عبد الفتاح ابو غدہ جوکہ عصر حاضر کے ایک حنفی محقق، محدث اور عالم ہیں، سال 1336ق/1917م کو شام کے شہر حلب میں پیدا ہوئے۔ شیخ راغب طباخ، عیسی بیانونی، ابراہیم سلقینی، محمد حکیم، اسعد عجبی، شیخ محمد زرقا، احمد زرقا، مصطفی زرقا اور احمد کردی، شام میں عبد الفتاح کے مشہور اساتذہ میں سے تھے۔ سال 1354ق/1944م میں مزید تعلیم کے لیئے الازہر چلے گئے اور شیخ محمود خلیفہ، عبد الرحیم فرغلی، عبد الرحیم کشکی، محمد خضر حسین تونسی، احمد ابو شوشع، عبد المجید دراز، عبد الحلیم محمود اور شیخ محمود شلتوت کی شاگردی اختیار کی۔ اسی طرح وہ الازہر سے باہر بھی مخلتف اساتذہ جیسے عبد اللہ بن صدیق غمازی، عبد الوہاب خلاف، محمد ابو زہرہ، مصطفی صبری، محمد زاہد الکوثری اور عبد الوہاب حمودہ سے تعلیم حاصل کی اور انکے شاگردی میں رہے۔ عبد الفتاح 1368ق میں الازہر سے فارغ التحصیل ہوگئے اور دو سال تک الازہر میں اصول کے تخصص میں تدریس کی اور 1370ق کو اس سے فارغ ہوگئے۔ جس زمانے میں وہ مصر میں تھے تو اس وقت جماعت اخوان المسلمین سے آشنا ہوگئے، حسن بنا کو نزدیک سے دیکھا اور اس سے متاثر ہوگئے؛ ہر منگل کو حسن البنا کی مجلس میں جاتے تھے یہاں تک کہ حسن البنا کے روز وفات تک اس کی مجالس میں شرکت کرتے رہے۔ سال 1371ق کو شام واپس چلے گئے اور پڑھانا شروع کیا۔ 11 سال تک تربیت اسلامی کے متوسط لیول میں تدریس کی۔ اسی طرح وہ تدریس کے سالوں میں اساتذہ کے ہمراہ مدارس کے درسی متون کو تیار کرنے میں مشغول رہے اور اسی مدت کے دوران 6 کتابیں تیار کر لیں۔ سال 1382ق کو مجلس نمایندگان کے عضو منتخب ہوئے اور تھوڑے عرصے بعد دانشکدہ شریعت دمشق میں تدریس کے لیئے مدعو ہوگئے اور تین سال تک فقہ حنفی، اصول فقہ اور فقہ مقارن مذاہب کی تدریس کی۔ دو سال سے زیادہ فقہ اسلامی انسائیکلوپیڈیا کی مدیریت سنبھالی۔ انہوں نے ہند اور پاکستان کا ایک علمی سفر کیا جس کی مدت 13۔ ۔۔۔۔سے زیادہ تھی۔ اس دوران وہ ہند اور پاکستان کے بزرگ حنفی علماء، مفتی محمد شفیع، مفتی عتیق الرحمان، شیخ محمد یوسف کاندھلوی (امیر جماعت تبلیغ) محمد زکریا سہارنپوری، محمد ادریس کاندہلوی، محمد یوسف بنوری اور ابو الوفاء افغانی سے ملاقات کی اور ان سے اجازت نامہ اور کئی علمی مطالب حاصل کیئے۔ عبد الفتاح نے جن علماء اور اساتذہ سے تعلیم حاصل کی ہے ان کی تعداد 150 سے زیادہ ہے۔
ملک :  سوریه

 

البانی جو کہ عصر حاضر کے وہابی علماء  ميں سے ہے اور حدیث کے بارے میں اسکی آراء وہابیوں کے درمیان مقدس سمجھی جاتی ہیں، ہمیشہ عبد الفتاح کی جانب سے مورد تنقید رہا۔ عبد الفتاح اور البانی کے درمیان مناقشات، مباحثات اور علمی اختلافات اس وقت شروع ہوئے جب البانی شام میں تھا۔ عبد الفتاح کا خیال تھا کہ حدیث کے بارے میں البانی کے اکثر نظریات غلط  اور قواعد واصول حدیث کے خلاف ہیں۔ اسی مسئلے کی وجہ سے عبد الفتاح نے ایک رسالہ بنام "كلمات في كشف أباطيل وافتراءات وهي رد على أباطيل ناصر الألباني وصاحبه سابقا زهير الشاويش ومؤازريها" لکھا۔ عبد الفتاح کہتا ہے کہ جس وقت میں ریاض میں تھا دانشکدہ نے اپنے ايك رسمی خط میں مجھے سے کہا کہ البانی کی کتاب شرح عقیدہ طحاویہ کے بارے میں اپنی رائے بیان کروں۔ میں نے کتاب دیکھی اور متوجہ ہوا کہ البانی نے بخاری اور مسلم کی کئی روایات جنہیں انہوں اپنی صحاح میں ذکر کی ہیں، کے ذیل میں انکے صحیح ہونے کا حکم لگایا ہے اور "صحیح" لکھا ہے۔ یہ بات میرے لیئے خوشایند نہیں تھی اور میں نے کہا کہ ایسی روش اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بخاری اور مسلم کی روایات قابل جرح وتعدیل ہیں اور ممکن ہے ضعیف ہوں۔ اسی وجہ سے میں نے دانکشدہ کو جواب دیا کہ اس طرح کے مطالب کے ہوتے ہوئے یہ کتاب تدریس کے قابل نہیں۔ لہذا میں نے مخالفت کردی۔
اس کے بعد بیروت میں ایک مجلس میں شیخ یوسف قرضاوی اور البانی  كےساتھ یہ بحث چھڑ گئی۔ شیخ یوسف قرضاوی نے کہا قطر کے کئی علماء نے آپ کی روش کے مطابق یہ اشکال کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ روش درست نہیں البتہ میں نے بھی کچھ توجیہات پیش کی ہیں اور کہا ہے کہ مقصود البانی روایات صحیحین میں خدشہ پیدا کرنا نہیں، اس نے صرف یہ کہنا چاہا ہے کہ یہ روایت ان روایات میں سے نہیں جنکی صحت پر کئی علماء نے تردد کا اظہار کیا ہے۔ بس اتنی سی بات ہے۔

البانی نے شیخ یوسف قرضاوی کی گفتگو سننے کے بعد کہا: نہیں، ایسا نہیں ہے۔ یہ میری ہميشہ كى روش ہے کہ ہر حدیث کے بعد اسکے بارے میں اپنی نظر دیتا ہوں۔ فرق نہیں کرتا جو حدیث میں ذکر کروں   چاہے وہ بخاری اور مسلم میں ہو یا کسی اور منبع میں۔ اس روش کو بخاری اور مسلم کی روایات کو بیان کرنے کے بعد بھی جاری رکھا ہے۔ عبد الفتاح کہتا ہے البانی کی یہ بات سن کر میں ناراحت ہوا اور اس بارے میں اس سے بحث کی۔ البتہ یہ بحث بے نتیجہ تھی۔ عبد الفتاح ابوغدہ نو شوال 1417ق/ 1997م کو ریاض میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔
عبد الفتاح اہل قلم اور تحقیق تھے۔ بعض اوقات اپنی طرف سے مطالب بیان کیئے اور بعض دفعہ تحقیق اور تعلیقے لکھے۔ مندرجہ ذیل کتابیں ابوغدہ  كى کتابوں میں سے ہیں۔
- رسالة المسترشدين، اس کتاب کا مصنف محاسبی ہے لیکن ابو غدہ نے اس پر تعلیقات لکھے ہیں۔
- الرفع والتكميل في الجرح والتعديل، اس کتاب کو عبد الحي لکھنوی نے لکھی ہے اور عبد الفتاح ابوغدہ نے اس کی تحقیق کی ہے۔ کتاب الرفع والتکمیل ابو غدہ کی تحقیق کے ساتھ کئی برابر زینت اور قیمت پائی ہے۔
- إقامة الحجة على أن الإكثار من التعبد ليس ببدعة: یہ کتاب عبد الحي لکھنوی کی ہے جو شبہ قارہ ہندوستان کے وہابی اور اہل حدیث عقیدے کی رد میں لکھی ہے اور عبد الفتاح ابوغدہ نے اسکی تحقیق کی ہے۔

- التصریح بما تواتر فی نزول المسیح: یہ کتاب محمد انور شاہ کشمیری کی ہے جس کی عبد الفتاح ابوغدہ نے تحقیق کی ہے اور اس پر تعلیقہ لگایا ہے۔
- شرح باب العناية بشرح كتاب النقاية: اور یہ امام ابو حنفیہ کی فقہ میں ہے۔
- صفحات من صبر العلماء على شدائد العلم والتحصيل: یہ عبد الفتاح ابو غدہ کی اپنی مستقل کتاب ہے۔
- قواعد فی علم الحدیث: یہ کتاب شیخ ظفر احمد تھانوی کی ہے جس کی عبد الفتاح ابوغدہ نے تحقیق کی ہے اور اس پر تعلیقہ لکھا ہے۔
- كلمات في كشف أباطيل وافتراءات: عبد الفتاح ابوغدہ نے یہ کتاب البانی اور زہیر الشاویش کی رد میں لکھی ہے۔
- قيمة الزمن عند العلماء: یہ عبد الفتاح ابو غدہ کی اپنی مستقل کتاب ہے۔
- سباحة الفكر في الجهر بالذكر: یہ کتاب عبد الحی لکھنوی نے لکھی ہے اور عبد الفتاح ابوغدہ نے اس کی تحقیق کی ہے۔
- أمراء المؤمنين في الحديث: یہ عبد الفتاح ابوغدہ کی اپنی مستقل کتاب ہے۔
- الإسناد من الدين: یہ عبد الفتاح ابوغدہ کی اپنی مستقل کتاب ہے۔
- الرسول المعلم صلى الله عليه وسلم وأساليبه في التعليم: یہ عبد الفتاح ابوغدہ کی اپنی مستقل کتاب ہے۔
- المنح المطلوبة في استحباب رفع اليدين في الدعاء بعد الصلوات: یہ کتاب عبد اللہ صدیق غماری نے لکھی ہے اور عبد الفتاح ابوغدہ نے اس کی تحقیق کی ہے۔
 - سنن النسائی: عبد الفتاح ابوغدہ نے اس کی تحقیق کی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــ

مندرجہ کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے:

نثر الجواهر والدرر في علماء القرن الرابع عشر، يوسف بن عبد الرحمن المرعشلي

رماح الصحائف: السلفية الألبانية وخصومها – جمعی از نویسندگان

كلمات في كشف أباطيل وافتراءات وهي رد على أباطيل ناصر الألباني وصاحبه سابقا زهير الشاويش ومؤازريهما

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ