اندراج کی تاریخ  12/12/2020
کل مشاہدات  66

بحرین سیکورٹی کانفرنس میں سعودی شہزادے اور سابق انٹلیجنس چیف ترکی الفیصل نے کہا کہ فلسطینیوں کو ان کا آزاد ملک حاصل کرنے میں مدد کرنے کے لئے بھی معمولی معاہدے کی ض‍رورت ہے۔

 
حوالہ :  sahartv

ترکی الفیصل نے اسرائیل کو مغرب کی نوآبادیاتی طاقت قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کو حراستی کیمپوں میں شدید الزامات کے تحت قید کر رکھا ہے اور جوان، بوڑھے اور خواتین، وہاں انصاف کے بغیر پڑے سڑ رہے ہیں۔

ترکی الفیصل نے کہا کہ تل ابیب اپنی من مانی کرتے ہوئے فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کر رہا ہے اور جسے چاہے قتل کر دیتا ہے۔

ترکی الفیصل دو عشروں تک سعودی عرب کے خفیہ شعبے کے چیف رہ چکے ہیں، اس وقت ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہیں ہے تاہم ان کے بیان کے بارے میں یہ عام فکر ہے کہ اسے سعودی عرب کی حکومت کا گرین سگنل حاصل ہے۔

ترکی الفیصل کا بیان ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ جب بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا ہے اور یہ معاہدہ یقینی طور پر سعودی عرب کے اشارے پر کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو اور موساد کے سربراہ یوسی کوہن سعودی عرب کا خفیہ دورہ کر چکے ہیں جہاں انہوں نے ولیعہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی ۔

بحرین کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں ترکی الفیصل کے بیان کے بعد صیہونی وزیر خارجہ اشکنازی نے کہا کہ میں سعودی نمائندے کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔

 
نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ