ملک :  --

شيخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری 1951 عیسوی کو پیدا ہوئے، وہ پاکستان میں مکتب بریلوی کے صوفی دانشوروں میں سے ہیں اور انکا شمار عالم اسلام میں ٹروریزم، وہابیت اور سلفیت کے خلاف لڑنے والے افراد میں ہوتا ہے۔

 

 زندگي نامہ اور تعلیمی قابلیت

انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے پیدائش کے مقام صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ میں حاصل کی 1969 عیسوی میں گورنمنٹ اسکول سے اعلی نمبروں کے ساتھ میٹرک کی سند حاصل کرنے بعد 1973 عیسوی میں پنجاب یونیورسٹی سے قانون کے مضمون میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور 1986 عیسوی میں اسلامی مطالعات (Islamic studies) کے مضمون میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی[1] وہ 1974 عیسوی کو میانوالی شہر کی ایک گورنمنٹ کالج میں پڑھانے لگے لیکن کچھ عرصے بعد استعفا دیا.[2] اس کے بعد وہاں سے لاہور آئے اور پنجاب یونورسٹی میں کچھ عرصے تک قانون کے استاد تھے۔ انہوں نے اس یونیورسٹی میں اچھا مقام بنا لیا اور بالآخر لاہور شہر میں "منہاج القرآن" اکیڈمی کی بنیاد رکھی۔ طاہر القادری نے چند سال تک "اتفاق" مسجد میں نماز جماعت اور نماز جمعہ کی امامت کا عہدہ سنبھالا جس کے منتظمین اہم شخصیات اور پاکستان کی سیاست میں اہم مقام رکھتے تھے اور یہ بھی ڈاکٹر طاہر القادری کی کامیابی کی اہم وجہ تھی جس کی وجہ سے انکو پاکستان میں بلکہ عالمی شہرت ملی .[3] وہ اس وقت کینیڈا میں مقیم ہیں۔

ڈاکٹر قادری بتاتے ہیں کہ وہ بچپن سے ہی تصوف کی طرف راغب تھے اور کہتے ہیں کہ تصوف کو سیکھنے کے لیے موسم گرما کے گرم دنوں میں( گرمیوں کی چھٹیوں میں) ایک گاوں میں عبدالرشید نامی استاد کے پاس جاتے تھے جہاں پر بجلی بھی نہیں تھی.[4] اس کے بعد رسمی طور پر علاؤالدین گیلانی (عبدالقادر گیلانی کی نسل سے ہے) کے ہاتھ پر بیعت کرکے رسمی طور پر تصوف کے سلسلے میں داخل ہو گئے۔ لیکن سیاسی اور اجتماعی سوچ کے لحاظ سے اپنے استاد ڈاکٹر برہان احمد فاروقی سے متاثر تھے اور اپنی انقلابی تفکر کو انکی مرہون منت سمجھتے ہیں.[5]

اساتيد اور مشايخ

 ڈاکٹر فر يد الدين ( ڈاکٹر قادری کے والد)

ڈاکٹر طاہرالقادری کے سب سے پہلے استاد انکے باپ فریدالدین تھے جس نے بعض فارسی اور عربی کتابوں کو بچپن میں ہی انکو سکھادیں.[6]

مولانا ضياء الدين مدنی

بریلوی، مولانا ضياء الدين مدنی کو احمد رضا خان کا اعلی ترین خلیفہ سمجھتے ہیں، ضیاءالدیں، احمد رضا بریلوی کا شاگرد ہے اور ان سے نقل حدیث اور فتوی کی اجازت حاصل کی تھی۔ وہ بغداد چلے گئے پھر مدینہ میں سکونت اختیار کی اور العلوم الشرعيه کے نام سے ایک مدرسہ بنایا. 1993 عیسوی کو مولانا ضیاء الدین  کے پاس ڈاکٹر طاہرالقادری کی بسم اللہ خوانی کی رسم اسی مدرسہ میں منعقد ہوئی.[7] جس میں رسم ادا کرنے کا پہلو زیادہ نمایا تھا۔

طاهر علاؤ الد ين القادری گيلانی

طاهر علاؤ الد ين، عبد القادر گیلانی کے خاندان سے ہے جو 1934 عیسوی کو بغداد میں پیدا ہوئے اور 1956 عیسوی کو تبلیغ کے لیے پاکستان چلے گئے اور کوئٹہ شہر کو اپنے تبلیغی مرکز کے طور پر انتخاب کیا۔ وہ پاکستان بھر بلکہ حتی دیگر ممالک میں بھی اپنے مرید اور چاہنے والے بنانے میں کامیاب ہوا، قادری مسلک کے لوگ انکو قادری سلسلہ کا مجدد کہتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری انکے مریدوں میں سے ایک ہیں اور اپنے استاد اور مرشد کو بہت چاہتے ہیں، 1966 عیسوی کو طاہر القادری، علاؤ الدین سے ملاقات اور بیعت کرنے کے لیے کوئٹہ چلا گیا اور انکے ہاتھ بیعت کی اور اس کے بعد اپنا لقب قادری رکھا۔ طاہر القادری کے مریدوں کی نظر میں علامہ طاہر القادری اور انکی تحریک( جو اس وقت 86 ممالک میں فعال ہے) کی کامیابی علاؤ الدین کے دعاؤں کی مرہوں منت ہے. [8]

رشيد الدين رضوی

رشيد الدين، وہ شخص ہے جس سے ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے والد کے بعد زیادہ تر دینی علوم کی تعلیم حاصل کی، بلاغت، تفسیر، فقہ اور حدیث کو ان سے سیکھا ہے.[9]

شيخ الحديث مولانا غلام رسول رضوی

 مولانا غلام رسول، پاکستان کے مشہور علماء میں سے ایک ہیں اور فیصل آباد شہر میں حدیث کا درس دیتے تھے اور طاہر القادری نے چند مہینے ان سے استفادہ کیا ہے.[10]

علامہ برہان احمد فاروقی

طاہر القادری کے ایک استاد برہان احمد فاروقی تھے جو باعث بنے کہ قرآن کو انقلابی نگاہ سے مطالعہ کرے [11]۔ انہوں نے اپنی قرآنی مطالعات کے نتیجہ کو "منتخبات القرآن" کے عنوان سے جمع کیا اور اپنے استاد احمد فاروقی کے پاس بھیج دیا، انہوں نے اسکا مطالعہ کرنے کے بعد اسکی کتاب کا نام " البرهان علي سبيل الرشاد والايقان" رکھ دیا .[12] جو "قرآن کا انقلابی فلسفہ" کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔

پروفيسر ڈاکٹر بشير احمد صديقی

پروفيسر ڈاکٹر بشير احمد صديقی یونیورسٹی کے استاد تھے جو ادیان اورمذاہب کے مضمون میں ماہر اور صاحب نظر تھے اور انکی پی ایچ ڈی تھیسس کی سپروائزری کی ذمہ داری سنبھالی تھی.[13]

السيد محمد بن علوی المالکی

 وہ ہاشمی سادات میں سے ہیں اور مکہ میں حدیث کا درس دیتے تھے اور فقہ مالکی کی تدریس کرتے تھے۔ وہ طریقت کے لحاظ سے قادری سلسلے سے متصل ہیں، 1991 عیسوی کو طاہر القادری مکہ چلے گئے اور علوی مالکی نے " العلوم الباهر في اجازة الشيخ محمد الطاهر" کے عنوان سے حدیث کی اجازت کا تحفہ انہیں دے دیا.[14]

ڈاکٹر طاہر القادری کی علمی اور ثقافتی فعالیت

طاہر القادری نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی علمی فعالیت کا آغاز "قرآن میں انقلاب آفرین آیات" کے عنوان سے کتاب لکھ کر کیا اور یہ پہلی کتاب تھی جو "قرآن کا انقلابی فلسفہ" کے عنوان سے شائع ہوئی۔ انہوں نے سب سے پہلے 1976 عیسوی کو قرآن کے دروس کا سلسلہ جھنگ شہر سے شروع کیا اور جوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوگیا اسکے بعد لاہور چلا گیا اور اپنی فعالیت کو وسعت دی۔.

منهاج القرآن کی تاسیس

     ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلامی ثقافت کی ترویج اور اشاعت کے لیے 1980 عیسوی کو "تحریک منہاج القرآن" کے نام سے لاہور شہر میں ایک ادارے کی بنیاد رکھی جس کے شعبے پاکستان کے علاوہ دنیا کے 80 ممالک میں فعال ہیں۔ انہوں نے اسی ادارے کی طرف سے اپنے قرآنی دروس کا سلسلہ پورے پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی شروع کیا۔ انہوں نے 1986 عیسوی کو زیادہ افرادی قوت حاصل کرنے کے لیے اس ادارے کو تنظیم کی شکل دے دی اور مختلف افراد کو مختلف عہدے سونپ دیے۔ اس وقت اس ادارے کے تحت 572 علمی اور ثقافتی مراکز تاسیس ہوئے ہیں اور 2014 عیسوی کو منتشر شدہ اعداد و شمار کے مطابق اس ادارے کے تحت لاہور میں چلنے والے مدارس اور یونیورسٹیاں مندرجہ ذیل ہیں: منہاج یونیورسٹی لاہور، شریعت کالج، منہاج کالج برائے خواتین، جامع المنہاج، تحفیظ القرآن اکیڈمی، فرید ملت تحقیقاتی مرکز وغیرہ جو علمی کام انجام دیتے ہیں لیکن وسیع پیمانے پر علمی اور ثقافتی فعالیت کرنے کے لیے دیگر مختلف شعبے بھی پائے جاتے ہیں جن میں اہم ترین منہاج العلماء کونسل، منہاج فاؤنڈیشن، شعبہ دعوت، شعبہ تربیت، شعبہ نشر و اشاعت (منہاج پبلیکیشن) منہاج بک اسٹال، شعبہ انٹرنٹ، منہاج ٹیلی ویژن چینل(منہاج ٹی وی) اور تین مجلے ماہنامہ منہاج القرآن، ماہنامہ دختران اسلام، ماہنامہ علماء کے نام سے شائع ہوتے ہیں .[15]

ڈاکٹر طاہر القادری دوسروں کی نظر میں

     ڈاکٹر طاہر القادری کے بہت سارے حامی اور مخالفین ہیں، ایک متنازع شخصیت شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے ادیان اور اسلامی مذاہب کے درمیان اتحاد اور مظلوموں کی حمایت کا نعرہ لگا کر بہت سارے مسلمانوں اور غیر مسلموں کی توجہ حاصل کی ہے اور عیسائیوں کی رسومات اور عزاداری امام حسین(علیہ السلام) کی مجالس میں شرکت کرکے بہت سارے عیسائیوں اور شیعوں کو اپنا مرید بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے پیغمر اور صالح اولیاء کرام کی شفاعت کا ںظریہ قبول کرنے اور اسی طرح توسل اور پیغمبر اور اہل بیت اطہار(علیہم السلام) اور اولیاء کی زیارت کے جواز کا قائل ہونے کی وجہ سے شیعوں اور بریلویوں کے نزدیک خاص مقام کے حامل ہیں۔

مخالفین:

اس سب کے باوجود اسلامی مذاہب کے علماء اور پاکستان کے سیاسی لوگ انکو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ طاہر القادری کے مخالفین شیعہ، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث اور سلفی تمام فرقوں میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن انکے اکثر مخالفین دیوبندی اور سلفی ہیں اور سائبر اسپیس اس بات پر گواہ ہے کہ اس وقت سینکڑوں مقالات اور بروشر سائبر اسپیس میں طاہر القادری کے خلاف لکھے گئے ہیں اور آئے دن مزید اضافہ ہو رہے ہیں۔ طاہر القادری کے ایک مخالف محمد نواز کھرل نے متنازع شخصیت کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے جو ان مقالات کا ایک مجموعہ ہے جو ابھی تک طاہر القادری کے خلاف لکھے گئے ہیں۔ اہل حدیث سے وابستہ محدث لائبریری جو سائبر اسپیس میں زیادہ فعال ہے اس طرح کے مقالات اور کتابوں کو شائع کرنے میں مصروف ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف اردو زبان میں لکھے ہوئے مقالات اور کتابیں جو انٹرنٹ میں دستیاب ہیں مندرجہ ذیل ہیں:

"قادری فتنہ" ، " طاہر القادری کے متنازع افکار" ، ڈاکٹر طاہر القادری کی علمی خیانتیں" ،  طاہر القادری میدان جنگ میں" ، " ڈاکٹر طاہر القادری خادم دین متین یا افاک اثیم" وغیرہ[16]

ان نوشتہ جات میں طاہر القادری پر متعدد الزامات لگائے گئے ہیں اور انکو فتنہ پرور، گمراہ، بے دین، مفاد پرست، شیعہ تفضیلی اور ایک پاگل شخص کہا جاتا ہے۔

طرفدار:

جیسا کہ بہت ساری قومی اور بین الاقوامی شخصیات نے انکی فعالیت اور اقدامات کو سراہا ہے من جملہ:  

محمد بن علوی مالکی

انہوں نے 20 نومبر 1995 کو منعقد ہونے والی عالمی علماء اور مشایخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

 

منہاج القرآن کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا لیکن آج ان تمام امور کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد لگتا ہے کہ واقعی فعالیت اس سے کہیں زیادہ ہے جو سنا تھا۔ سیخ ڈاکٹر طاہر القادری خالصانہ نیت اور پاکیزہ قلب کے ساتھ میدان میں آئے ہیں اور بلند اہداف رکھتے ہیں لہذا انکو کامیابیاں نصیب ہوتی ہیں۔ ( پوری تاریخ میں) جب باطل طاقتوں کی جانب سے کوئی فتنہ اور فساد کھڑا ہوتا تھا تو اسکو ختم کرنے کے لیے بھی ایک شخصیت سامنے آتی تھی۔ شیخ طاہر القادری ان افراد میں سے ایک ہیں.[17]

آیت الله محمد علی تسخيری(مجمع تقریب مذاہب اسلامی کے سکریٹری)

9 ربیع الثانی 1429 ہجری کو منہاج القرآن کے بین الاقوامی مرکز کا دورہ کیا اور ڈاکٹر قادری کے اقدامات کی قدر دانی اور تشکر کیا جو انہوں نے امت مسلمہ کی وحدت کے لیے اٹھائے ہیں.[18]

طاهر علاء الدین الگیلانی البغدادی

یہ پاکستان میں قادری صوفی سلسلہ کے سربراہ ہیں، انہوں نے 9 جنوری 1987 کو ایک خط لکھا جس میں منہاج القرآن اور ڈاکٹر طاہر القادری کے حوالے سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ان کی شخصیت کو خراب کرنے کے درپے ہے وہ اپنے آپ کو قادری سلسلہ سے جدا کرے اور جان لے کہ اس نے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی ہے.[19]

پروفيسر علامه مفتی منیب الرحمان (رؤیت ہلال کمیٹی کے سربراہ)

انہوں نے 20 نومبر 1995 کو منعقد ہونے والی عالمی علماء و مشائخ کانفرنس میں تحریک منہاج القرآن میں ڈاکٹر طاہر القادری کی پیروی کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریک کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ قرآن سے تمسک کرنے کے علاوہ عوام میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ) سے عشق و محبت کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے اور اس تحریک کا بنیادی تفکر یہی ہے. [2

آثار اور نوشتہ جات

ڈاکٹر طاهر القادری نے ابھی تک تقریبا 450 چھوٹی بڑی کتابیں مختلف موضوعات میں لکھی ہیں جن میں سے بعض کا اردو کے علاوہ عربی اور انگلش میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی اکثر کتابیں قرآن اور حدیث پر مشتمل ہیں اور اسکی روش مد ںظر موضوع میں آیات اور روایات کو اکھٹی کرنا ہے۔

قرآنی کتابیں:

انہوں نے اردو اور انگلش میں قرآن کا ترجمہ کیا اور «عرفان القرآن» کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ اسی طرح ((تفسير منهاج القرآن)) کے نام سے ایک تفسیر لکھنے میں بھی مصروف ہے، ابھی تک فقط سورہ حمد اور بقرہ کی تفسیر شائع ہو گئی ہے۔ اسکی تفسیر زیادہ تر جدید علوم کے مطابق ہے۔ وہ معتقد ہیں کہ تمام علوم اور فنون چاہے مادی ہوں یا غیر مادی قرآن میں موجود ہیں اور تمام علوم کی بنیاد قرآن ہے۔ انہوں نے اپنا دعوی ثابت کرنے کے لیے متعدد آیات کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے من جملہ یہ آیہ «وانزلنا عليک الکتاب تبيانا لکل شئي۔»[21] وہ کہتا ہے کہ لفظ «شئي» کا اطلاق دنیا کی تمام موجودات اور تمام مخلوقات پر ہوتا ہے بنابریں ہر چیز کی تفصیل قرآن میں موجود ہے[22]

پہلے اشارہ ہوا کہ انہوں نے " انقلاب کا قرآنی فلسفہ" کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جس میں قرآن کے انقلابی فلسفہ کے بنیادی نظریات بیان کیے ہیں اور قرآنی آیات کی روشنی میں بعثت پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ) کے اہداف کو مد ںظر رکھتے ہوئے اس واقعیت کی وضاحت کرتے ہیں کہ ملت اسلامی کے بکھرنے کے زمانے سے استکباری اور استعماری طاقتوں نے ذیل کی سات قسم کی تبدیلیاں اسلامی مفاہیم میں ایجاد کی ہیں:

سیاسی تفکر میں تبدیلی

اقتصادی تفکر میں تبدیلی

قانون اور فقہی تفکر میں تبدیلی

اجتماعی آداب میں تبدیلی

ثقافتی تفکر میں تبدیلی

دینی اور مذہبی تفکر میں تبدیلی

تعلیمی اور تربیتی تفکر میں تبدیلی

لہذا کے انقلابی لائحہ عمل کے پیش نظر وہ مذکورہ بالا عناصر کی بنیاد پر امت مسلمہ کے احیاء اور نو سازی کے در پے ہیں۔

اسکے علاوہ انہوں نے آٹھ جلدوں پر مشتمل ایک قرآنی دائرۃ المعارف شائع کی ہے جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

پہلی جلد: اللہ تعالی کے وجود پر ایمان لانے کے مباحث اور توحید اور اس سے مربوط مسائل کے بارے میں ہے

دوسری جلد: شرک کے بطلان اور رسالت پر ایمان، کتابوں پر ایمان، ملائکہ پر ایمان، قدر پر ایمان اور آخرت پر ایمان رکھنے کے بارے میں ہے

تیسری جلد: احوال قیامت، عبادات، معاملات، حقوق و فرائض اور علوم جدید کے متعلق ہے۔

 چوتھی جلد: میں امت مسلمہ کے اجتماعی مباحث جیسے امن و امان اور عدم تشدد اور دیگر مذاہب کے ساتھ رواداری اور انبیاء کے قصے بیان ہوئے ہیں

پانچویں جلد: اسلام کے حکومتی اور سیاسی نظام اور عادلانہ اقتصادی نظام اور پیغمبر کا جہاد اور غزوں کا ذکر ہے۔

چھٹی سے آٹھویں جلد تک: قرآن کے اہم الفاظ کی تفسیر اور توضیح بیان کی گئی ہے، مثال کے طور پر لفظ «انزلنا» کے ذیل میں نزول قرآن کا مفہوم اور نزول کی کیفیت کا ذکر ہوا ہے. [23]

حديثی کتابیں

ڈاکٹر طاهر القادری نے اس موضوع پر تقریبا 80 کتابیں لکھی ہیں جن میں سے سب سے معروف «جَامِعُ السُّنَه» ہے جو 20 جلدوں میں ہے اور اس میں 30 ہزار احادیث موجود ہیں۔ اس کے علاوہ حدیث کے موضوع میں کتاب «اَلْمِنْهَاجُ السَّوِی وهِدَايَةُ الْأُمَّة»  انکی معروف ترین کتاب ہے۔  

رسول الله (صلي الله عليه وآله وسلم) کی سیرت

پیغمبر اسلام کی سیرت کے متعلق یہ کتاب بارہ جلدوں پر مشتمل ہے۔

تصوف

طاہر القادری نے تصوف کے بارے میں چالیس کتابیں تالیف کی ہیں، اسی وجہ سے اسکے مرید اور پیروکار انکو ان افراد میں سے ایک سمجھتے ہیں جنہوں نے تصوف کو زندہ کیا ہے.[24]

صحابہ، تابعين اور نبي (صلی الله علیه وآله) کی بیویاں

طاهر القادری، نے صحابہ کے موضوع پر متعدد کتابیں لکھیں ہیں، خاص طور پر چار خلفاء کے بارے میں مستقل اور علیحدہ کتابیں لکھی ہیں اور خلفاء راشدین کی شخصیت کے بارے میں مختلف پہلوں کو ذکر کیا ہے، اسی طرح رسول اللہ کی بیویوں کے بارے میں کئی کتابیں لکھی ہیں، ان میں سے سب سے اہم ترین کتاب حضرت خدیجہ ( سلام اللہ علیہا) اور عائشہ کی سیرت ہے

اہل بيت (عليہم السلام)

طاہر القادری اگرچہ سنی مذہب ہیں لیکن اہلبیت(علیہم السلام) سے خاص محبت کا اظہار کرتے ہیں اور محرم الحرام کی مجالس میں امام حسین(علیہ السلام) کے مصائب پڑھتے ہیں۔ انہوں نے اہل بيت (عليہم السلام) کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

1- الکفايه في حديث الولايه: 250 صفحوں پر مشتمل یہ کتاب ابن تیمیہ کے جواب میں امام علی کی ولایت کو ثابت کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔ لکھنے والے نے اس کتاب میں 153 روایی طرق پر بحث کی ہے اور اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ان طرق میں سے اکثر یا صحیح ہیں یا حسن ہیں۔ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ 98 صحابہ نے حدیث غدیر کو نقل کیا ہے۔

2-کنز المطالب في مناقب علي ابن ابي طالب:161 صفحوں کی یہ کتاب 20 ابواب پر مشتمل ہے۔

3- السيف الجلي علي منکر ولاية علي: اس کتاب کے 108 صفحہ ہیں اور 51 احادیث پر مشتمل ہے، وہ حدیث غدیر اور پیغمر(صلی اللہ علیہ و آلہ) کا غدیر میں علی(علیہ السلام) کی ولایت کا اعلان کرنے کی بات کو مانتے ہیں اور مسلمات میں سے سمجھتے ہیں اور اسی لیے انہوں نے اس حدیث کے بہت سے راویوں اور نقل کرنے کرنے والوں پر تحقیق کی ہے لیکن اس سب کے باوجود وہ امام علی(علیہ السلام) اور دیگر ائمہ(علیہم السلام) کے لیے فقط باطنی ولایت کے قائل ہیں۔ انہوں اسی کتاب کے مقدمے میں ولایت اور نیابت کو تین قسموں(ولایت سیاسی، ولایت باطنی، ولایت دینی) میں تقسیم  کر کے ولایت باطنی کو اہلبیت(علیہم السلام) سے مخصوص قرار دیا ہے۔

4- الدرة البيضاء في مناقب فاطمه الزهراء: یہ کتاب 40 چھوٹی فصلوں پر مشتمل ہے اور ہر فصل میں چند احادیث ہیں، مجموعی طور پر 122 صفحوں کی ہے۔

5- القول المعتبر في امام المنتظر: اس کتاب میں امام زمان(علیہ السلام) کے بارے میں اہل سنت کی روایات جمع کی گئی ہیں، یہ کتاب 84 صفحوں کی ہے۔

6- الاربعين، مرج البحرين في مناقب الحسنين: یہ کتاب امام حسن اور حسین( علیہما السلام کے فضائل پر مشتمل ہے جو 127 صفحوں کی ہے.[25]

7- غاية الاجابه في مناقب القرابه: یہ کتاب اہلبیت(علیہم السلام) کے فضائل اور مناقب کے بارے میں ہے جو 327 صفحات پر مشتمل ہے۔

8- فلسفه شہادت امام حسين (عليہ السلام): یہ کتاب 284 صفحوں اور آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔

9- ذبح عظيم، ذبح اسماعيل سے امام حسين (عليه السلام) تک: یہ کتاب 143 صفحوں میں لکھی گئی ہے، اس میں امام حسین( علیہ السلام) کی شہادت کو ذبح اسماعیل(علیہ السلام) کے ساتھ مقائسہ کیا گیا ہے۔

10- شہادت امام حسين (علیہ السلام)کا فلسفہ اور تعليمات: یہ کتاب بعینہ وہی فلسفہ شہادت والی کتاب ہے فقط نام کا فرق ہے۔

11- مناجات امام زين العابدين (علیہ السلام): اس کتاب میں امام زین العابدین( علیہ السلام) کے دعاوں کو جمع کیا ہےاور آخر میں امیر امومنین(علیہ السلام) کی چند مناجات بھی نقل کیا ہے۔

12- حسن الماب في ذکر ابي تراب : یہ کتاب 67 صفحات کی ہے اور امیرالمومنین(علیہ السلام) کے بارے میں چالیس احادیث پر مشتمل ہے۔

13- حيات اور نزول مسيح (عليه السلام) اور مسئلہ ولادت امام مهدي (عليہ السلام): یہ کتاب 144 صفحات کی ہے اور امام زمان(علیہ السلام) کی ولادت اور ظہور کے بارے میں ہے جس میں امام زمان(علیہ السلام) کا جماعت کی امامت کرنے اور حضرت عیسی(علیہ السلام) کا انکے پیچھے نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔

14-  فرحة المومنين: اس کتاب میں (فاطمةالسيدةالنساء العالمين) والی حدیث کی 86 سندیں ذکر کی ہیں۔

تکفیری سلفیوں کی تنقید میں انکے آثار:

انہوں نے متعدد تقاریر میں توحید اور شرک کے حوالے سے بنیادی نظریات بیان کیے ہیں و نیز توسل، تبرک، استغاثہ اور اس طرح کے مسائل بیان کیے ہیں اور مسلح(جہادی) اور غیر مسلح(وہابی) سلفیوں کے تفکر کی تنقید میں انکے متعدد مکتوب آثار شائع ہوچکے ہیں۔

 مسلح سلفیوں کی تنقید:

الارهاب و فتنة‌الخوارج

وہ طالبان اور دیگر دہشت گرد مسلح گروہوں کو فتنہ خوارج قرار دیتے ہیں اور انکے خلاف ایک تفصیلی فتوی صادر کیا ہے جو اردو زبان میں (دہشت گردی اور فتنہ خوارج) کے عنوان سے  چھ سو صفحات پر مشتمل کتاب[26] اور عربی زبان میں  «الارهاب و فتنة‌الخوارج» کے عنوان سے شائع ہوگئی ہے .[27] اس فتوی کی تفصیلی رپورٹ محمد شافعی کے توسط سے روزنامہ الشرق الاوسط میں منتشر ہوگئی ہے.[28] اسی طرح انٹرویوز اور کانفرنسوں کے دوران اس مکتب کے تفکرات پر تنقید کی ہے.[29]

 غير مسلح(وهابي) سلفیوں کی تنقید:

کتاب التوحيد:

ایسا لگتا ہے کہ اس کتاب کا عنوان محمد بن عبدالوہاب کی کتاب التوحید کے مقابلے میں انتخاب کیا گیا ہے، لہذا ڈاکٹر قادری اس کتاب میں توحید کی تینوں اقسام ذکر کرنے کے ساتھ عبادت اور تعظیم(احترام کرنا اور عزت دینا) کے فرق پر خاص طور پر زور دیتے ہیں اور تبرک، توسل، استغاثہ جیسے مفاہیم کا توحید عبادی کے مفہوم کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا ہے.[30]

عقيده توحيد اور تصور غير خدا

انہوں نے اس کتاب میں «ما اهل لغير الله» «من دون الله» اور «لا تدع مع الله» بحث کی ہے اور معتقد ہے کہ «من دون الله» کی عبارت سے قرآن کی مراد مشرکوں کے تمام معبود ہیں جو ہرگز اولیاء الہی پر شامل نہیں ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ من دون اللہ کوئی اصطلاح نہیں ہے بلکہ اس میں پستی اور حقارت کا معنی پوشیدہ ہے جو ان معبودوں کی حقارت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس قرآنی لفظ کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ سورج، چاند وغیرہ جیسے طبیعی معبودوں کو بھی شامل ہوتا ہے جن کی پرستش ہوتی تھی. [31]

بدعت اور اسکا صحیح تصور

انہوں نے اس کتاب میں ثابت کیا ہے کہ کسی عمل کو دین میں اضافہ کرنا بدعت نہیں کہلاتا ہے مگر یہ کہ اس عمل کی حرمت کتاب و سنت یا آثار صحابہ سے ثابت ہو۔ بنابریں اس کی نظر کے مطابق اگر اللہ کی کتاب یا سنت پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) میں اگر ممانعت موجود نہ ہو تو وہ فعل مباح ہے یا بدعت حسنہ شمار ہوتا ہے۔

انہوں نے اس کے علاوہ بھی بدعت کے بارے میں دو کتابیں لکھی ہیں ایک "احادیث اور آثار میں لفظ بدعت کے اطلاقات" اور دوسری " بدعت، اہلسنت بزرگوں اور محدثوں کی نظر میں"۔

تبرک کے بارے میں انکی کتابیں:

تبرک کے بارے میں انہوں نے تین کتابیں لکھی ہیں۔ ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کی ذات سے تبرک کرنے کے بارے میں چالیس احادیث جمع کی گئی ہیں جس کا عنوان«الشرف العلي في التبرک بالنبي» دوسری «الصفا في التوسل و التبرک بالمصطفي» اور تیسری «تبرک کی شرعی حیثیت» ہے۔

تبرک کے مباحث میں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ انبیاء، اولیاء اور صالح افراد کے کی زیارتگاہوں اور مقبروں سے تبرک طلب کر سکتے ہیں، مقبروں اور زیارت گاہوں اور انکے دروازوں کو چومنا بھی خاص مطلوبیت کا حامل ہے اور ان مقامات میں زیارت کے آداب کی رعایت کرنی چاہیے۔ اسکے علاوہ انہوں نے زیارت کی فضیلت کے بارے میں چالیس احادیث جمع کی ہیں۔

توسل کے بارے میں انکی کتابیں:

توسل کے بارے میں بھی انہوں نے تین کتابیں لکھی ہیں۔ ایک تو مذکورہ بالا کتاب ہے جو تبرک کے ساتھ مشترک ہے، دوسری: چالیس احادیث «الفوز الجلي في التوسل بالنبي ص» کے عنوان سے اکھٹی کی ہیں اور تیسری «التوسل عند الائمه و المحدثين» ہے جس میں توسل کے بارے میں اہل سنت بزرگان کی آراء جمع کی ہیں۔ توسل کے بارے میں انکا کلی نظریہ یہ ہے کہ پیغمر کی امت شرک اکبر سے مشرک نہیں ہو سکتی ہے .[32]

"احسن الصناعة فی اثبات الشفاعة"

لکھنے والے نے اس کتاب میں شفاعت کے بارے میں احادیث جمع کرنے کی زحمت اٹھائی ہے اور 23 ابواب میں شفاعت کے اسباب اور انکے مصادیق اور انکے موانع پر بحث کی ہے.[33]

"وسائط شرعيه:"

وہ اس کتاب میں پیغمر اسلام کو خلق اور خدا کے درمیان عظیم واسطہ کے طور پر معرفی کرتے ہیں اور واسطوں کی 23 اقسام بیان کرتا ہے اور توحید کے ساتھ انکی نسبت کو بیان کرتا ہے، جیسے ايمان، حرمت،اطاعت، حکم، تعظيم، استعانت، تبرک، توسل، ولايت وغیرہ کا واسطہ وہ معتقد ہے کہ صرف تعبد کا واسطہ ہے جو خدا سے مختص ہے اسکے علاوہ کوئی واسطہ شرعا ممانعت نہیں رکھتا ہے.[34]

استغاثہ اور اسکی شرعی حیثیت:

وہ « استغاثہ اور اسکی شرعی حیثیت» کے عنوان سے ایک دوسرے کتابچہ میں اس بات کو ثابت کرنے کے درپے تھے کہ اولیاء اور انبیاء سے استغاثہ جس طرح انکی زندگی میں جائز تھا اسی طرح انکی رحلت کے بعد بھی جائز ہے۔ وہ معتقد ہیں کہ یہ استغاثہ حقیقی نہیں ہے بلکہ حقیقت میں یہ خدا سے طلب کرنے کے لیے مخلوقات کو وسیلہ قرار دینا ہے.[35]

ڈاکٹر طاہر القادری کی سیاسی اور اجتماعی فعالیت

ڈاکٹر طاہر القادری غریب اور مظلوم لوگوں کی مدد کرنے کے نعرہ کے ساتھ سیاسی میدان میں آگئے اور ایک دفعہ قومی اسمبلی کے ممبر بھی منتخب ہوگئے ہیں لیکن وقت کی حکومتی کارکردگی پر اعتراض کے طور پر استعفا دے دیا اور کینیڈا چلے گئے اور ابھی تک وہی پر مقیم ہیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنے کے لیے "عوامی تحریک پاکستان" کے نام سے ایک سیاسی پارٹی بھی بنائی جو اس وقت ملکی سطح پر فعال ہے[36] لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس میدان میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی ہے۔

نظریات

قرآنی انقلاب:

انکا اہم ترین نظریہ قرآنی انقلاب کے بارے میں ہے۔ وہ معتقد ہے کہ بشریت زندگی کے تمام شعبوں میں کامیابی تک پہنچنے کے لیے وحی پر مبنی نظام کی محتاج ہے اور اس سے منہ موڑنے کا نتیجہ سوائے ہلاکت اور خسارے کے کچھ نہیں ہے.[37]

خواتین کی آزادی

طاہر القادری معتقد ہیں کہ عورت قومی اسمبلی کی رکن یا حکومت کی سیاسی مشیر ہو سکتی ہے.[38]

ادیان میں وحدت اور اتحاد بين المذاہب

    طاہر القادری عیسائیوں اور دیگر اہل کتاب کو مومنین سمجھتا ہے اور عیسائیوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی مذہبی رسومات کو منہاج القرآن مسجد میں منعقد کریں.[39]

 تشيع تفضيلی کی طرف رجحان

(السيف الجلي علي منکر ولاية علي ) اور (القول المعتبر في الامام المنتظر) کے نام سے اپنی دو کتابوں کے مقدمہ میں پیغمبرصلي الله عليہ وآلہ کے بعد جانشینی اور رہبری کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے:

1- باطنی اور روحانی وراثت

2- سیاسی وراثت اور ظاہری خلافت

3- عام دینی وراثت

 وہ معتقد ہیں:

باطنی اور روحانی وراثت جو وہی امامت اور ولایت ہے ائمہ اہل بیت سے مخصوص ہے اور سیاسی وراثت اور ظاہری خلافت خلافاء راشدین سے مختص ہے اور اسی طرح عام دینی خلافت کے وارث تمام اصحاب اور تابعین ہیں۔ وہ روحانی وارث کو باقی دونوں وراثوں سے افضل سمجھتا ہے اور اسکو ایک الہی امر قرار دیا ہے.[40]

 طاہر القادری امام مہدی(علیہ السلام) کو شیعوں کی طرح بارہواں امام سمجھتا ہے اور انکو علی مرتضی کی طرح ولی اور وصی پیغمبر سمجھتا ہے اور ساتھ ہی معتقد ہے کہ وہ ابھی تک پیدا نہیں ہوئے ہیں، بعد میں پیدا ہونگے.[41]

لہذا اسکے مخالفین کی جانب سے زیادہ تر اسکا تعارف اس طرح کرایا گیا ہے ہے کہ طاہر القادری اعتقادی اعتبار سے تفضیلی شیعہ ہیں اور فقہی لحاظ سے بریلوی حنفی ہیں.[42]

سلفی وہابی نظریات پر تنقید:

غیراللہ سے طلب شفاعت:

 غیراللہ سے شفاعت طلب کرنے کے حوالے سے وہ معتقد ہیں کہ "من دون الله" کی تعبیر ان لوگوں پر اطلاق ہوتی ہے جو خدا کے دشمن ہیں جیسے مشرکوں کے بت، لہذا اللہ کے دوستوں اور اولیاء کے لیے یہ عبارت استعمال کرنا درست نہیں ہے۔  اسی لیے بت، شفیع اور ولی نہیں ہو سکتے ہیں لیکن اللہ کے اولیاء قیامت کے دن مومنوں کے شفیع اور ولی ہونگے.[43]  

اولیاء سے توسل

کسی عمل کا بدعت ہونا جب تک قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو طاہر القادری اس عمل کو بدعت اور شرک نہیں سمجھتے ہیں اور توسل، قبور کی زیارت، انبیاء اور اولیاء کی رحلت کے بعد انکے مراقد سے تبرک طلب کرنے کے قائل ہیں اور ان موضوعات پر مستقل کتابیں لکھی ہیں جن میں سے بعض کی معرفی کرادی گئی.[44]

   

غیراللہ کو پکارنا:

انہوں نے اس مسئلہ پر آيہ «لا تدع مع الله» کے ذیل میں تحقیق کی ہے۔ وہ معتقد ہیں کہ «دعا» تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے: پکارنا، درخواست کرنا اور عبادت۔ بنابریں اگر دعا عبادت پر مبنی ہو تو غیرخدا کو پکارنا جائز نہیں ہے اور اگر پکارنا اور درخواست ہو تو غیر خدا کو پکارنا جائز ہے۔ بنابریں غیر خدا سے استغاثہ جائز ہے اور مجازا لفظ مشکل کشا کو بھی غیر خدا کے لیے استعمال کرنا درست ہے

ںذر اور ذبح کے متعلق وہ معتقد ہیں کہ انکا عبادی پہلو اللہ سے مخصوص ہے، لیکن کلمہ ںذر انبیاء اور اولیاء کے لیے مجازا استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد ان ہستیوں اور دیگر مسلمانوں کو ثواب کا تحفہ پیش کرنا ہے، اور کوئی مسلمان غیر خدا کے لیے نذر نہیں کرتا ہے۔ لہذا مجاز کے طور پر «نذرحسین» اور "نیاز شاه عبدالقادر گیلانی" جیسی تعبیرات درست ہیں  .[45]

مسلح سلفیوں کی تنقید میں:

   وہ معتقد ہیں کہ جہاد اور ٹروریزم کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے اور ان دونوں میں کوئی چیز مشترک نہیں ہے۔ بلکہ جہاد ٹروریزم کو نابود کرنے کے لیے تھا اور یہ جہاد کے اہم ترین اہداف میں سے ہے۔ جہاد کی پہلی شرط یہ ہے کہ کسی اسلامی حکومت کی طرف سے اعلان ہونا چاہیے۔ چاہے عالم ہو یا دانشمند،سیاسی پارٹی کا رہبر ہو یا کوئی عام فرد اپنی طرف سے امت مسلمہ کے لیےجہاد کا اعلان نہیں کر سکتا ہے۔ ہاں ہڑتال کر سکتا ہے، دھرنا دینا ممکن ہے، لیکن جہاد ایک شرعی واجب ہے جس کا اعلان کسی پارٹی کا سربراہ یا ایک شخص نہیں کر سکتا ہے.[46] انہوں نے لندن میں ایک کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ داعش پرانا شر ہے نئے نام کے ساتھ ۔ انکا اشارہ ان خوارج کی طرف ہے جو امام علی (علیہ السلام) زمانے میں وجود میں آگئے تھے۔ منہاج کی رسمی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ فتوی دوسری چند زبانوں میں بھی ترجمہ ہوا ہے، من جملہ انگلش، نارویژی، اسپینش ، فرینچ اور ہندی

  پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ) کے بارے میں طاہر القادری کے خواب   

پیغمبر اسلام کے ساتھ خواب میں طاہر القادری کی ملاقات ایک ایسا مسئلہ ہے جو پاکستان کے لوگوں میں زبان زد عام ہے۔ خود ڈاکٹر طاہر القادری نے ان خوابوں کو اپنی بعض تقاریر میں بیان کیا ہے اور کہتا ہے کہ ایک دن پیغمبر اسلام خواب میں پاکستان آئے اور مجھ سے کہا کہ انکے لیے ہوٹل، کھانے اور مدینہ جانے کے لیے جہاز کا ٹکٹ مہیا کروں۔ اس قسم کے خوابوں کو اگرچہ انکے مریدوں نے قبول کیا ہے لیکن اسکے مخالفیں نے سختی کے ساتھ رد کر کے انکو جھوٹا قرار دیا ہے اور اس کے ان خوابوں کو پیغمر اسلام کی توہین سمجھتے ہیں۔ طاہر القادری کے خوابوں کی کیسٹوں کو انکے ایک مخالف نے جمع کرکے شائع کیا ہے.[47]

اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں طاہر القادری کا نظریہ

اہل بیت(علیہم السلام) کے بارے میں انکے متعدد آثار باعث ہوئے ہیں کہ جامعۃ المصطفی میں «اہل بیت(علیہم السلام) کے بارے میں ڈاکٹر طاہر القادری کے نظریہ پر تحقیق» کے عنوان سے ایک مستقل ایم فل تھیسس جواد حسین نام کے ایک پاکستانی طالب علم توسط سے لکھی جائے۔

مذکورہ تحقیق میں حاصل شدہ نتائج کے مطابق ڈاکٹر طاہر القادری ایک طرف امام علي (علیه السلام)، حضرت فاطمہ اور امام حسن اور حسين (عليهم السلام) کو آیہ تطہیر کے سب پہلے مصداق سمجھتا ہے اور معتقد ہیں کہ اہل کساء فقط یہی پانچ نفر ہیں لیکن دوسری طرف اہل بیت پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ) کے مفہوم میں وسعت کے قائل ہوئے ہیں اور اہل بیت کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے:

       1- نسبی اہل بیت: نسبی اہل بیت سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جو نسبی لحاظ سے شخص کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں یعنی اجدادی رشتہ دار جیسے چاچا، پھوپھی وغیرہ۔

2- گھر کے اہل بیت: وہ لوگ جو شخص کے گھر میں رہتے ہیں جیسے بیوی۔

3- ولادت کے اہل بیت: وہ لوگ جو شخص کے گھر میں پیدا ہوتے ہیں اور اسکی نسل سے ہوں جیسے کسی کے بیٹے اور بیٹیاں اور اسکی اولاد کی اولاد.[48]

ڈاکٹر طاہر القادری اس تقسیم کو بیان کرنے بعد کہتا ہے: جب بطور مطلق اہل بیت کہا جاتا ہے تو اہل ایمان ہونے کی صورت میں یہ تینوں طبقات اہل بیت پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ) میں شامل ہوتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو خارج کرنے سے اہل بیت کا مفہوم مکمل نہیں ہوتا ہے۔ لہذا بیویوں کو آیہ تطہیر سے نکالنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں لفظ اہل بیت بطور مطلق استعمال ہوا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اس آیت کا سیاق و سباق بھی بیویوں کے بارے میں تھا۔

آيہ تطہير

ڈاکٹر طاہر القادری نے " فصل في کون آل فاطمة (سلام الله عليها) من اهل بيت و اهل کساء" کے عنوان سے ایک مستقل باب باندھا ہے اور آیہ تطہیر اور حدیث کساء کے بارے بات کرتے ہوئے متعدد روایات ذکر کی ہیں من جملہ:

 (الف) عائشہ کی روایت جو صحيح مسلم میں نقل ہوئی ہے[49]  اور (ب) عمرابن ابی سلمہ کی روایت جو مسند احمد میں ذکر ہوئی ہے .[50]

آيہ مباهلہ

 ڈاکٹر طاہر القادری معتقد ہیں کہ اہل بیت وہ لوگ ہیں جو قرآن میں نفس پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ) سمجھے گئے ہیں، لہذا وہ لکھتا ہے: آيه((فمن حاجک فيه من بعد ماجاءک من العلم فقل تعالوا ندع ابناءنا وابناءکم ونساءنا ونساءکم وانفسنا وانفسکم ثم نبتهل فنجعل لعنت الله علي الکاذبين)) [51]علي، فاطمہ اور حسنين (علیہم السلام) کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور وہی لوگ نفس پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ) اور انکے اہل بیت ہیں، انہوں نے یہ بات ثابت کرنے کے لیے کہ یہ آیت اہل بیت کے بارے میں ہے سعد بن ابی وقاص کی روایت سے استدلال کیا ہے:

"لما نزل هذه الاية ندع ابناءنا وابناءکم دعا رسول الله علياً وفاطمة وحسناً وحسيناً فقال اللهم هؤلاء اهلي"[52]  جب یہ آیت نازل ہوگئی: ہم اپنی بیٹوں اور آپ اپنے بیٹوں کو لائیں تو  پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ) نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین(علیہم السلام) کو بلایا اور فرمایا: اے اللہ یہ میرے اہل ہیں۔

آيہ مودت

ڈاکٹر طاہر القادری معتقد ہیں کہ آیہ مودت پنجتن کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور قربی سے مراد علی، فاطمہ، حسن اور حسین(علیہم السلام) ہیں انہوں نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے طبرانی اور احمد بن حنبل کی روایت کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے.[53] 

 نویسنده: محمد فرقان

 مترجم(غلام اکبر شاکری)

[1]  نير، پچاس سالہ سفر کے نمایاں نکات، ماهنامه منهاج القرآن ، فروري 2001.

[2]. نير، پچاس سالہ سفر کے نمایاں نکات، ماهنامه منهاج القرآن ، فروري 2001.

[3] https://www.facebook.com/424181810969915/posts/424208964300533/.

[4]. ماهنامه منهاج القرآن، میری داستان میری زبان سے، فروري 2003.

[5]. ایضا، میری داستان میری زبان سے

[6]. اعظمي، اساتذه اور مشايخ علامہ قادری، ماهنامه منهاج القرآن ، فروري 2001.

[7] .ایضا.

[8] ایضا.

[9] ایضا. 

[10] ایضا.

[11]. تحريک منهاج القرآن انٹرویوز کی روشنی میں.

[12]. اعظمي، اساتذه اور مشايخ علامہ قادری ماهنامه منهاج القرآن ، فروري 2001

[13] . ایضا.

[14] ایضا.

[15] .ماهنامه منهاج القرآن، فوريه 2014

[16] .علوي ، طاهر القادری کے متنازع افکار، مجلہ محدث، جنوري2013م، شماره359.

[17] https://www.minhaj.org/urdu/Comments/#

[18] ایضا.

[19] ایضا. 

[20] ایضا. 

[21] .نحل ، آيه 89

[22]. قادری، اسلام جدید سائنس ، ص201

[23] www.minhaj.org/urdu/tid/45320/

[24] شیخ الاسلام: تنقید و کارنامه

 [25] .www.minhaj.org

[26]لينک کتاب: https://www.minhajbooks.com/urdu/book/375/Terrorism-and-the-Tribulation-of-the-Kharijites/

[27] لينک کتاب: https://www.minhajbooks.com/urdu/book/595/al-Irhab-wa-Fitna-al-Khawarij-FATWA/

[28] https://aawsat.com/home/article/391021/القادري-«داعش-شر-قديم»-باسم-جديد

[29]  خصوصی انٹرویو، ماہنامہ منہاج القرآن، دسامبر 2001، صفحه: 42-43.

[30] قادری، کتاب التوحيد، دو جلد. لينک کتاب: https://www.minhajbooks.com/urdu/book/Book-on-Oneness-of-Allah-vol-I/read/txt/btid/1406/

[31] قادری، توحيد اور غير خدا کا تصور، لينک کتاب: https://www.minhajbooks.com/urdu/book/Belief-in-the-Oneness-of-God-and-the-Concept-of-other-than-Allah/read/txt/btid/96/

[32] https://www.minhajbooks.com/urdu/book.

[33] https://www.minhajbooks.com/urdu/book.

[34] قادری، وسائط شرعيہ، سراسر کتاب.  لينک کتاب:  https://www.minhajbooks.com/urdu/book/The-Medials-of-Law/read/img/btid/483/

[35] قادری، استغاثہ اور اسکی شرعی حیثیت، نسخہ ويب https://www.minhajbooks.com/urdu/book/52/Beseeching-for-Help-and-its-Legal-Status/.

[36]  http://www.pat.com.pk.

[37] قادري، قرآنی فلسفہ انقلاب ، ص86.

[38]  اسلام میں عورت کے حقوق، نسخه ويب. لينک https://www.minhajbooks.com/urdu/book/Women-Rights-in-Islam/read/txt/btid/319/۔

[39] عبدالستار منهاجين، تعارف شیخ الاسلام دکتر قادری، چاپخانه ناياب، فيصل آباد،2012،  ص34.

[40] السَّيفُ الجَلى علٰى مُنکرِ وِلايةِ علِیّ، دکتر محمد طاہرالقادری، چاپ هشتم، 2007. مقدمه کتاب۔ https://www.minhajbooks.com/urdu/book/A-Majestic-Rebuttal-to-Deniers-of-Sayyiduna-Ali-s-Sovereignty/read/txt/btid/726/.

[41] قادري، حيات ونزول مسيح اور ولادت امام مهدي عليه السلام، ص70-81.

[42]. سرور قادری، پرفيسورطاهر القادري علمي وتحقيقي جائزه، ص40.

[43] قادری، عقیدہ توحید و تصور غیر خدا۔ لينک کتاب: https://www.minhajbooks.com/urdu/book/Belief-in-the-Oneness-of-God-and-the-Concept-of-other-than-Allah/read/txt/btid/96/

[44]  آثار کے حصہ میں مراجعہ کریں

[45] قادری، توحيد و تصور غير خدا، لينک کتاب: https://www.minhajbooks.com/urdu/book/Belief-in-the-Oneness-of-God-and-the-Concept-of-other-than-Allah/read/txt/btid/96/

[46] مصاحبه خصوصی ، ماہنامہ منہاج القرآن، دسامبر 2001، صفحه: 42-43.

[47]. غلزئی، نقل کفر کفر نباشد، هفته نامه تکبیر، 19 جولائی 1990م۔

[48] قادري، فلسفة شهادت امام حسين، ص259.

[49]. قادری، محمد طاهر، الدرة البيضأء في مناقب فاطمة الزهراء سلام الله عليها، منهاجُ القرآن، لاهور، چاپ ششم: مارس 200۷ءص18 به نقل ازصحيح مسلم، باب فضائل اهل بيت النبي ج4 ص 1883رقم 2424 عن صفية بنت شيبة، قالت: قالت عائشه رضي الله عنها: خرج النبي (ص) غداة وعليه مرط مرحل من شعر اسود فجاء الحسن ابن علي فأدخله، ثم جاء الحسين فدخل معه، ثم جاءت فاطمة رضي الله عنها فأ دخلها، ثم جاء علي رضي الله عنه فأدخله، ثم قال:(إ نما يريد الله ليذهب عنکم الرجس أهل البيت ويطهرکم تطهيرا)

[50].قادري،همان . به نقل از سنن الترمذي کتاب التفسير القرآن، باب ومن سورة الاحزاب، ج 5، ص351 و مسند احمد بن حنبل، ج 6، ص292: عن عمر ابن أبي سلمة ربيب النبي (ص) قال : لما نزلت هذه الأية علي النبي: (إنما يريد الله ليذهب عنکم الرجس أهل البيت ويطهرکم تطهيراً) في بيت ام سلمة فدعا فاطمةوحسناً وحسيناً فجلّلهم بکساء، وعلي رضي الله عنه خلف ظهره فجلّله بکساء، ثم قال: (اللهم هؤلاء اهل بيتي فاذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيراً).

[51] .آل عمران، آيه61

[52]. قادري، سيرة الرسول ج10، ص866 به نقل صحيح مسلم، ج4، ص1817

[53]. قادري ، حسن المأب في ذکر ابي تراب عليه السلام، ص13 به نقل طبراني في معجم الکبير، ج3، ص47واحمد بن حنبل، فضائل الصحابة، ج2669

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ