اہل سنت کے عالم شہرستانی (صاحب ملل ونحل) اور دوسرے علماء کی نقل کے مطابق ایک سال آسمان مکہ نے اپنی برکت اہل مکہ سے روک لی اور سخت قسم کے قحط سالی نے لوگوں کا رخ کیا، تو حضرت ابو طالب علیہ السلام نے حکم دیا کہ
ان کے بھتیجے محمد ص کو جو ابھی شیر خوار ہی تھے لایا جائے،
جب بچے کو اس حال میں کہ وہ ابھی پوتڑے میں لپٹا ہوا تھا انھیں دیا گیا تو وہ اسے لینے کے بعد خانہٴ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور تضرع وزاری کے ساتھ اس طفل شیر خوار کو تین مرتبہ اوپر کی طرف بلند کیا اور ہر مرتبہ کہتے تھے:
پروردگارا، اس بچہ کے حق کا واسطہ ہم پر برکت والی بارش نازل فرما،
کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ افق کے کنارے سے بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور مکہ کے آسمان پر چھا گیا اور بارش سے ایسا سیلاب آیا کہ یہ خوف پیدا ہونے لگا کہ کہیں مسجدالحرام ہی ویران نہ ہوجائے ۔

شہرستانی کے علاؤہ ”شرح بخاری“ ”المواہب اللدنیہ“ ”الخصائص الکبری“ ”شرح بہجة المحافل“ ”سیرہ حلبی“ ”سیرہ نبوی“ اور”طلبتة الطالب “ نے بھی اس واقعے کو نقل کیا ہے ۔

نتیجہ:
علما اس بات سے باخبر تھے ، تسلیم بھی کرتے ہیں ، کہ

جنابِ ابو طالب ع جانتے ہیں کہ یہ بچہ کون ھے ۔

جنابِ ابو طالب ع کی دعا رد نہیں ہوگی ۔


شیرخواری کے باوجود حضرت محمد ص کے وسیلے کا دربارِِ خدا وندی میں کیا مرتبہ ہے.




نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ