حوالہ :  الوہابیۃ علمی ویب سائیٹ

سعودی مخالفین نے ملک کے اندر اور ملک سے باہر سعودی حکومت کے خلاف نئی پارٹیاں بنائی ہیں، اور انہیں کئی دھمکیوں کا سامنا ہے، جیسے جمال خاشقجی کی سرنوشت وغیرہ۔

الجزیرہ نيوز کی ویب سائٹ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ  پوریس جانسن نے مارچ میں محمد بن سلمان كے لندن سفر کے دوران اس سے ملاقات کی۔

لندن کے بڑے بڑے میدانوں (grounds) کی دیواروں پر اشتہارات، مٹرو سٹیشنز میں بینرز، انگلش اخباروں کے صفحہ اول میں بن سلمان کی تصویریں " تبديلى كے شاہزادے انگلينڈ آگئے" کی سرخی کے ساتھ، اور وزیر اعظم کے دفتر میں ریڈ کارپٹ بچھانا، یہ سب کچھ  برطانيہ کی طرف سے سعودی بادشاہ کے بیٹے کے استقبالیہ پروگرام کا حصہ تھا۔

سعودی عرب میں تبدیلی کا حامی، یہ وہ عبارت تھی جسے سعودی ولیعہد نے انگلينڈ کے سفر کے دوران انتخاب کی تھی۔ لیکن اس وقت اسے معلوم نہیں تھا کہ عنقریب ایک ڈرامیٹک تبدیلی حاصل ہونے والی ہے۔ اور سب سے پہلے خود بن سلمان اور پھر سعودی عرب کو سات ماہ سے کم مدت کے دوران  اپنی طرف  کھینچے گی۔  

2 اکتوبر 2018 کو، بوقت استنبول ظہر کے بعد،  جمال خاشقجی نے اپنے آخری قدموں کو ترکی میں اپنے ملک کی ایمبیسی کی طرف لے بڑهائے۔ اس کی منگیتر خدیجہ چنگیز ایمبیسی کے دروازے کے پیچھے کھڑی تھی، اس نے دو گھنٹے بعد یورپ میں موجود یحیی عسیری جو كہ سعودی عرب کے سابقہ فوجی آفیسر اور ابھی سعودیہ مخالفين ميں سے ہے، کو فون کیا اور کہا: جمال ایمبیسی کے اندر غائب ہوگئے اور یہ عجیب بات ہے۔

عسیری نے کہا: میں نے کئی بندوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ سعودی حكام  پریشر ڈال سکوں اور سرنوشت جمال کو فاش کروں؛ لیکن افسوس کے ساتھ ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، کیونکہ انہوں نے پہلے سے ہی اس کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

اس نے مزید کہا: خاشقجی سے میری آخری ملاقات اس کے قتل سے دس دن پہلے ہوئی تھی جس میں اس نے یہ مشورہ دیا تھا کہ بن سلمان کے باقی ماندہ دل اور عقل سے بات کی جائے۔

عسیری نے کہا: میں نے اس کے مشورے پر اعتراض کیا لیکن جمال نےکہا "جیل کے دوستوں نے اور سعودی عرب کی عوام نے یہ چاہا ہے کہ اس پیغام کو بن سلمان کے لیئے بھیج دوں"۔

سال 2018 کو مارچ اور اکتوبر کے مہینوں میں سعودی مخالفین كے حوالے سے برطانيہ میں زیادہ تبدیلیاں وجود میں آگئیں۔  اور بعض مخالفين کو یہ فرصت ملی کہ برطانيہ کے کئی شہروں میں انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ ہماہنگی کے بعد برطانيہ کے اندر مظاہرے کیئے جائیں۔

بن سلمان کے برطانيہ سفر کے دوران جن جگہوں اور گراونڈز کی دیواروں پر اس کے استقبال کے لیئے اس کی تصویریں لگائی گئی تھیں وہ خاشقجی کے حادثے کے بعد غصہ اور آگ میں تبدیل ہوگئے۔  سڑکوں میں گاڑیوں پر بن سلمان کی تصویر خون آلود لباس اور " Mr. yes" كى عبارت کے ساتھ چپکائی گئی۔ سعودی حکومت کا اصل چہرہ دکھانے کے لیئے سات ماہ کافی تھے۔ اور سعودیہ کے تبدیلی والے چہرے کی ترویج کرنے کے لیئے خرچ کیئے جانے والے لاکھوں ڈالرز ہوا میں چلے گئے۔

سعودی مخالف محمد عمری نے اعلان کیا: خاشقجی کے قتل نے واضح کر دیا کہ کوئی بھی شخص محفوظ نہیں اور اسکا اثر باہر  ملک میں رہنے والوں کی نسبت سعودیہ کے اندر عوام پر زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے كہ انہوں نے بن سلمان کے اصل چہرے کو پہچانا ہے اور اس کے چہرے سے تبدیلی کے ماسک اتر گئے ہیں۔

سعودی عرب کے سرگرم وکیل سلطان العبدلی کا کہنا ہے کہ برطانوى میڈیا میں مخالفین کا وجود مزید پررنگ ہوگیا ہے اور مخالفین کے درمیان رابطوں کے پل مزید وسیع ہوگئے ہیں۔

 مضاوی الرشید، سعودیہ کا ایک یونیورسٹی سٹوڈنٹ جو نوے کی دہائی سے برطانيہ میں رہائش پذیر ہے، نے یوں اپنے خیالات کا اظہار کیا: برطانيہ میں سعودی مخالفین بڑے بڑے اقدامات کر رہے ہیں کہ خاشقجی کے قتل سے پہلے ایسے اقدامات نہیں دیکھے تھے۔

اس نے مزید کہا کہ نوے کی دہائی میں بھی مخالفین تھے؛ لیکن جمال خاشقجی کے قتل کے بعد یہ آوازیں بیشتر ہوگئیں۔ اور عورتیں، مرد اور مخلتف مکاتب فکر کے لوگ انگلیڈ میں سیاسی پناہ لینے کے خواہاں ہیں۔ رشید نے اظہار خیال کیا کہ وہ سعودی سٹوڈنٹس جنہوں نے پناہ لینے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے اپنے مکتوبات کا نتیجہ ٹویٹر میں اور مقالات کو انٹرنٹ میں نشر کیا ہے۔


جہنم سے فرار

امریکن نیوز سائیٹ سی ان ان (CNN)  نے گذشتہ سال فروری کے مہینے میں بن سلمان کی جہنم سے فرار ہو کے پناہ لینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کے حوالے سے ایک رپورٹ نشر کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سعودی سٹوڈنٹس جنہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے، 2012 کی نسبت 2017 میں 318 فیصد بارڈر عبور کر چکے ہیں۔ سی ان ان کی رپورٹ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ جنہوں نے 2017 میں برطانيہ میں پناہ لینے کی درخواست دی تھی ان میں سے 184 سعودى عرب کے ہیں  اور خاشقجی کی موت کے بعد انکی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 2017 میں 800 سعودیوں نے پناہ کی درخواست دی۔  

یونائٹڈ نیشنز آرگنائزیشن کے ادارے ہائی کمیشنر برای ریفیوجیز کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں 800 سے زیادہ سعودی برطانيہ میں پناہ لے چکے ہیں جن میں سے 200 فعال سیاستدان ہیں اور باقی وہ  افراد ہیں جو سعودیہ کے ظلم اور ناانصافیوں سے فرار کر گئے ہیں۔ ان کے درمیان ٹيچرز، ڈاکٹرز اور انجینئرز بھی دیکھے گئے ہیں جنہوں نے اپنی فیملی سمیت پناہ کی درخواست دی ہے۔

سلمان عبدلی نے بتایا کہ جو حادثہ میرے ساتھ پیش آیا وہ بڑا عجیب تھا؛ اپنے پہلے اور دوسرے انٹرویو کے لیئے چار ماہ اپنے ملک کی وزارت میں منتظر رہا۔ 

اس نے مزید کہا: اس افسر نے اطلاع دی کہ "دو ماہ کے اندر آپ کو خبر دینگے، اسی طرح میں اکیلا آپکی فائل کو اپنے ذمہ لے سکتا ہوں لیکن سعودیہ اور برطانيہ کے روابط کی وجہ سے اس فائل کو اعلی کمیٹی کے سپرد کرینگے تاکہ اس کی جزئیات سے آگاہ ہوجائیں"۔

برطانیہ کا سعودی پناہندگان کے ساتھ محتاطانہ سلوک کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ اس سے پہلے 1994 میں مورس نے ڈاکٹر سعد الفقیہ کے ساتھ اس ملک میں پناہ لینے کی درخواست دی تھی وہ ابھی تک انتظار میں ہیں۔ فقیہ در اصل  ایک سرجیکل ڈاکٹر تھا جو مسلمانوں میں تبدیلی لانے والوں میں سے تھا، اس نے اپریل 1991 کی درخواستوں اور 1992 کے مذکرہ النصیحہ پر دستخط کیا تھا۔ انہوں نے دو خطوط سعودی بادشاہ کو بھیجے اور اسے سیاسی اصلاحات اور فساد سے مقابلے کی خاطر دھمکایا۔ اس سعودی ڈاکٹر نے 1994 میں سویڈن میں ایک میڈیکل کانفرنس میں شرکت کرنے کے بہانے سعودیہ کو اپنی فیملی سمیت ترک کیا۔ تاکہ وہ سعودی حکام کو اس بات پر قانع کر سکے کہ چار ہفتے جیل میں گزارنے کے بعد اسے ملک سے نکلنے کی اجازت دے دیں۔  وہ درخواست پناہ دینے کے لیئے سویڈن سے برطانیہ چلا گیا۔ فقیہ کی نظر میں برطانیہ کی طرف سے اس کی اور دوسرے سعودی مخالفین کی درخواستوں کے جواب میں تاخیر کی وجہ سعودیہ کی طرف سے برطانوی حکومت پر پریشر ہے۔ 

لیکن فہد الغویدی - جو 2008 ، 2009 اور 2014 میں، پھر 2018 میں مورد تفتیش قرار پایا- اس نے كئى ممالك کا سفر کیا اور آخری سفر ترکی کی طرف تھا۔ اور خاشقجی کے قتل کے بعد کچھ مہینوں کے اندر لندن چلا گیا۔ سعودی حکام کی طرف سے ان کی جائداد واثاثے جام کرنے سے پہلے برطانیہ میں پناہ لینے کی درخواست دے دی۔ الغویدی نے کہا کہ درخواست پناہ دینے کے ایک ہفتے بعد ملکی وزارت کی طرف سے ایک لیٹر دریافت کیا جس میں اس کے بارے میں کہا گیا تھا كہ اس کی موقعیت کمزور ہے اور درخواست رد ہوگی۔

الغویدی کا خیال ہے کہ اس امر کا سبب سعودیہ اور برطانیہ کے درمیان اعلی سطح کے تعلقات ہیں۔

بیشتر معاملات کے حوالے سے پریشر

برطانیہ سعودی عرب كو اسلحہ ایکسپورٹ کرنے کے حوالے سے یونائٹڈ سٹیٹس کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ بین الاقوامی ادارہ استکھلم کی رپورٹ کے مطابق 2018 میں، گذشتہ پانچ سالوں کے دوران برطانیہ نے جو کچھ ریاض کو بیچا ہے اس کا 49 فیصد حصہ عسکری سازوسامان پر مشتمل تھا۔ 

یمامہ اول کی قرارداد جو سعودیہ اور برطانیہ کے درمیان سلطان بن عبد العزیز، اس وقت کے سعودی وزیر دفاع، اور میشل ہیسلٹین، برطانوی وزیر دفاع کی موجودگی میں انجام پائی تھی جس کی لاگت 43 ارب ڈالر تھی۔ اس قرارداد نے اسلحہ کے معاملات میں سعودی عرب اور برطانیہ کے تعلقات مزید مضبوط کر دیے۔ یہ قرارداد محافظہ کاران کے دور حکومت میں، برطانوی وزیر اعظم جان مجور کی سربراہی میں دوبارہ انجام پائی۔ اور ریاض نے یہ شرط رکھی کہ برطانوی حکام سعودی مخالف المسعری کو اس کے حوالے کریں۔

بن سلمان کی موجودہ حکومت نے بادشاہ عبد اللہ بن عبد العزیز سے وعدہ کیا کہ مسعری کو اس کے حوالے کریگی۔ لیکن مسعری نے ان کوششوں کے خلاف حقوق کی ایک جنگ شروع کی۔ یہ مسئلہ اسے برطانیہ کے سابقہ زیر تسلط دریائے کارائیب کا جزیرہ ڈومینیکا منقل کرنے کے بعد ختم ہوا۔ بالاخر سپریم کورٹ نے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ جزیزرہ ڈومینیکا میں اسکی امنیت خطرے میں ہے، اسے برطانیہ کے اندر رہنے کی اجازت دے دی۔

ٹونی بلیئر کے زمانے میں سعودی ڈیل

سال 2004 میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے اثرورسوخ کی وجہ سے اس ملک نے کوشش کی کہ سعودی حکومت کے ساتھ اسلحہ کے حوالے سے ایک تاریخی معاملہ انجام دے جسکی لاگت 70 ارب ڈالر تھی۔

اس قرارداد کے بند میں سعودی فوج کو یورپی جنگی جہاز ٹایفون کی تربیت دينا شامل تھا جسکا بیشتر حصہ برطانوی جہاز بنانے والی کمپنی بی ای ای میں تیار کیا گیا تها۔ لیکن سعودی حکام نے اعلان کیا کہ اس قرارداد پر دستخط کرنے کے لیئے ہماری تین شرطیں ہیں جن میں سے پہلی اور اہم ترین شرط یہ ہے کہ برطانیہ سعودی مخالفین کے دو اہم افراد مسعری اور فقیہ کو ان کے حوالے کرے۔ انہوں نے یہ شرط بھی رکھی کہ برطانیہ سعودیہ کے اندر اپنے فضائی پروگرام بھول جائے اور سلطان بن عبد العزیز کے داماد اور اس وقت کے سعودی ولی عہد کے بارے میں، اسلحہ کے معاملات میں مالی کرپشن کے اتہامات دور کرے۔

سعودی حکام کی طرف سے برطانیہ میں موجود اپنے مخالفین کو برطانوی حکام کے ساتھ رسمی تعلقات کی بنا پر خاموش کرنے کی کوششيں ختم نہیں ہوئیں۔ اور یہ سرنوشت اسلحے کی ڈیل کے مقابلے میں مخالفین کو حوالہ کرنے تک پہونچ گئی ہے۔ اور يہ امر دہشگردانہ اقدامات، جاسوسی، حملے اور برطانیہ میں مقیم مخالفین کو ہدف قرار دینے کے ساتھ برقرار رہا۔ 

سال 2003 میں، لندن میں ڈاکٹر فقیہ کے گھر دو کارگروں کو لایا گیا اور یہ دعوی کیا گیا کہ يہ پلمبر (پائپ کی فٹنگ کرنے والے) ہیں جو گھر کو تعمیر کرنے کے لیئے آئے ہیں۔ گھر کے اندر داخل ہوتے ہی ان میں سے ایک نے فقیہ کے چہرے پر کوئی اسپرے ڈالی اور جوں ہی اس نے اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی تو دوسرے بندے نے اس پر حملہ کیا۔ اس سرجن نے بتایا کہ ان حادثات کی وجہ سے میں دار الخلافہ لندن کے علاقے بادینگٹن کے ہشپتال سنت ماری منتقل ہوگیا۔ اس نے پولیس کے سامنے اپنے بیانات میں کہا كہ سعودی حکام اس حادثہ کے متہم ہیں جنہوں نے ان دو ماموروں کو  مجھے قتل کرنے یا اغوا كرنے کے لیئے بھیجا ہے اور انہوں نے یہ کام  اس کے سٹلائیٹ سسٹم  کے زریعے انجام پائی جانے والی کوششوں کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کے بعد کیا۔  

فقیہ پر حملے کے 25 سال بعد، اکتوبر 2018 کوایک اور سعودی مخالف غانم الدوسری پر لندن کی بڑی سڑکوں میں حملہ ہوتا ہے۔ سعودی مخالف الدوسری یوٹیوب میں زیادہ دیکھے جانے والے پسندیدہ پروگرامز چلاتا ہے۔ خاشقجی کے قتل کے چند ہفتے بعد، غانم پر حملہ ہوا۔ الدوسری نے اپنے بیانات میں کہا کہ دو پیدل چلنے والے افراد نے مجھ پر حملہ کرنے کا قصد کیا، ان میں سے ایک نے میرے چہرے پر حملہ كيا، اس کے بعد اس نے دلیلیں دیں اور مجھ پر الزام لگایا کہ میں قطر کا مزدور ہوں۔ لیکن مجھے معلوم تھا کہ وہ محمد بن سلمان کا کتا ہے۔

برطانیہ میں سعودی مخالفین کے خلاف جاسوسی سعودی حکام کی طرف سے اختیار کیئے جانے والے راستوں میں سے ایک راستہ ہے۔ سال 2004 میں ایک پولیس آفیسر بنام غازی، جو در اصل یمنی تھا، نےعمومی افکار کو چونكا ديا۔ اس نے بیرون ملک مقیم مشرق وسطی کے باشندوں کے خلاف بڑی جاسوسیاں کی ہیں جن میں سے ایک اہم ترین فرد مسعری تھا۔

یہ کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ایک افسر جو منطقہ فولہام میں مصروف خدمت تھا، وہ مسعری کے گھر گیا اور کچھ شخصی سوالات اس سے پوچھ لئے، کافی تحقیقات كرنے کے بعد پولیس نے اس کے گھر پر حملہ کیا۔ اور مسعری کی شخصی تصاویر، اسکی اور اسکی بیوی کی گاڑی كى نمبر پلیٹ، اور جو تصویریں اس افسر نے مسعری کے گھر سے اٹھائی تھیں وہ بھی اس کے کمپیوٹر میں پائیں۔

ان ثبوتوں کے مقابلے میں، ایک برطانوی افسر نے اپنی گفتگو کی جزئیات میں اعتراف کر لیا کہ اس ڈور کا سرا سعودی سفارت خانے سے جا ملتا ہے جہاں ایک سعودی ڈپلومیٹ کام کرتا تھا۔ ایک شخص جس کا نام علی شمرانی تھا، اس نے 14 ہزار پاونڈ قاسم کو رشوت دی تاکہ مسعری کی جاسوسی کرے۔ اس افسر کو اپنے کام سے نکالا گیا اور برطانوی حکومت نے سعودیہ سے طلب کیا کہ شمرانی کو اس ملک سے خارج کرے اور یہ کام حال حاضر میں انجام پا چکا ہے۔

سعودی مخالف محمد عمری نے اظہار خیال کیا کہ اس پولیس افسر نے بعد میں مسعری کے ساتھ تعلقات بنائے اور اپنی ماموریت کی جزئیات جو اس کی امنیت کے خلاف انجام پانی تھیں، واضح كرديں۔

14 سال مسعری کے خلاف جاسوسی کے بعد، سی ان ان نیوز نیٹ ورک نے ایک رپورٹ پیش کی جس میں سعودی عرب کی کوششیں اور کنیڈا میں موجود سعودی مخالف جوان عمر بن عبد العزیز کے خلاف جاسوسی میں یہودی کمپنی این ایس او کے ساتھ ہمکاری، کا ذکر کیا۔ اور خاشقجی سے "النحل الیکٹرونک فوج" كى تربيت كے حوالے سے ہمکاری کے بعد نشر کی۔

ریاض برطانیہ میں رہنے والے اپنے مخالفین سے کیوں پریشان ہے؟

یحیی عسیری جو کہ ادارئے انسانی حقوق کا مدیر، اور لنڈن آپریشن تھیٹر جو پچھلے سال تیار ہوا کے بانى ہیں، نے بتایا کہ برطانیہ اپنے نام سے سعودی مخالفین کا سامنا کرتا ہے۔  

عسیری نے کہا کہ مخالفین کی گفتگو، سعودی عوام کی گفتگو ہے جو اپنے ملک میں نہیں کرسکتے۔ انہوں نے برطانوی دفتر برائے امور خارجہ کے ایک مسوول سے ایک انٹرویو لیا جس میں اس سے مخالفین کی نظر اور مطالبات کے بارے میں سوال کیا۔ عسیری نے مزید کہا کہ اس نے یہ دعوی کیا کہ انسانی حقوق کے پیغامات ان تک پہونچائینگے اور ان مشکلات  میں انہیں متحرک کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

اس حوالے سے فقیہ سعودی مخالفین کے بارے میں برطانوی موقف کے حوالے سے عسیری کی رائے کے مخالف ہے۔ ان کا خیال ہے کہ خاشقجی کے حادثے کے بعد برطانوی حکومت مرحلہ تعلقات سے اعتراف تک مخالفین کے وجود سے  كناره كشى نہيں كى اورسعودی حکومت سے کوئی رابطہ برقرار نہیں رکھا اور رابطہ كرنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتی۔ اور برطانیہ یہ بھی نہیں جاننا چاہتا کہ سعودیہ اپنے مخالفین کے ساتھ كس طرح كا برتاو کرتا ہے۔ اور سعودیہ عرب کے ساتھ معاملات بگڑنے کے حوالے سے بھی اسے کوئی پریشانی نہیں۔ اس نے مزید کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ برطانیہ سعودی مخالفین کے زریعے بیشتر قراردادیں حاصل کرنے کے لیئے استفادہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ رسمی طور پر اور علی الاعلان مخالفین کی حمایت کرے گا۔

سعودی مخالفین سیمینار منعقد  کرکے برطانیہ پر پریشر ڈالتے ہیں۔ ان سیمیناروں میں مخالفین کی اہم شخصیات، سعودی  زندانوں کے اندر انسانی حقوق کی پامالی  اور یمنی جنگ کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف بات کرتی ہیں۔

اور مخالفین کے درمیان اہم شخصیات کا وجود برطانیہ پر ایک اور قسم کا پریشر ایجاد کرتا ہے۔

مضاوی الرشید نے لندن میں، برطانوی انٹليجنس آرگنائزيشن كے مرکز ميں پچلھے سال فروری کو منعقد ہونے والے پروگرام جس میں ايك ہزار سے زیادہ افراد موجود تھے، میں اعلان کیا کہ مغربی ممالک نے سعودیہ عرب سے تعلقات توڑ دیے ہیں۔

رشید نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اجلاس میں پرہجوم شرکت سے حیرت زدہ ہوگیا۔ اور مزے کی بات یہ تھی کہ بحث سے پہلے اور بحث کے بعد ووٹنگ کی نسبت مختلف تھی۔ اس کے بیانات کے مطابق بحث شروع ہونے سے پہلے 41 فیصد لوگوں نے تعلقات توڑنے کے لیئے ووٹ دیا، اور 22 فیصد مخالف تھے، 37 فیصد نے ووٹ نہیں دیا۔ لیکن بحث ومناظرہ شروع ہونے کے بعد 63 فیصد روابط توڑنے کے موافق اور 37 فیصد مخالف ہوگئے اور 5 فیصد نے رائے نہیں دی۔

ایک طرف عسیری کا خیال ہے کہ سعودی حکومت برطانیہ کے اندر منعقد ہونے والے سیمناراور مخالفین کی اہم شخصیات کی فعالیت پر شدید غصہ ہے۔ اور یہ بات دھمکیانہ انداز میں مسلسل موصول ہونے والے پیغامات سے ظاہر ہوتی ہے۔

اور سلطان عبدلی جسے سعودی حکام نے گرفتار کیا تھا وہ ہمیشہ اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر قتل کی دھمکیاں دریافت کرتا ہے۔  عبدلی نے برطانوی پولیس سے رجوع کیا لیکن ہمکاری کی کوئی صورت نظر نہیں آئی۔ اسی طرح سعودی حکام نے فہدی غویدی جو سعودیہ کے توسط گرفتار ہوا تھا، جب اس نے کہا کہ میں برطانیہ میں ہوں تو اس کے چھوٹے بھائی کو گرفتار کیا۔

عبد اللہ غامدی جو کہ ایک اور سعودی مخالف ہے، نے تھوڑی سی رقم اپنی بیمار والدہ کے لیئے سعودیہ بھجوائی تھی، جوابا سعودی حکام نے اسکی ماں کو گرفتار کیا اور غیر انسانی سلوک کے ساتھ اس سے تفتیش کی۔ اور پھر آزاد کیا۔

سعودی مخالفین کی دھمکی کے بعد کیا اتفاق پیش آیا؟

تسنیم کی رپورٹ کے مطابق، عسیری نے الجزیزہ سے کہا: جو بھی مسوول مخالفین سے ملاقات کرنا چاہتا ہے وہ پہلے ہماری حیثیت کے بارے میں سوال کرے نہ کہ ان قیمتی چیزوں کے بارے میں جن پر ہم بات کرتے ہیں یا بات کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضروری ہے تمام سعودی مخالفین مضبوط اور جدید راستے اختیار کریں اور ایک چھتری کے نیچے جمع ہوجائیں اور ایک ہی بڑی سیاسی پارٹی بنائیں۔

خاشقجی کےقتل کے بعد برطانیہ میں مخالفین کے اختیار مزید بڑھ گئے اور ایک نئی سیاسی پارٹی بنائی جس میں سعودیہ کے اندر اور باہر سے مختلف گروہ شامل ہوئے۔ اور بعض افراد ایک نیا سٹلائٹ چلانے کی بات کرتے ہیں۔

یہ پارٹی اپنی سرگرمیاں پس پردہ انجام دیتی ہے یہاں تک کہ چھے ماہ بعد اسکی فائنل شکل ایک کانفرنس میں مکتوب شکل میں پیش کی جائیگی۔  سلطان عبدلی کے خیالات کے مطابق اس پارٹی کا ہدف سعودیہ کے اندر موجود گروپس کو اطمئنان بخشنا ہے کہ مخالفین ایک حقیقی سیاسی قدم اٹھا سکتے ہیں اور ملک کے تمام داخلی وخارجی گروپس ان کے ساتھ ہیں۔

عبدلی نے اس پارٹی کے بارے میں بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم ممبر شپ کی خاطر سب کے لیئے الیٹرونک دروازے کھول دینگے اور ہماری خواہش ہے كہ اکثر سعودیہ کے اندر سے ہوں۔

عسیری نے ایک اور جہت سے ایک سیاسی پارٹی یا ایک قومی مخالف تشکل وجود میں لانے کی بات کی۔ انہوں نےتاکید کی کہ یہ پارٹی ہرقسم کی سیاسی خلاء پر کرنے کی صلاحيت رکھتی ہے۔ عسیری نے مزید کہا کہ ممکن ہے ایک داخلی جنگ وجود میں آئے یا آل سعود سقوط کریں اور تمام گروپس کو چلانے کے لیئے ایک قومى پلیٹ فارم درکار ہے۔ سعودیہ كے ایک یونیورسٹی سٹوڈنٹ رشید نے کہا كہ کبھی بھی ایک سیاسی پارٹی جو تمام مخالف گروپس کو چلا سکے، وجود میں نہیں آسکتی، لیکن ایک قومی پلیٹ فارم تمام اختلافات کو ڈیل کر سکتا ہے۔ فقیہ جو کہ ان اقدامات کا لیڈر ہے، نے اس پارٹی یا کسی اور پارٹی کی تمام جزئیات سامنے آنے سے پہلے ہر قسم کی مشارکت سے انکار کیا۔

نئی حزب صرف ایک تربیت ہی نہیں جسے سعودی مخالفین برطانیہ میں انجام دے رہے ہیں۔۔   بلکہ اہم مخالف شخصیات اور انکے ٹویٹر اکاونٹس کا اثر اور ان پر سعودیہ سے باہر رہنے والے مخالفین اور فیک نام کے ساتھ سعودیہ کے اندر رہنے والے مخالفین کی طرف سے وسیع پیمانے پر موصول ہونے موافق کمنٹس بھی ہیں جن سے  یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سعودی مخالفین کے نام سے ایک سٹلائیٹ چینل کا وجود اشد ضروری ہے۔۔ لیکن اس کے لیئے سب اہم مسئلہ بجٹ (رقم) کا ہے۔ 

2017 میں خاشقجی اور عسیری نے لندن میں ایکدوسرے سے ملاقات کی اور ایک ٹی وی چینل چلانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر رائٹرز اور میڈیا کے افراد اور سعودی سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور انہیں برطانیہ میں ایک ٹی وی چینل کھولنے پر آمادہ کیا یہاں تک کہ ایک سعودی تاجر نے اعلان کیا کہ وہ اس چینل کی افتتاح کے لیئے بجٹ دے دیگا۔ لیکن آخری لمحات میں پیشمان ہوا۔

اسی طرح لندن کے بڑے میدان "مسٹر یس" کو مختلف جملوں کے ساتھ،  یمنی عوام کے خلاف جنگی جرائم اور خاشقجی کے قتل کی خاطر، بن سلمان کی مذمت کرتے ہیں۔

آنے والے دنوں میں برطانیہ کے اندر سعودی مخالفین کے کئی ٹریننگ پروجکٹس کا اعلان ہوگا۔ليكن اس کی سب سے بڑی مشکل مالی امداد ہے۔

آخر میں ان شخصیات کا تعارف کرائینگے جن کا ذکر متن میں ہوگیا ہے:

محمد مسعری

محمد مسعری 1946 کو پیدا ہوئے وه فزکس کے استاد ہیں، انہوں نے  قانونی حقوق کے دفاع کے لیئے بننے والی کمیٹی کی تاسیس میں شرکت کی اور اس کے پہلے سخنگو تھے۔ 1993 میں اسے اپنے کام سے نکالا گیا اور پھر گرفتار ہوا۔ لیکن ایک سال بعد یمن نکلنے پر کامیاب ہوگئے اور وہاں سے جعلی ویزے کے زریعے برطانیہ چے گئے اور وہاں پناہ لینے کی درخواست دی۔برطانوی حکام نے اسے جزیزہ ڈومینیکا بھیج کر اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن وہ عدالت کے زریعے حق پناہندگی کی خاطر اقامت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

سعد راشد فقیہ

سعد راشد فقیہ ایک سرجیکل ڈاکٹر اور اصلاحى تحريك کے سرگرم رکن تھے۔ وہ 1957 کو پیدا ہوئے اور انہوں نے قانونی حقوق کے دفاع کے کیئے بننے والی کمیٹی کی تاسیس میں شرکت کی۔ فقیہ 1993 کو سعودیہ کے اندر گرفتار ہوئے، اور بادشاہ فہد بن عبد العزیز کے دور میں اسکے اعمال کی وجہ سے اسے اپنے عہدے سے برطرف کیا گیا اور اصلاحی فعالیات اور فساد کے خلاف قیام کی خاطر ملک سے باہر جانے پر پابندی لگائی گئی۔

وہ آخر کار ایک علمی کانفرنس میں شرکت کے بہانے سویڈن چلے گئے اور وہاں سے درخواست پناہندگی کے لیئے برطانیہ کی طرف عازم سفر ہوئے۔

یحیی العسیری

یحیی عسیری 1980 میں پیدا ہوئے اور سعودی سلطنت کی ائیر فورس کے سابقہ افسر تھے۔ 2014 میں حکومت کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لیا اور بعد میں برطانیہ میں پناہ لی۔ وہ حال حاضر میں انسانی حقوق کے شعبے سے منسلک ہيں۔ انہوں نے گرفتار ہونے والے افراد کی آزادی اور انسانی حقوق کی عدالت کے لیئے ٹویٹر میں خصوصی پیجز بنائے۔  اسی طرح عسیری نے 2018 کے اواخر میں دیوان لندن کی تاسیس کی جس میں سعودی مخالفین سے مربوط کانفرنسز منعقد کی جاتی ہیں۔

مضاوی الرشید

مضاوی رشید 1992 میں پیدا ہوئے اور وہ اجتماعی علوم انسانی میں سوشیالوجی کا استاد ہيں۔ اس نے شبہ جزیرہ عرب، عربوں کی ہجرت اور انکی آفاقیت کے بارے میں کئی کتابیں لکھیں اور علمی ميگیزینز میں بہت سارے مقالات لکھے۔  اسی طرح رشید برطانیہ میں غیر حکومتی قومى اور عالمی تنظیموں میں مشاورت کا مقام رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عربی مطبوعات (مکتوبات) اور سٹلائٹ چیلنز میں سعودی نظام اور اسکی سیاست پر نقد وتنقید کرتے ہيں۔

سلطان عبدلی غامدی

سلطان عبدلی غامدی 1997 کو پیدا ہوئے، وہ سیاسی سرگرمیوں میں فعال اور متہم ہیں جسکی وجہ سے 2005 میں اصلاحی تحریکوں میں شرکت کی وجہ سے گرفتار ہوگئے۔ اس نے ستمبر 2017 کو وسیع پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں اور  سعودی ولیہعد محمد بن سلمان کا اختیارات سنھالنے کے بعد، برطانیہ میں پناہ لی۔ مارچ 2019 کو سعودی حکام نے عبدلی کے بیٹے محمد کو گرفتار کر لیا، اور اسی طرح اسکی فیملی كو اسکے سفر کے بعد گھر میں محبوس كيا تاکہ اس کو اقرار پر مجبور کیا جائے۔

غانم الدوسری

غانم دوسری 1980 میں پیدا ہوئے، وہ سعودیہ میں حقوق بشر کے فعال اور طنزیہ رکن تھے، اور 2003 سے لندن میں مقیم ہیں۔ اس نے 2005 میں یوٹیوب پر "غانم شو" کے عنوان سے ایک پروگرام چلانا شروع کیا جس میں سعودی عرب، بادشاہی خاندان، خصوصا بادشاہ سلمان اور اس کے بیٹے محمد پر  نقد کرتے تھے۔ سال 2018 میں دوسری پر کچھ نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔

ترجمہ (اردو): مظاہر على 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ