اسلامی اتحاد قدیم زمانه سے آج تک بہت سے اسلامی ممالک کے علماء اور متفکرین کا شعار رہا ہے اور ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد امام خمینی اور ان کے بعد رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے فرامین میں اس مفہوم نے واضح طور پر جلوہ نمائی کی هے۔

دوسرے دینی مراکز اور تنظیموں نے بھی اس سلسلے میں سعی و کوشش کی جن میں سب سے اہم حوزہ علمیہ نجف اشرف کے موقف کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ نجف اشرف کے شیعہ مراجع نے یہ موقف اس وقت اختیار کیا جس وقت عراق، امریکہ کے تسلط کے بعد قبیلہ اور طایفہ کے اختلافات کی نذر ہو چکا تھا اور دہشت گردوں کے ہاتھوں اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کا قتل عام کیا جا رہا تھا۔ ان سب کے باوجود نجف اشرف کے مراجع نے کبھی بھی خط اعتدال سے عدول نہیں کیا اور یه گوارا نہیں کیا کہ دشمن کے ہاتھ کا مھرہ بن کر قبیلہ اور طایفہ کے اختلاف کو ہوا دیں ان کے مقصد کو پورا کریں۔

نجف اشرف کی مرجعیت نے بعثی حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد دو بعد ملی و اسلامی کو ذریعہ بنا کر اتحاد کی راه ہموار کی۔ مرجعیت بخوبی اس بات سے آگاہ تھی کہ  صدام کی سرنگونی کے ساتھ ہی ملک پر امریکہ کا تسلط قائم ہو جائے گا اور اس کے بعد بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، اسی وجہ سے مرجعیت نے ابتداء سے ہی اعتدال کا کردار ادا کرنے کی سعی کی  اور تمام عراقی احزاب اور مذاہب کے درمیان یکساں رابطہ بر قرار کیا۔

 

حضرت آیت اللہ سیستانی کا تقریب بین المذاہب نظریہ

نجف کے علماء اور مراجع کے تقریب پر مشتمل نظریات پر بهترین شاهد مثال ان کے اتحاد طلب اقدامات اور فتاوای ہیں۔ لهذا پهلے ہم یہاں آیت اللہ سیستانی کے بعض اہم اقدامات کی طرف اشارہ کریں گے:

الف: امامین عسکریین کے روضے کے انہدام پر رد عمل: سقوط صدام کے بعد زعیم حوزہ نجف اشرف حضرت آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کا ایک اهم کام یه تها که آپ نے سامراء میں امامین عسکریین کے روضے کے انہدام کے بعد اس سانحہ پر رد عمل ظاہر کیا۔

آپ نے اپنے بیان میں تکفیریوں کے اس ظالمانہ اقدام کی پر زور مذمت کرتے ہوئے تحریر فرمایا: تمام مومنین سے درخواست کرتا  ہوں کہ وہ اس مقدس مقام کی ہتک حرمت کے سلسلے میں مسالمت آمیز طریقہ سے اپنا اعتراض ظاہر کریں۔ جو لوگ اس اتفاق اور اتحاد سے پریشان اور ناراض ہیں انہیں اس بات کا موقع نہیں دینا چاہئے کہ وہ ان حالات سے فائدہ اٹھا کر دشمن کے منصوبے پر عمل کریں اور لوگوں میں قبیلہ و طایفہ کے اختلافات کو ہوا دیں۔ (۱)

آیت اللہ سیستانی نے تمام تر مشکلات کے باوجود اس اقدام کا ذمہ دار تکفیریوں کو قرار دیا اور شیعوں سے درخواست کی کہ وہ صرف مسالمت آمیز انداز میں اس مصیبت پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کریں اور کسی بھی شدت پسندی کا مظاہرہ نہ کریں۔

ب۔ عراق میں برادر کشی کی مذمت: آیت اللہ سیستانی نے24 جولائی 2016 کو عراق میں برادر کشی پر رد عمل میں ظاهر کرتے هوئے ایک بیان صادر کیا تھا جس کو گزشتہ برسوں میں مرجعیت کا مھم ترین بیان شمار کیا گیا ہے۔ آپ نے اس بیان میں واضح انداز میں تحریر کیا: هم غم انگیز اور غافل کرنے والے حملوں اور خوف و هراس پیدا کرنے والے مناظر کا مشاہدہ کر رہے ہیں جیسے اغوا، قتل اور انسانوں کے جسموں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ۔۔۔۔ انسانی ، دینی اور ملی کرامت کے مقابلے میں ان اعمال کی برائی، نفرت انگیزی اور اجنبیت کو بیان کرنے سے الفاظ بهی قاصر ہیں۔ عراق پر فوجی تسلط کے قائم هونے کے بعد میں اپنے پورے وجود کے ساتھ یہ آرزو کرتا تھا کہ عراق کی عوام تاریخ کے اس بحرانی مرحلہ سے قبیلہ و طایفہ کے اختلافی فتنوں میں مبتلا ہوئے بغیرگزر جائیں، کیونکہ ایک بڑا خطرہ تها(جو گزشتہ گناہوں کے نتیجہ میں ایسے اجنبی اوربیگانہ افراد کے نظام الاوقات پر منبی تھا جس سے برے نتایج کا اندیشہ تھا ) عراق کی عوام کا اتحاد اور ملکی و ملی انسجام کے لئے خطرہ تھا، جس سے میں آگاہ تھا۔

حضرت آیت اللہ سیستانی نے سیاست مداروں اور دینی علماء کو اس خونریزی سے مقابلہ کرنےکے لئے سعی و کوشش کرنے کی دعوت دی اور تاکید کرتے هوئے کها: جو لوگ ، مسلمانوں کے خون کو مباح سمجھتے ہیں اور قوم و قبیلہ کی خاطر بے گباہ افراد کا خون بہاتے ہیں، ایسے افراد کے لئے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس قول کو یاد دلانا چاہتا ہوں جسے آپ نے حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا: اے لوگوں تم سب پر ایک دوسرے کے خون ، مال اور عزت سے تعرض کرنا حرام ہے اسی طرح آج کے دن اور اس ماہ میں بهی خونریزی حرام ہے اور حاضریُن غائبین تک یہ پیغام پہچا دیں۔(۲)

نیز رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ایک دوسرا قول بهی یاد دلایا جس میں آنحضرت(ص) نے فرمایا: جس نے اپنی زبان پر شهادتین کو جاری کیا اس کا مال اور خون محفوظ ہو گیا ہے مگر یہ کہ وہ اسے کسی ایسے عمل سے ضایع کر دے جس کا حساب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔(۳)

نیز آنحضرت (ص) کا یہ قول بهی بیان کیا جس میں آنحضرت (ص) نےفرمایا: اگر کسی نے کسی مسلمان کے قتل میں ایک کلمہ لکھنے کے برابر بھی مدد کی تو قیامت کے روز خداوند عالم اس سے اس طرح ملاقات کرے گا کہ اس کی پیشانی پر اللہ کی رحمت سے مایوس لکھا ہوا ہوگا: ۔ (۴)

آپ نے اس بیان کے آخر میں تحریر کیا: عزیز عراقیوں، اس مشکل سے رہائی حاصل کرنےمیں جس میں اس وقت ملک گرفتار ہے، تمام عراقی فرقوں کا اتحاد ضروری ہے جس کی مدد سے عراقیوں کے خون کی حفاظت کرنا ضروریے۔ جو عراق کے جس بھی خطے میں زندگی بسر کرها ہے وہ شدت پسندی کو هر طرح  سے روکے تا کہ اس طرح بمب گزاری کی گئی گاڑیاں، سڑکوں پر بلا مقصد گولی مارنا، اغوا کرنا اور اس جیسے دوسرے مختلف سانحوں کا خاتمہ ہوجائے اور منتخب حکومت کی ھمراہی میں، مثبت گفتگو کے ساتھ اس بحران اور ریشہ دار اختلافات کا حل عدل و انصاف کی بنیاد پر کیا جائے۔(۵)

اس بیان میں بھی نہایت واضح ہے کہ حضرت آیت اللہ سیستانی کو عراق پر تسلط حاصل کرنے والے امریکیوں کے منصوبے اور ان کی سازش سے مکمل طورپر آگاہی تھی اور آپ کی کوشش تھی کہ لوگوں کو ہوشیار کریں۔ اسی طرح آپ نے یہ سعی و کوشش کی کہ عراق کے مخلتف قبیلوں اور طوایف کو اس سے آگاہ کریں اور انہیں بیجا انتقام سے روکیں۔ دلچسب بات ہے کہ اس بیان میں آپ نے شیعہ رہنما کے طور پر عوام کو مخاطب نہیں قرار دیا ہے بلکہ تمام عراقیوں کو ایک دینی رہنما کی حیثیت سے مخاطب قرار دیا ہے اور تمام قبائل کے لئے یکساں موقف اختیار کیا ہے۔

ج۔ عیسائیوں اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا دفاعآپ نے حتی کہ اتحاد اسلامی سے آگے بڑھ کر غیر مسلم عراقی شہریوں جیسے عیسائیوں کے حقوق کی بارے میں خاص تاکید کی ہے۔ آیت اللہ سیستانی نے عراق میں ایک کلیسا کے انہدام پر رد عمل ظاهر کرتے هوئے اپنے ایک بیان میں فرمایا: بغداد اور موصل میں عیسائیوں کے بعض کلیساوں کو ظالمانہ اقدام کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دسیوں افراد قتل اور زخمی ہوئے اور عمومی و خصوصی املاک کو نقصان پہچا، ہم ان دردناک جرائم کی مذمت کرتے ہیں اور حکومت و عوام کے اتحاد کی ضرورت پر تاکید کرتے ہیں تا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکے اور اس طرح کے واقعات دوبارہ وجود میں نہ آئیں۔

آیت اللہ سیستانی مزید وضاحت کرتے ہیں: ہم عیسائی شہریوں اور دوسرے دینی و مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے احترام کے واجب ہونے کی تاکید کرتے ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ ان سب کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے وطن عراق میں امنیت و سکون کے ساتھ زندگی بسر کریں۔(۶)

ھ۔: عراقی شیعہ و سنی علماء کی پہلی کانفرنس کے نام آپ کا پیغام: گزشتہ برسوں میں آیت اللہ سیستانی کے بیانات نہایت مقبول ہوئے ان میں سےآپ کا وہ پیغام بھی ہے جو آپ نے عراق میں پہلی شیعہ اور سنی کانفرنس کے لئے ارسال کیا تھا۔ آپ نے اس پیغام میں واضح کیا تھا: اس طرح کی مجالس اور ملاقاتیں بهت هی مفید و مھم ہیں کینوکہ اس سے شیعہ اور سنی سمجھ جاتے ہیں کے ان کے درمیان کوئی حقیقی اختلاف نہیں ہے اور اختلاف کا منشاء، فقہی مباحث هیں . آپ مزید فرماتے ہیں: شیعوں کو چاہئے کہ وہ اپنے حقوق سے پہلے اہل سنت کے سماجی و سیاسی مسائل کا دفاع کریں اور ہمارا موقف اتحاد کی دعوت پر استوار ہے۔

آیت اللہ سیستانی تاکید کرتے ہیں: جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور کہتا رہتا ہوں کہ یه بات نہ کہیں کہ اہل سنت ہمارے بھائی ہیں بلکہ یه کہیں کہ اہل سنت ہماری جان ہیں اور میں شیعوں سے زیادہ اہل سنت خطباء کے خطبہ جمعہ کو سنتا ہوں اور میرے نزدیک عرب اور کرد میں کوئی فرق نہیں ہےاور اسلام نے ہم سب کو جمع کر دیا ہے۔

آپ اہل سنت کے فقہی مبانی و مباحث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ہم قبلہ، نماز، روزہ وغیره میں یکساں ہیں اور جس وقت سابق حکومت (صدام) میں بعض اہل سنت مجھ سے کہتے تھے کہ ہم شیعہ ہو چکے ہیں تو میں ان سے پوچھتا تھا کیونَ؟ اور وہ کہتے تھے اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کی خاطر، تو میں ان سے کہتا تھا کہ اہل سنت کے چاروں امام اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کا دفاع کرتے تھے۔ (۷

  

تکفیر نجف اشرف کے مراجع کی نظر میں:

ایک اور مسئلہ جو آج کے دور میں اسلامی دنیا میں جنجالی صورت اختیار کئے ہوئے ہے اور بہت سی مصیبتوں کی بنیاد ہے، وہ تکفیر کا مسئلہ ہے۔ تمام اسلامی مذاہب کے ماننے والوں کی تکفیر، خاص طور پر سلفی مذہب میں گزشتہ کچھ دہائیوں میں اس کا ایک خاص چال چلن رہا ہے اور دھشت گرد تنظیمیں عام افراد کے قتل کے لئے اسے دلیل بناتی ہیں، حوزہ علمیہ نجف اشرف کے لئے ایک خلش ہے۔ نجف اشرف کے مختلف مراجع نے کچھ مدت قبل مختلف فتاوای کے ساتھ سعی کی ہے کہ اس تکفیری تحریک کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان میں سے کچھ فتاوای کا ذکر آئندہ سطور میں ملاحظہ کریں:

حضرت آیت اللہ محمد سعید حکیم: ایک سوال میں آپ سے پوچھا گیا کہ کیا تمام اسلامی مذاہب یعنی حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، جعفری، زیدی و اباضی کے ماننے والوں کو مسلمان تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ اسلام میں تکفیر کے حدود کیا ہیں؟

آپ تاکید کرتے ہیں: اسلام کا عنوان منطبق ہونے کے لئے انسان کا شہادتین پڑھنا اور دین کے ضروری فرائض جیسے نماز کا ماننا کافی ہے۔ اس لحاظ سے تمام افراد پر اسلامی احکام مترتب ہوں گے جیسے اس کی جان و مال محترم ہے اور تمام احکام۔ اسی طرح سے آپ نے اپنی کتاب فی رحاب العقیدہ میں اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ  بحث کی ہے۔ (۸)

حضرت آیت اللہ اسحاق فیاضآپ سے ایک سوال میں پوچھا گیا کہ اسلام میں تکفیر کی بنیاد کیا ہے؟ کیا مشہور اسلامی مذاہب کے ماننے والوں کی تکفیر کی جا سکتی ہے؟ اشاعرہ و معتزلہ کا عقیدہ رکھنے والوں اور اسی طرح سے صوفیہ کے ماننے والوں کا کیا حکم ہے؟

آپ نے جواب میں اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ان تمام مذاہب کے ماننے والے مسلمان ہیں، فرمایا: اسلام کا معیار خداوند متعال کی وحدانیت کی گواہی دینا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم محمد بن عبد اللہ کی رسالت کا عقیدہ رکھنا ہے۔ جو بھی اس کا عقیدہ رکھتا ہے مسلمان ہے اور تمام اسلامی احکام اس پر مترتب ہوں گے۔ جیسا کہ اس کا خون، عزت اور مال دوسروں کے لئے حرام ہے۔ حوزہ علمیہ نجف کے اس عالی قدر عالم نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: کفر کا معیار وحدانیت اور رسالت کا انکار کرنا ہے، اس لحاظ سے اشعریہ، معتزلہ و صوفیہ کو اس وقت تک کافر نہیں کہا جا سکتا ہے جب تک وہ وحدانیت و رسالت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔

آیت اللہ اسحاق فیاض کا ماننا ہے: ہمارے علمائ کرام کے درمیان ائمہ اطہار علیہم السلام کے زمانه سے لیکر آج تک کوئی ایک بھی عالم ایسا نہیں ہے جس نے تمام اسلامی مذاھب کے ماننے والوں کو کافر قرار دیا ہو، کیونکہ ان سب کا ماننا ہے کہ جو بھی وحدانیت اور رسالت کا عقیدہ رکھتا ہے اس کی جان، مال عزت اور آبرو محترم ہے۔ (۹)

حضرت آیت اللہ بشیر نجفیآپ سے بھی ایک سوال میں پوچھا گیا کہ کیا مذاہب اسلامی یعنی حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، جعفری، زیدی و اباضی میں سے کسی ایک کے بھی ماننے والے کو مسلمان سمچھا جا سکتا ہے؟

آپ نے جواب دیا: جو بھی توحید کا اقرار کرتا ہو اور محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت کا عقیدہ رکھتا ہو اور اس پر یقین رکھتا ہو کہ آپ (ص) کی رسالت ، آخری اور الہی رسالت ہے اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اور کسی بھی ایسی چیز کا انکار نه کرتا هو جواسلام کا جزء هے تو وہ مسلمان ہے اور تمام احکام الہی اس کے شامل حال ہوں گے اور تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کی جان، مال اور عزت کا دفاع کریں۔

آیت اللہ بشیر نجفی ایک دوسرے مقام پر اپنے فتوای میں واضح کرتے ہیں: جو بھی قبیلہ اور طایفہ کے اختلافات کو ہوا دیتا ہے اور جو بھی ان تمام عقاید رکھنے کے باوجود کسی مسلمان کی تکفیر کرے تو یا تو وہ جاہل ہے یا متجاہل اور یا ایسا دشمن ہے جو مسلمانوں کے درمیان مستکبر کافر کی خدمت کے بہانے داخل ہو گیا ہے کہ جس کا ہدف اسلامی اتحاد کو نقصان پہچانے اور ان کے درمیان تفرقہ کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔(۱۰)

ان فتاوای سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ نجف اشرف کے مراجع کے نظریات ہمیشہ تقریب بین المذاہب اور تکفیر سے مقابلہ پر مشتمل رہے ہیں۔ شیعیت کے اس اھم منصب سے رابطہ پیدا کرکے عرب قوم بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کر سکتی ہے اور مرجعیت نے گذشته کچھ برسوں کے دوران اس سلسلے میں نیاہت اہم قدم اٹھائے ہیں۔ حال هی میں نجف اشرف کے مراجع اور اسلامی جمہوریہ ایران نے ساتھ میں مل کر اپنی کوششوں کو دوبالا کر دیا ہے اور اس فکر میں ہیں کہ شیعوں اور اہل سنت کو تکفیری گروہوں اور ان کے واقعی خطرات سے آگاہ کریں۔ ایسی تنظیمیں یا گروہ جو مغربی دنیا کی خفیہ ایجنسیوں سے وابسطہ مفتیوں کے فتوی پر تکیہ کرتے ہوئے اسلامی ممالک میں کسی بھی طرح کے مذہبی اختلافات اور برادر کشی سے دست بردار نہیں ہیں اور اپنے منافع کے لئے دین مبین اسلام کو اپنے شرمناک مقاصد کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔

 


 

مآخذ:

۱۔ آیت اللہ سیستانی کی ویب سایٹ، ۲۳ محرم الحرام ۱۴۳۷ ھجری قمری۔

۲۔ الا و ان دمائکم و اموالکم و اعراضکم علیکم حرام کحرمۃ یومکم ھذا فی شہر کم ھذا فی بلدکم ھذا، الا لیبلغ الشاھد الغائب۔

۳۔ من شھد ان لا الہ الا اللہ و ان محمدا رسول اللہ فقد حقن مالہ و دمہ الا بحقھما و حسابہ علی اللہ عز و جل ۔

۴۔ من اعان علی قتل مسلم بشطر کلمۃ لقی اللہ عز و جل یوم القیامۃ مکتوب بین عینیہ آیس من رحمۃ اللہ۔

۵۔ آیت اللہ سیستانی کی ویب سایٹ، ۲۲ جمادی الثانی ۱۴۲۷ ھجری قمری۔

۶۔ آیت اللہ سیستانی کی ویب سایٹ، ۱۵ جمادی الثانی ۱۴۲۵ ھجری قمری۔

۷۔ آیت اللہ سیستانی کی ویب سایٹ، ۲۸ ذی القعدۃ ۱۴۲۹ ھجری قمری۔

۸۔ دور الحوزۃ العلمیۃ فی وحدۃ الامۃ الاسلامیۃ، صفحہ ۲۳۷۔

۹۔ دور الحوزۃ العلمیۃ فی وحدۃ الامۃ الاسلامیۃ، صفحہ ۲۴۳۔

۱۰۔ دور الحوزۃ العلمیۃ فی وحدۃ الامۃ الاسلامیۃ، صفحہ ۲۴۴۔

منبع : http://makhaterltakfir.com/ur/Article/View/318

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ