اندراج کی تاریخ  1/31/2021
کل مشاہدات  56
خضر یاسین کے مطابق ہم صرف اسی نکتہ نظر سے قرآن کو دیکھیں جس سے نبی دیکھا کرتے تھے اور صحابہ کو سمجھاتے تھے۔
مصنف :  محمد فرقان
کہتے ہیں//جس زاویہ نظر کے متعلق ہمیں معلوم ہو کہ وہ زاویہ نظر شعورِنبوت میں تھا ہی نہیں تو اس زاویہ نظر سے قران کو سمجھنا امتی کی بقراطیت ہے۔کیا نبی نے فقیہانہ زاویہ نظر سے قران کو سمجھایا سمجھایا؟کلامی ,فلسفیانہ و منطقیانہ زاویہ نظر سے کبھی قران کو سمجھا؟ساٸنسی و سیاسی و عمرانی و ادبی زاویہ نظر سے کبھی سمجھا؟//
//متن کو خود قران کے اپنے ہی زاویہ نظر(جو کہ ایمانیات بالخصوص توحید اور اسی سے متعلق اخذِ ہدایت کا زاویہ نظر ہے) سے ہی سمجھے تو یہ درست ایکٹیویٹی ہے//
مجھے نہیں معلوم خود خضر یاسین صاحب کس حد تک اس بات کی طرف متوجہ ہیں کہ توحید کا نظریہ ہی کتنا کچھ کلی اور اختلافی ہے۔ گذشتہ دو سو سال سے مسلمان توحید ہی کے بل بوتے پر دوسرے مسلمانوں سے برسر پیکار ہیں۔ محمد بن عبد الوہاب نے توحید ہی کی پیش کردہ تفسیر  کے مطابق  باقی تمام مسلمانوں کو بدترین مشرک قرار دیا اور وہابیت کی تحریک آج بت پرستی کے خاتمے کے نام پر  مسلمانوں کی ہزار سالہ  رائج  تفسیرو تعبیر کے تحت بنائی ہوئی ثقافتی میراث کو نیست و نابود کر رہی ہے۔ 
دوسری طرف سلفی جہادی ہیں جو انبیاء کی تحریک کو طواغیت کے ساتھ مقابلے کی تحریک قرار دیتے ہیں۔ اور شرق و غرب سب کو طاغوت کہتے ہیں، مسلمان حکومتوں کو طاغوتوں کا غلام قرار دیتے ہیں اور پوری دنیا سے برسرپیکار ہیں۔ اس کی پیشرفتہ ترین شکل داعش ہے جو کسی بھی قسم کی انارکی، ہرج و مرج اور ناامنی پھیلانے سے نہیں کتراتے۔ 
خضر یاسین صاحب شاید خود متوجہ نہ ہوں کہ وہ کس پیراڈائم میں حرکت کر رہے ہیں، لیکن معلوم ہے کہ  اگر وہ ایمان و اخلاقیات کی بات کرتے ہیں تو وہ قرآن و سنت کو موجودہ آئیڈیالوجیز سے مقابلے کا آلہ کار بنانے سے جی چھڑانے کے درپے ہیں۔   شاید وہ چاہتے ہیں کہ قرآن کو محض ایمانی تسکین اور نیک جذبات کی پیداوار اور نیک اعمال کی انجام دہی پر لگایا جائے تاکہ اس کے منفی اثرات(تشدد، بربریت)  کو کم کیا جا سکے۔


میرے خیال میں یہ بھی ایک آئیڈیالوجیکل پوائنٹ  آف ویو ہے، جسے ائیڈیولوجی سے فرار کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ 
ایمان و عمل صالح کوئی نکتہ نظر نہیں ہے، جب تک ایمانیات کا دائرہ کار اور اعمال صالحہ کی رینج مشخص نہیں ہو جاتی۔ 
مثلا «اعدوا لہم ما استعطتم من قوۃ» ایک قرآنی دستور ہے۔ کہ جو مسلم سماج کو ایک مضبوط طاقت بنانے کی تشویق کر رہا ہے۔  یہ اخلاقیات کا حصہ ہے یا ایمانیات کا یا سیاسیات کا؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان متن اور خصوصا مذہبی متن کی قرائت کے وقت خالی و شفاف انداز میں وارد ہو سکتا ہے  اور اپنے ارد گرد کے ماحول سے بالکل جان چھڑا کر متن کا ابجیکٹو مطالعہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ جدید ہرمنوٹیک نظریات بتاتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ متن اور قاری کا رابطہ ڈیالکٹیکل ہے، یہ مسلسل رفت و برگشت کا پیچیدہ رابطہ ہے۔ تاثیر و تاثر کا رابطہ ہے۔ متن سے انسان متاثر ہوتا ہے اور اپنے پچھلے تاثرات کو تعدیل و ترمیم یا پھر تحمیل کرتا ہے۔ لہذا متن کا قاری پر تفہیمی  ہدف کا حصول سوفیصد ممکن نہیں ہے،  بلکہ بیچوں بیچ ہی ہے۔ متن کی تفسیر ڈینامک اور حرکیاتی قسم کی ہے جس میں حالات و واقعات اور زمان و مکان  کا عنصراہم ہے۔ 
پس اگر تو خضر یاسین صاحب یہ کہنا چاہیں کہ انسانوں کے لیے متون کی قرائت میں بیرونی اثرات کی مکمل نفی ممکن ہے اور کرنی چاہیے تو میرا خیال ہے یہ ایک میتھڈولوجیل غلطی ہے۔ لیکن اگر یہ کہنا چاہیں کہ ان اثرات کو جتنا ہو سکے کم کیا جائے تاکہ متن کی بہتر سے بہتر تفہیم ہو سکے تو یہ کام کرنے کا ہے۔ لیکن پھر بھی بہتر تفہیم وہ نہ ہوگی جو رسول اللہ اور صحابہ کے زمانے کی تھی ، ورنہ (من رباط الخیل) کے مطابق فوجي چھاونیوں میں جنگی گھوڑوں کے اصطبل بنانا ہونگے۔ اور (ترهبون به عدو الله و عدوکم) بهي کسی داعشیت کی شکل اختیار کر سکتی ہے، کیونکہ وہ اسی صدر اول کی تاریخ سے کافی استفادہ کرتے نظر آتے ہیں۔بلکہ بہتر تفہیم وہ ہوگی جو مقاصد متن کو سمجھ کر انجام دی جائے۔ یہ مقاصد متن خود متون سے جدا نہیں ہیں، بلکہ قرآن کو مکمل یکسرہ ایک متن کے طور پر دیکھ کر ہی اس کے مقاصد اور روح کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ کام ہے جس کے انجام دینے میں کاوش ہونی چاہیے۔ میرا خیال ہے خضر یاسین صاحب بھی اب دوسروں کو کوسنے کے بجائے اس مکمل متن  سے حاصل ہونے والے اپنے فہم کو معرض وجود اور منصہ شہود پر لائیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان کا زاویہ نظر کیا ہے۔ 
نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ