پاکستان میں مماتی مکتبہ فکر کے اہم رہنما اور وہابی افکار کے مروج محمد طاہر پنج پیری جنہوں نے پشاور اور مردان کے علاقے میں پنج پیری گروہ کی بنیاد رکھی ۔ پنج پیریوں سے مراد مولوی محمد طاہر اور اس کے پیرو کار ہیں جو توحید و شرک اور سنت و بدعت کی تفسیر و تشریح میں وہابی نظریات کے حامل ہیں ۔ پنج پیر مردان میں واقع صوابی ضلع کا ایک گاؤں ہے، اس گاؤں کی نسبت سے یہ لوگ پنج پیری کہلاتے ہیں ۔
ملک :  پاكستان

نویسندہ: محمد فرقان

محمد طاہر  سنہ ١٣٣٤ھ؍١٩١٦ء کو صوبہ سرحد (خیبرپختونخواہ ) کے  ضلع صوابی میں غلام نبی خان بن آصف خاں کے گھر پیدا ہوئے۔   

     ابتدائی تعلیم علاقہ کے علماء سے حاصل کی۔ بعد ازاں  مولوی  حسین علی واں بھچراں سے تفسیر و حدیث کا درس لیا۔پھر انہی کے ارشاد پر  نصیرالدین غورغشوی  سے دورہ حدیث پڑھا۔ پھر  حسین علی صاحب   سے صحاح ستہ کے بعض مقامات کا درس لیا اور روحانی تعلیم اور ذکر و اذکار کا طریقہ سیکھا۔ فلسفہ و حکمت کی کتب کا درس مولانا غلام رسول انّہی شریف والوں سے لیا۔ پھر دارالعلوم دیوبند پہنچے اور وہاں کے اساتذہ سے استفادہ کیا اور سنہ ١٩٣٥ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت پائی۔

     تعلیم سے فراغت کے بعد مولانا اعزاز علی امروہی کے ارشاد پر مدرسہ منبع العلوم گلاؤٹھی ضلع بلند شہر میں ایک سال تدریس کی۔پھر واپس آکر مولانا حسین علی کے حکم پر مدرسہ مظہر العلوم(موجودہ تعلیم القرآن)میانوالی میں تدریس کا آغاز کیا اور وہابی نظریات کے مطابق توحید و سنت  کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ آج میانوالی میں اس کے اثرات قابل مشاہدہ ہیں۔

بظاہر آپ فقہ حنفی  پر عمل پیرا  رہے ، لیکن در اصل اہل حدیث کی افکار سے سخت متاثر تھے  اور اپنے شیخ و مربی  مولوی حسین علی   کی افکار کے تابع  تھے۔

      سنہ ١٩٣٨ء میں حج  پر گئے تو وہاں مولانا عبیداللہ سندھی سے قرآن مجید، حجۃ اللہ البالغہ اور عبقات کا درس لیا اور پھر سنہ ١٩٣٨ء ہی سے پنج پیر میں اپنے اساتذہ کے ارشاد پر تفسیر و حدیث کا درس دینے میں مشغول ہوگئے۔   شرک و بدعت کی تفسیر وہابی نظریات کے مطابق پیش کرتے ہوئے، اپنے گمان میں اس کے رد پر تقریر و تحریر کے ذریعے  بہت  زیادہ کام کیا۔ کئی تصانیف منظر عام پر لائے ، متعدد مناظرے کئے ۔  مولانا مودودی کے خلاف بھی ایک کتاب لکھی ۔

مولوی طاہر کی     قابل ذکر تصانیف :

* البصائر للمتوسلين باهل المقابر

یہ کتاب صوفیاء اور اولیائے کرام کی مزارات کے کلچر پر کڑی تنقید کرتی ہے اور خاص اصطلاحات کے ذریعے اس کلچر کی مذمت کرتی ہے۔

* اصول السنةو رد البدعة

احمد بن حنبل اور اس جیسے دیگر اہل حدیث کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے،  مسلمان سماج کے افعال کو سنت و بدعت میں بانٹ کر بہت سے امور کو بدعت ٹھہرانے  کے لیے یہ کتاب قابل ذکر ہے۔

* ضياءالنور لدحض البدع و الفجور

یہ بھی گذشتہ سلسلے کی کڑی ہے، جہاں  عام مسلم سماج میں رائج افعال کو بدعت خیال کرتے ہوئے، اس کی مذمت کی جاتی ہے اور رد پیش کیا جاتا ہے۔

* الانتصار لسنة سيد الابرارﷺ

اس کتاب میں بھی خطے کے  مسلمانوں کو اہل شرک و بدعت  قرار دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

* حقيقت مودودى

اس کتاب میں  مولانا مودودی کے نظریات پر تنقید کی گئی ہے ۔ چنانچہ ابو مروان پنج پیر نامی  بلاگر کے مطابق  مولوی محمد طاہر علی الاعلان ، مولانامودودی کو دشمن صحابہ رض کہتے تھے، جبکہ موجودہ امیر جماعت مولانا محمد طیب صاحب نے اس کتاب کو اپنی مفادات کی خاطر منظر عام سے غائب کردیا، پاکستان کے کسی بھی مکتبے حتی کہ مکتبة اليمان پنج پیر میں بھی وہ کتاب دستیاب نہیں ہے!

اس کے علاوہ مولوی طاہر نے کچھ کتابیں قرآنیات کے متعلق لکھی گئیں، جن میں

* نيل السائرين فى طبقات المفسرين

* مرشد الحيران الى فهم القرآن

* سمط الدرر فى ربط الآيات والسور

* العرفان فى اصول القرآن

قابل ذکر ہیں۔

مولوی  محمد طاہر  نے اپنے علاقے پنج پیر میں ایک عظیم درس گاہ کی بنیاد رکھی جس میں ہزاروں طلباء    نے تعلیم پائی اور آپ کے تلامذہ ملک بھر میں دینی و علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

محمد طاہر پنج پیری نے وہابی نظریات سے متاثرہ اپنے عقائد کی تشہیر و اشاعت کیلئے ایک انجمن بنام ’’انجمن اشاعت التوحید والسنت‘‘ بنائی ہے جس کا صدر مقام موضع پنج پیر،  ضلع صوابی  ہے۔ کہاجاتا ہے کہ اشاعت التوحیدوسنہ  در حقیقت حسین علی الوانی واہ بھچڑاں میاں والی  کی  تحریک تھی۔ حسین علی کے  مشھور تلامذہ  غلام اللہ خان،  محمدطاہرپنج پیری، محمدحسین نیلوی، قاضی شمس الدین اور عنایت اللہ بخاری نے اسے آگے بڑھایا۔ مولوی محمد طاہرسنہ  ١٩٨٥ء میں جماعت کے مرکزی امیر منتخب ہوئے۔ پنج پیری جنہیں مقامی زبان میں مماتی فرقہ کہاجاتا ہے،  پنجاب اور  پاکستان کےدیگرعلاقوں میں جماعت اشاعت توحيد وسنت کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔

مدینہ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ شمس الدین سلفی اپنی  ؒ  کتاب ’‘جہود علماء الحنفیہ فی ابطال عقائد القبوریہ ’‘ میں اپنے استاد شیخ محمد طاہر  پنج پیری کے متعلق لکھا ہے  کہ ؛

"شیخ محمد طاہر صاحب پنج پیری  کو ابن تیمیہ،  ابن قیم اور  محمد بن عبد الوہاب کی کتب پڑھنے کا بے حد شوق وذوق تھا ۔اسی لئے آپ خصوصی طور پر قبر پرستوں کا رد کیا کرتے تھے ۔ یہ اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے ،کہ شیخ طاہر ؒ پکے ماتریدی ،اور سلوک میں ’‘نقشبندی ’‘اور فقہی حوالے سے خالص دیوبندی اور حنفی"

یہ اس مسلک کے  تناقضات ہیں، کیونکہ حنفی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تقلید کو نہ صرف درست مانتے ہیں، بلکہ عملی طور پر وہ مقلد بھی ہیں،  جبکہ سلفیت کے پرچاری تقلید سے عاری ہیں ، بلکہ اسے بدعت خیال کرتے ہیں اور ابن تیمیہ کے نزدیک تو یہ ناقابل معافی جرم ہے۔

لہذا شمس الدین سلفی  اپنی کتاب «الماتريدية وموقفهم من توحيد الأسماء والصفات»توحید الاسماء و الصفات میں ماتریدیہ کا موقف ’‘

میں’‘ اشاعۃ التوحید و السنہ ’‘ کا تعارف کراتے ہوئے  لکھتے ہیں :

دیوبندی نقشبندیوں اور صوفیوں کی ایک شاخ ہے جس کا نام ۔جمعیۃ اشاعۃ التوحید و السنہ ۔ ہے۔’‘ ماتریدی ’‘ عقائد کی نشر و اشاعت میں اس جماعت کا بھی ایک کردار ہے ؛ اور یہ کردار دراصل اس جماعت کے سربراہ  محمد طاہر پنج پیری  کی نسبت سے ہے ۔ لیکن درسی عقائد میں یہ جماعت ماتریدی عقائد پر انتہائی مضبوطی سے قائم ہے ۔اپنے علاقوں میں یہ لوگ انتہائی متعصب فقہی مقلد واقع ہوئے ہیں ۔اہل حدیث سے شدید عداوت میں مبتلا یہ لوگ کسی پہلو گریز نہیں کرتے۔ تقلید میں اس قدر غالی ہیں کہ صحیح احادیث میں تحریف تک روا رکھتے ہیں اہل حدیث ،دشمنی میں اتنے پکے ہیں کہ اہل حدیث کو ’‘ قادیانیوں ’‘ کا چھوٹا بھائی کہتے ہیں ؛

دیوبند مکتبہ فکر کی  ایک بہت بڑی تعداد اس مسلک کے خلاف برسرپیکار نظر آتی ہے، چنانچہ ضلع مردان کے علماء نے ایک فتویٰ شیخ الحدیث مولوی نصیر الدین صاحب غور غشتوی سے مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں دریافت کیا  جو کہ علمائے دیوبند کے بہت بڑے مفسر اور محدّث مانے جاتے ہیں:

 

(۱): پنج پیریوں سے  قرآن کریم کا ترجمہ کرنے کا کیا حکم ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟

 

(۲): انبیائے کرام و اولیاے عظام کے ساتھ توسل کا کیا حکم ہے؟

 

(۳): مزارات پر جانے کا کیا حکم ہے؟

 

ان مسائل کا جواب شیخ الحدیث  غور غشتوی نے یہ دیا:

 

(۱) پنج پیری قرآن شریف کی تحریف کرتے ہیں جو آیتیں مشرکین کے حق میں اتری ہیں وہ مومنین پر چسپان کرتے ہیں۔ ایسے فاسد عقائد رکھنے والوں کے پیچھے (مسلمانوں کو چاہئے کہ) اقتداء نہ کریں ،کسی دیندار اور متقی کی اقتداء میں نماز ادا کریں۔

 

(۲) توسل بالاولیاء و الا نبیاء جائز، روا، اور مشروع ہے ،کتابوں میں توسل بالاعمال و توسل بالذوات ِ فاضلہ آیا ہے۔ میرے والد صاحب بھی دعاء میں بحرمتہ سیّد الابرار و بحرمتہ سیّد المرسلین فرماتے۔ توسل بیت اﷲ شریف، توسل قرآن شریف، توسل اولیاء جیسے غوث الاعظم، کاکا صاحب، پیر بابااور دیگر اولیائے کرام رحمہم اﷲ علیہم اجمعین بھی جائز ہے۔ اﷲ تعالیٰ سے ان کے وسیلہ سے مانگنا جائز ہے۔

 

(۳) مزارات پر جانا تو امر مستحب ہے۔ حضورجنت البقیع کو تشریف لے جاتے، میں خود بھی والد، والدہ، اور بیوی کی زیارت کو علیحدہ علیحدہ مقبروں کو جاتا ہوں۔ عورتیں اپنے گاؤں کے مزارات پر اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو جاسکتی ہیں اور اگر مزار دور ہو تو جس طرح حج پر محرم کے ساتھ عورت جاسکتی ہے وہاں بھی جائے گی۔

 

صاحب کتاب  ’’السیف المبیر علیٰ اتباع ملا فنجفیر‘‘ صفحہ ۱۸ تا ۴۸ پر لکھتے ہیں کہ شیخ الحدیث جناب غور غشتوی نے فرمایا :

’’اس شخص نے یعنی محمد طاہر پنج پیری نے میرے درس میں تین سال تک پڑھا ہے ۔پہلے سال چھوٹا دورہ (جلالین، مشکوٰۃ وغیرہ) کیا ،دوسرے برس بڑا دورہ (صحاحِ ستہ ) کیا اور تیسرا برس یونہی گزارا اور فرمایا یہ لوگ(پنج پیر اور اس کے پیرو) مسلمانوں میں تفریق ڈالتے ہیں، اور ان کی اس تفرقہ اندازی سے اسلام کمزور ہوتا ہے لہٰذا ۔ان لوگوں کی مدد مت کرو، ان لوگوں کے ساتھ تعلق نہ رکھو بلکہ ملا پنج پیر اور اس کے شاگرد وں سے قرآن شریف کا ترجمہ مت کرو اسلئے کہ یہ مخلوق کے عقائد بگاڑتا ہے بلکہ یہ کہا کہ اس کے پیچھے اقتداء کرنا بہتر نہیں ہے‘‘۔(بحوالہ مضمون غوثِ اعظم کا لقب اور اکابرین دیوبند)

مولوی محمد طاہر  نے ٣١؍مارچ ١٩٨١ء کو اپنے علاقہ میں وفات پائی اور ہزاروں افراد نے نماز جنازہ پڑھی۔ امامت آپ کے صاحبزادے مولوی محمدطیب نے کی اور آبائی قبرستان میں تدفین ہوئی۔

 

مآخذ

 ماہنامہ تعلیم القرآن جولائی ١٩٨٧ء

اکابر علماء دیوبند، ص ٤٦٧ و ٤٦٨

محدث فورم ، جماعت اشاعت التوحید وسنہ پاکستان پیج۔

پندرہ روز ’’الحسن‘‘ پشاور شمارہ ۲۲-۲۴ ستمبرمضمون غوثِ اعظم کا لقب اور اکابرین دیوبند

فیس بک پیج نوجوانان التوحیدوسنت خیبرپختون خواہ

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ