتاب میں لکھتا ہے کہ اس آئین کو محمد بن عبد الوہاب نے سال ۱۱۴۳ ق  میں بنایا تھا اور ۵۰ سال بعد محمد بن سعود کی مدد سے نجد میں امیر درعیہ کے نام سے مشہور ہوگیا.[28]

زینی دحلان لکھتا ہے محمد بن عبد الوہاب کے بعض پیرو کار کہتے تھے ہماری لاٹھی پیامبر (ص) کی لاٹھی سے بہتر ہے چونکہ ہم اپنی لاتھی سے سانپ کو مارتے ہیں لیکن پیامبر (ص) فوت ہوگئے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور پیام رسانی ختم ہوچکی ہے[29]. مذید لکھتا ہے: مذاہب اربعہ کے علما نے اسے کفر مانا ہے۔زینی دحلان اس کتاب کے ایک حصے میں توسل صحابه و ائمه اهل سنت و علمای اهل سنت  کو بیان کرتا ہے [30].اسی طرح اس کتاب میں وہ وہابیوں سے مسلمانوں کیجنگوں کی کیفیت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے اور وہابیوں کے جرائم کو بھی بیان کرتا ہے۔

۴۔ أسنى المطالب في نجاة أبي طالب:اس کتاب میں سب سے پہلے زینی دحلان اس کتاب کی تالیف کا ہدف بیان کرتے ہیں کہ میں نے علامہ برزنجی کی کتاب دیکھی جو اس نے پيامبر (ص) کے والدین کی نجات کے بارے میں لکھی ہے اور کتاب کے آخر میں ابو طالب(ع) اور اس کی نجات کے بارے میں لکھا ہے اور اس کے دلائل کتاب و سنت اور علما کے اقوال کی اساس پر تھے اور اس سے پہلے کسی کا ایسا مسلک نہیں تھا اور اگر کوئی شخص مخالفین اور معاندین کی ادلہ پر ایک نگاہ ڈالے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ نجات یافہ ہیں  حتی جو نصّص وارد ہوئی ہیں وہ بھی ان کی نجات کی تصریح کرتی ہیں[31].

۵۔ تیسیر الأصول لتسهیل الوصول: یہ کتاب زینی دحلان نے اللہ تعالی اور پیامبر (ص) کی شناخت،تزکیہ نفس،نفس سے مربوط مسائل،مکاشفات علما اور تصوف کے بارے میں لکھی ہے۔ یہ کتاب زینی دحلان کی آخری کتاب ہے اور موت کے وقت اس نے اس کتاب کے پڑھنے کی وصیت کی تھی[32].

۶۔ منهل العطشان على فتح الرَّحمن: زینی دحلان نے یہ کتاب علوم قرآن، تجوید اور قرائت کے بارے میں لکھی ہے۔

۷۔ متن البهجة و أبيشجاع و عقود الجمان:زینی دحلان نے یہ کتاب علم و معانی و بیان کے متعلق لکھی ہے[33].

۸. الفتوحات الإسلامیة بعد الفتوحات النَّبویة؛

۹. السیرة النبویة و الآثار المحمدیة؛

۱۰۔. الفتح المبین في فضائل الخلفاء الراشدین و أهلالبیت الطاهرین؛

۱۱۔. فضائل العلم؛

۱۲۔. فضائل الجمعة و الجماعات؛

۱۳۔. بیان المقامات و کیفیة السلوك؛

۱۴۔. الأنوار السّنیة بفضائل ذرِّیة خیر البریة: زینی دحلان نے یہ  کتاب فضیلت اهل بیت (ع) میں لکھی ہے [34].

۱۵۔ النَّصائح الإیمانیة للأمة المحمَّدیة؛

۱۶۔ تاریخ الدُّول الإسلامیة بالجداول المرضیة؛

۱۷۔ طبقات العلماء؛

۱۸۔ متن الشَّاطبیة الجامع بکلّ المرام في القراءات؛

۱۹۔ تاریخ الأندلس؛

۲۰۔ متن الألفیة؛

۲۱۔ تلخیص منهاج العابدین للإمام الغزالي؛

۲۲۔ تلخیص أسد الغابة؛

۲۳۔ تلخیص الإصابة في معرفة الصَّحابة؛

۲۴۔ حاشیة على الزّبد لابن رسلان: یہ کتاب زینی دحلان نے نماز خوف کے بارے میں لکھی ہے۔

۲۵۔ فتح الجواد المنّان بشرح فیض الرَّحمن؛

۲۶۔ رسالة في البسملة؛

۲۷۔ رسالة عن فضائل الجمعة؛

۲۸۔. رسالة الشُّکر للإمام الغزالي؛

۲۹۔ رسالة في البعث و النّشور؛

۳۰۔ إرشاد العباد في فضائل الجهاد؛

۳۱۔ شرح الأجرومیة في النَّحو؛

۳۲۔ تقریرات على تفسیر البیضاوي؛

۳۳۔ شرح على الألفیة؛

۳۴۔ تقریرات على الأشموني و الصبَّان؛

۳۵۔ تقریرات على السّعد؛

۳۶۔ حاشیة البناني.[35]

  

وفات

زینی دحلان سال 1304 ق میں مدینے میں چل بسے اور شہر مکہ میں قبرستان معلی میں دفن ہوگئے[36]۔ بعض کہتے ہیں مدینہ میں قبرستان بقیع میں قبه ائمه بقیع اور قبه زنان پیامبر (ص) کے درمیان  دفن ہوگئے[38].

 

 حوالہ جات

[1]- دمیاطی، ابوبکر شطا، نفحة الرحمن في بعض مناقب الشیخ السید أحمد بن السید زیني دحلان، تحقیق: ابن‌حرجو الجاوی، بی‌جا: مکتبة ابن ‌حرجو الجاوي، چاپ اول، 1437ق. ص 13 و 14 : «سید احمد بن زینی بن احمد بن عثمان بن نعمة‌الله بن عبدالرحمن بن محمد بن عبدالله بن عثمان بن عطایا بن فارس بن مصطفى بن محمد بن احمد بن زینی بن قادر بن عبدالوهاب بن محمد بن عبدالرزاق بن احمد بن احمد بن محمد بن زکریا بن یحیى بن محمد بن عبدالقادر جیلانی بن موسى بن جنكي دوست حق بن یحیى بن زاهد بن محمد بن داود بن موسى بن عبدالله محض بن حسن المثنى بن حسن (ع)».

کتاب خلاصة الأثر في أعيان القرن الحادي عشر؛ محمد امین حموی، دار صادر – بيروت، ج 4، ص 455، نسب سید نعمه الله جد سید احمد زینی دحلان اس صوورت میں ذکر ہے: « الشَّيْخ نعْمَة الله بن عبد الله بن محيى الدّين بن عبد الله بن على بن أَحْمد بن مُحَمَّد بن زَكَرِيَّا بن يحيى بن مُحَمَّد بن يحيى بن مُحَمَّد بن عبد الله بن الشَّيْخ عبد الْقَادِر الجيلانى بن أَبى صَالح مُوسَى بن جنكى دوست حق بن يحيى الزَّاهِد بن مُحَمَّد بن دَاوُد بن مُوسَى الحرن بن عبد الله الْمَحْض بن الْحسن الْمثنى بن الْحسن بن على بن أَبى طَالب رضى الله عَنهُ».

[2]- خير الدين زركلي، الأعلام، دار العلم للملايين، چاپ پانزدهم، بي جا، 2002 م. ج 1، ص 129 و 130- الكتاني، محمد عبد الحي (م 1382)، فهرس الفهارس والأثبات ومعجم المعاجم والمشيخات والمسلسلات، تحقيق: إحسان عباس، دار الغرب الإسلامي، بيروت، الطبعة: الثانية، 1982م. ج 1، ص 390- مرعشلی، یوسف، نثر الجواهر و الدرر في علماء القرن الرابع عشر، بیروت: دار المعرفة، چاپ اول، 1427ق. ص 118- حضراوی، احمد، نزهة الفکر؛ في ما مضى من الحوادث و العبر في تراجم رجال القرن الثاني عشر و الثالث عشر قطعة منه، تحقیق: محمد مصری، دمشق: دار إحیاء التراث العربي، 1996م. ص 186.

[3]- دمیاطی، ابوبکر شطا، نفحة الرحمن في بعض مناقب الشیخ السید أحمد بن السید زیني دحلان، ص 15 و 16.

[4]- کتانی، محمد عبدالحی، فهرس الفهارس و الأثبات، ج1، ص390- دمیاطی، ابوبکر شطا، نفحة الرحمن في بعض مناقب الشیخ السید أحمد بن السید زیني دحلان، ص22 تا 24- مرعشلی، یوسف، نثر الجواهر و الدرر في علماء القرن الرابع عشر، ص  119.

[5]- حضراوی، احمد، نزهة الفکر، ص186.

[6]- کتانی، محمد عبدالحی، فهرس الفهارس و الأثبات، ج1، ص390؛ دمیاطی، ابوبکر شطا، نفحة الرحمن في بعض مناقب الشیخ السید أحمد بن السید زیني دحلان، ص 24- مرعشلی، یوسف، نثر الجواهر و الدرر في علماء القرن الرابع عشر، ص  119.

[7]- نویسنده کتاب «نفحة الرحمن في بعض مناقب الشیخ السید أحمد بن السید زیني دحلان».

[8]- کتانی، محمد عبدالحی، فهرس الفهارس و الأثبات، ج1، ص391؛ مرعشلی، یوسف، نثر الجواهر و الدرر في علماء القرن الرابع عشر، ص 119- سنوسی، رضا، دور علماء مکة المکرمة في خدمة السنة و السیرة النبویة، مدینه: مجمع الملك فهد، بی‌تا. ص 35 و 37 و 39 و  42.

 [9]. دمیاطی، ابوبکر شطا، نفحة الرحمن في بعض مناقب الشیخ السید أحمد بن السید زیني دحلان، ص26- کتانی، محمد عبدالحی، فهرس الفهارس و الأثبات، ج1، ص391- مرعشلی، یوسف، نثر الجواهر و الدرر في علماء القرن الرابع عشر، ص 118.

[10]- خير الدين زركلي، الأعلام، دار العلم للملايين، ج 1، ص 130.

[11]- کتانی، محمد عبدالحی، فهرس الفهارس و الأثبات، ج 1، ص 390.

[12]- احمد زيني دحلان، أسني المطالب في نجاة أبي طالب، محقق: حسن بن علی السقاف، عمان و اردن: دار الامام النووی، چاپ دوم، 1428 ق. ص 149- بابانی بغدادی، إسماعيل بن محمد (المتوفى: 1399هـ)، هدية العارفين أسماء المؤلفين وآثار المصنفين، الناشر: طبع بعناية وكالة المعارف الجليلة في مطبعتها البهية استانبول 1951، أعادت طبعه بالأوفست: دار إحياء التراث العربي بيروت – لبنان، ج 1، ص 191.

[13]- محمد عبد الحي اللكنوي، الرفع والتكميل في الجرح والتعديل، محقق: عبد الفتاح أبو غدة، ناشر: مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، چاپ سوم، 1407ق. ص 29.

[14]- عبد الرزاق بن حسن بن إبراهيم البيطار الميداني الدمشقي (المتوفى: 1335هـ)، حلية البشر في تاريخ القرن الثالث عشر، حققه ونسقه وعلق عليه حفيده: محمد بهجة البيطار - من أعضاء مجمع اللغة العربية، بیروت: دار صادر، چاپ دوم، 1413 هـ - 1993 م. ص 181 تا 183.

[15]- محمد بشير السَّهسواني الهندي، صيانة الإنسان عن وسوسة الشيخ دحلان، بی جا، چاپ چهارم، 1410 ق. تویجری، حمود بن عبد الله (المتوفى: 1413هـ)، غربة الإسلام، حقق نصه وعلق عليه: عبد الكريم بن حمود التويجري، ریاض: دار الصميعي للنشر والتوزيع، چاپ اول، 1431 هـ - 2010 م. ج 2، ص 503- الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة، مجلة الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة، ناشر : موقع الجامعة على الإنترنت. ج 9 ص 472.  http://www.iu.edu.sa/Magazine- عبدالله بن جبرين، السراج الوهاج للمعتمر والحاج، بي جا، بي چا، بي تا. ص 63.

[16]- زيني دحلان، أحمد بن السيّد، الدرر السنية في الرد علي الوهابية، دار غار حراء، الدمشق، الطبعة الأولي، 1424 هـ. ق. ص 8 و 9 و 13- احمد بن زيني دحلان، فتنة الوهابيّة، ص 4.

[17]- زيني دحلان، أحمد بن السيّد، الدرر السنية في الرد علي الوهابية، ص 20 و 37 و 38 و 45- احمد بن زيني دحلان، فتنة الوهابيّة، ص 8 تا 10.

[18]- زيني دحلان، أحمد بن السيّد، الدرر السنية في الرد علي الوهابية، ص 80 و 81- احمد بن زيني دحلان، فتنة الوهابيّة، ص 19 و 20.

[19]- زيني دحلان، أحمد بن السيّد، الدرر السنية في الرد علي الوهابية، ص 39.

[20]- احمد بن زيني دحلان، فتنة الوهابيّة، ص 7 و 19.

[21]- احمد بن زيني دحلان، فتنة الوهابيّة، ص 13.

[22]- زینی دحلان، احمد، خلاصة الکلام في بیان أمراء البلد الحرام، بی‌جا: چاپخانۀ خیریه، چاپ اول، 1305ق. ص 16.

[23]- زینی دحلان، احمد، خلاصة الکلام في بیان أمراء البلد الحرام، ص 312.

[24]- همان، ص 328.

[25]- حضراوی، احمد، نزهة الفکر؛ ص 187.

[26]- همان، ص 187 و 188.

[27]. زینی دحلان، احمد، فتنة الوهابیة، ص3 تا 5.

[28]. زینی دحلان، احمد، خلاصة الکلام في بیان أمراء البلد الحرام، ص 299.

[29]- همان، ص 303.

[30]- همان، ص 330 تا 334.

[31]- احمد زيني دحلان، أسني المطالب في نجاة أبي طالب، محقق: حسن بن علی السقاف، ناشر: دار الامام النووی، مکان نشر: عمان و اردن، چاپ دوم، سال نشر: 1428 ق. ص 31.

[32]- دمیاطی، ابوبکر شطا، نفحة الرحمن في بعض مناقب الشیخ السید أحمد بن السید زیني دحلان، ص 16.

[33]- همان، ص 19.

[34]- همان، ص 21.

[35]. مرعشلی، یوسف، نثر الجواهر و الدرر في علماء القرن الرابع عشر، ص119 و 120- زرکلی، خیرالدین، الأعلام، ج 1، ص130-دمیاطی، ابوبکر شطا، نفحة الرحمن في بعض مناقب الشیخ السید أحمد بن السید زیني دحلان، ص16 تا 21.

[36]- وہ قبرستان جس میں  اجداد پیامبر (ص) و حضرت ابو طالب (ع) و حضرت خدیجه (س) دفن ہوئے ہیں لہذا دوسرے نام جیسے قبرستان قریش یا ابو طالب (ع) وبنی هاشم  بھی ہیں.

[37]- دمشقی، عبد الرزاق بن حسن، حلية البشر في تاريخ القرن الثالث عشر، ص 183- کتانی، محمد عبدالحی، فهرس الفهارس و الأثبات، ج 1، ص390.

[38]- دمیاطی، ابوبکر شطا، نفحة الرحمن في بعض مناقب الشیخ السید أحمد بن السید زیني دحلان، ص 51.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ