اندراج کی تاریخ  2/16/2020
کل مشاہدات  74

اسلام خصوصا اس مقدس دین کی سیاسی تعلیمات کے بارے میں وہابی فکر نے اسلامی دنیا میں کئی آثار اور نتائج چھوڑے ہیں، ان میں سے مندرجہ ذیل موارد کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے:


الف۔ آمریت کی ترویج
وہابیت کی نظر میں اسلام، ایک غیر سیاسی اسلام [2] ہے کہ جسکی گفتگو[3] کا محور توحید در الوہیت (توحید در عبادت) ہے اور محمد قطب کی اصطلاح میں لوگوں کو توحید قبوری[4]  سے دور رکھنا ہے۔ دین اسلام میں انبیاء اور ان کے پیروکاروں کا پورا ہم وغم یہ ہے اور یہی ہونا چاہیئے کہ عبادت صرف خداوند متعال کے ساتھ خاص ہے (5)۔ البتہ عبادت کی خاص تعریف کے ساتھ جو استغاثہ جیسے امور کو شامل ہو [6] ۔  نتیجے میں مسلمانوں کی پوری انقلابی اور جہادی قوت وطاقت صرف استغاثہ، توسل، طلب شفاعت، سفر برائے زیارت قبور،  اورجشن وغیرہ جیسے امور کا مقابلہ کرنے میں استعمال ہوگی۔ [7]
واضح ہے کہ اسلام کی نسبت ایسی نظر کے تحت، مسلمانوں کی سیاسی شرکت بہت کم ہوگی۔ اس نگاہ کے سایے میں مختلف اسلامی ممالک کے لوگ اسلامی حکومت اور نظام کو تشکیل دینے میں کوئی دلچسپی نہیں لینگے اور اپنے بادشاہوں اور حاکموں کے برتاو کے تابع ہونگے جب تک کہ وہ اہل استغاثہ اور توسل وغیرہ نہ بن جائیں۔ اسلام کی نسبت ایسی نگاہ کی وجہ سے ہی آمریت پسند اور غیر جمہوری نظام ، جیسے سعودی بادشاہی نظام اور داخلی وخارجی سیاسی میدان میں ان نظاموں کے سیاسی قائدین کو مکمل آزادی ملے گی اور ان کے اعمال قانونی ہونگے۔
اس بنا پر جرات کے ساتھ یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ طول تاریخ میں آل سعود کی طرف سے محمد بن عبد الوہاب اور اس کے آئین کی حمایت اسی وجہ سے تھی کہ مذکورہ آئین سعودی بادشاہی نظام کے وجود میں آنے کی ابتدا سے بلکہ ملک عبد العزیز کے ہاتھوں اس ملک کے بننے سے بھی بہت پہلے اور محمد سعود (جد آل سعود) کے زمانے سے، ہمیشہ نے آل سعود کو سیاسی طاقت اور سعودی بادشاہی نظام کو قانونی حیثیت دینے پر کام کیا ہے۔ [8]  

ب۔ جیمز روزنا کے نظریہ تسلسل کی بنیاد پر انتہا پسندانہ اور پرتشدد پالیسیاں

ممالک کی خارجہ پالیسی پانچ مستقل متغیرات (Five independent variables) کا نتیجہ ایک منحصر متغیر ( A dependent variable) ہے کہ متغیر حکومتی اور بیوروکریٹک ان مذکورہ پانچ متغیرات میں سے ایک ہے۔[9]
منابع یا حکومتی متغیرات سے مراد حكومتوں کے ساختی پہلو ہیں جو سیاستدانوں کے ایڈوانس آپشنز کو اضافہ کرتے ہیں یا انہیں محدود کرتے ہیں۔[10]
ابھی مذکورہ توضیح کی روشنی میں کہتے ہیں: کہ طول تاریخ میں ہمیشہ ہم نے کچھ اسلامی ممالک خصوصا سعودی عرب، کی خارجہ پالیسی میں قہر آمیز اور شدت پسندانہ سیاست کا مشاہدہ کیا ہے، کہ 25 ماچ 2015م کو سعودی عرب [11] کی سرپرستی میں یمن پر حملہ اور علاقائی اہداف کو آگے برھانے میں داعش جیسے دہشتگرد گروہوں کی حمایت، ان پالیسیوں کا ایک نمونہ ہے۔ [12]
یقینا مذکورہ ممالک کی خارجہ پالیسی بنانے والوں پر اس طرح کی پالیسیاں اپنانے میں مختلف عوامل اور متغیرات اثرانداز ہیں، لیکن جسطرح اشارہ کیا گیا کہ اس مسئلے میں ان عوامل اور اہم و موثر متغیرات میں سے ایک خود ان ممالک کے حکومتی نظام کا سٹریکچر ہے۔

مذکورہ ممالک کا نظام آمرانہ اور غیر جمہوری ہے، اسی وجہ سے وہ اپنی خارجی پالیسیز میں شدت پسندانہ امور کو زیادہ پسند کرتے ہیں، کیونکہ جمہوری نظام کے مقابلے میں، آمریتی اور غیر جمہوری نظاموں میں خارجہ پالیسی کے امور میں کھلاڑیوں کی تعداد کم ہوتی ہے۔ اس وجہ سے مذکورہ نظام اپنی خارجہ پالیسیز میں اکثر اوقات قہر آمیز اور ٹکراو کا راستہ اختیار کرتے ہیں[13] ۔ اس کے مقابلے میں جمہوری نظاموں کے خارجہ امور میں مذکورہ سبب موجود نہ ہونے کی وجہ سے امن پسند اور صالحانہ رویہ پایا جاتا ہے۔ [14]  
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں وہابیت کی فکر آمریت کی پرچار اور سعودی عرب جیسے ممالک کی خارجہ پالیسی بنانے والے افراد کو حذف کرنے کا سبب بنتی ہے۔ در نتیجہ ان ممالک کے قائدین، فیصلے کا حق انکے ساتھ مختص ہونے کی خاطر، اپنی خارجہ پالیسیز میں آزادانہ طور پر زور زبردستی، اور شدت پسندانہ اعمال انجام دیتے ہیں۔

ج۔ سعودی عرب کا جہان اسلام کی ام القری ہونے کا دعوی
آخرین تحقیقات کے مطابق دنیا کی آبادی میں سے تقریبا 4/1 فیصد مسلمان ہیں۔[15]  جہان اسلام (جن سرزمینوں میں اکثر لوگ دین اسلام کے پیروکار ہیں) بھی ایشیاء، یورپ اور افریقا کے تقریبا ساٹھ ممالک پر مشتمل ہے۔[16]  ہمیشہ سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان  جہان اسلام كى قيادت كے مسئلے میں اختلاف رہا ہے کہ ان دو ممالک میں سے کون جہان اسلام کی قیادت سنبھالے گا، یہ جہان اپنے رقیب ملک کے تعین شدہ راستے کی نسبت ایک مکمل مختلف راستہ طے کرے گا۔ ایران کی کوشش ہے کہ اسلام سیاسی، جو کہ تقریبا انقلابی اسلامی کی وجہ سے ایک کامل وکامیاب نمونے کے طور ظاہر ہوا ہے، پر تکیہ کرتے ہوئے جہان اسلام کو محور مقاومت، فلسطین کے ارمان کی حمایت، اور عالمی استکبار سے مقابلے کی طرف لے جائے۔ اس کے مقابلے میں سعودی عرب بھی تلاش کرتا ہے کہ ام القری اور جہان اسلام کی قیادت کا منصب حاصل کر کے مسلمانوں کی عظیم طاقت اور قدرت کو عالمی استکبار کے ساتھ توافق اور بڑی طاقتوں جیسے امریکا کے ساتھ ہم کاری کرنے میں خرچ کرے اور جہان اسلام کو مغرب خصوصا اس کا اصلی اتحادی یعنی امریکا کے زریعے موصول ہونے والی سیاستوں کی چاردیواری میں محصور کرے [17].
واضح ہے کہ سعودی عرب اس منصب اور ہدف تک پہونچنے کے لیئے، خود کو ایک اسلامی ملک کے طور پر متعارف کرائے، اس بنا پر ااسلام کے بارے میں ایک خاص فکر اور مطالعہ کرتا ہے:
اول: نظری لحاظ سے مسلمانوں کو اس بات تک پہونچانا چاہتا ہے کہ بادشاہوں جیسے سعودی حکام کے فیصلوں کی اطاعت لازم ہے اور  عالمی استکبار اور بڑی طاقتوں کے ساتھ توافق اور اتحاد کے فیصلوں کو قبول کریں۔
دوم: عملی اور فیزیکلی لحاظ سے بھی مسلمانوں کے انقلابی اور جہادی تمایلات کا مثبت جواب دے اور مسانوں کی جہادی اور انقلابی طاقت کو خالی کرکے عالمی استکبار کے خلاف انقلاب اور جہاد کو ناکام بنائے۔

اسلام کے بارے میں وہابیت کی فکر، ایک ایسی فکر ہے جس میں مذکورہ دو خصوصیتی پائی جاتی ہیں، کیونکہ:
اولا: جیسا کہ اشارہ ہوا کہ وہابیت آمریت کی ترویج اور فیصلے کا حق سعودی حکام کے ساتھ خاص کر کے، اپنے  خارجی روابط میں ہر قسم کی سیاست کے لیئے اپنے یاتھ کھلے رکھیں اور مسلمانوں پر ان پالیسیوں کو قبول کرنا لازم قرار دیا ہے۔[18]
ثانیا: وہ اپنی باتوں میں توحید در عبادت پر زور دیتے ہوئے، مسلمانون کی انقلابی اور جہادی قوت اور طاقت کو عالمی استکبار سے مقابلہ اور فلسطین کے ارمان پورے کرنے کی کوشش کی بجائے، (مسلمانوں کو)  ایک دوسرے سے لڑاتے ہیں اور توسل، استغاثہ، اور تعمیر قبور جیسے مسائل میں الجھاتے ہیں۔ [19]
مختصر الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب وہابی اسلام کے سائے میں جہان اسلام کی ام القری کا منصب حاصل کرنے اور اس جہان کو عالمی استکبار کے ساتھ توافق اور بڑی طاقتوں کے ساتھ اتحاد ایجاد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔


رائٹر: پور علی سرخہ دیزج  (1)
ترجمہ: مظاہر علی


 

فهرست منابع

  1. آل شیخ، عبداللطیف بن عبدالرحمن، مصباح الضلام فی الرد علی من کذب الشیخ الامام و نسبه الی تکفیر اهل 2. الایمان و الاسلام، تحقیق: عبدالعزیز بن عبدالله بن ابراهیم الزیر آل حمد، بی­جا: وزارة الشؤن الاسلامیة و الاوقاف و الدعوة و الارشاد، چاپ اول، 1424 ق _ 2003م.
  2. آل شیخ، محمد بن ابراهیم، فتاوی و رسائل سماحة الشیخ محمد بن ابراهیم بن عبداللطیف آل شیخ، تحقیق: محمد بن عبدالرحمن بن قاسم، مکه مکرمه: مطبعة الحکومة، چاپ اول، 1399ق.
  3. بن باز، عبدالعزیز بن عبدالله، مجموع فتاوی العلامة عبدالعزیز بن باز، تحقیق: محمد بن سعد الشویعر، بی­جا: بی­نا، بی­تا.
  4. بن باز، عبدالعزیز و عثیمین، محمد بن صالح، فتاوی مهمة لعموم الامة، تحقیق: ابراهیم فارس، ریاض: دار العاصمة، چاپ اول، 1413ق.
  5. بن حسن بن محمد بن عبدالوهاب، المورد العذب الزلال فی کشف شبه اهل الضلال، ریاض، دار العاصمة، چاپ دوم، 1412ق.
  6. بن عبدالله بن محمد بن عبدالوهاب، سلیمان، التوضیح عن توحید الخلاق فی جواب اهل العراق و تذکرة اولی الالباب فی طریقة الشیخ محمد بن عبدالوهاب، ریاض: دار طیبة، چاپ اول، 1404ق _ 1984م.
  7. بن عبدالوهاب، محمد، تعلیم الصبیان التوحید، بی­جا: بی­نا، بی­تا، نرم افزار مکتبة الشاملة.
  8. بن فوزان، صالح، اعانة المستفید بشرح کتاب التوحید، بی­جا: موسسة الرسالة، چاپ سوم، 1423ق _ 2002م.
  9. خمیس، محمد بن عبدالرحمن، اصول الدین عند الامام ابی حنیفه، المملکة العربیة السعودیة: دار الصمیعی، بی­تا.
  10. دهقانی، سید جلال، سیاست خارجی جمهوری اسلامی ایران، تهران، سازمان مطالعه و تدوین کتب علوم انسانی دانشگاهها (سمت)، چاپ چهارم، 1391ش.
  11. سجادی، صادق، دائرة المعارف بزرگ اسلامی / آل سعود، بی­جا: مرکز دائرة المعارف بزرگ اسلامی، 1367ش.
  12. سعید سلیمان، احمد، تاریخ الدول الاسلامیة و معجم الاسر الحاکمیة، مصر: بی­نا، 1969م.
  13. عثیمین، محمد بن صالح، القول المفید علی کتاب التوحید، عربستان سعودی: دار ابن الجوزی، چاپ دوم، 1424ق.
  14. الگارد، حامد، وهابیگری، ترجمه: حسین صابری، مشهد: بنیاد پژوهش­های آستان قدس رضوی، 1386ش.
  15. لنچافسکی، ژرژ، تاریخ خاورمیانه، ترجمه: هادی جزایری، تهران: بی­نا، 1377ش.
  16. لوتسکی، ولادیمیر، تاریخ عرب در قرون جدید از قرن شانزدهم میلادی تا پایان نخستین جنگ جهانی، ترجمه: پرویز بابایی، تهران: بی­نا، 1356ش.
  17. میرزائی، علیرضا، بازنگری مفاهیم قابل تامل اندیشه­های محمد قطب در پرتو سلفی­گری اعتدالی و اعتزال نوین، پژوهش­نامه مذاهب اسلامی، سال اول، شماره دوم، زمستان 1393ش.

. 19https://fa.wikipedia.org/wiki/.18مداخله_نظامی_در_یمن_به_رهبری_عربستان_سعودی

. 20https://www.avapress.com/fa/report/121864/.19گاردین-ارتباط-عربستان-داعش-آشکار

. 21https://www.fardanews.com/fa/news/92923/.20آمار-تعداد-مسلمانان-در-جهان

 https://fa.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D9%87%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%B3%21

D9%84%D8%A7%D9%85

 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

[1]. دانش پژوه سطح چهار کلام اسلامی گرایش نقد وهابیت، پژوهشگر موسسه دارالاعلام لمدرسة اهل البیت علیهم السلام و دانشجوی کارشناسی ارشد رشته علوم سیاسی در دانشگاه باقرالعلوم علیه السلام.

[2]. اس سے مراد یہ نہیں کہ وہابیت اسلام کے بارے میں سیکولر سٹڈی رکھتی ہے اور دین اور سیاست کے درمیان جدائی کی قائل ہے، کیونکہ بنیادی طور پر اسلام کے بارے ایسی سٹڈی جو ایک سیاسی نظام ہونے کا باعث بنے، کبھی بھی ایک سیکولر سٹڈی نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہابی اسلام جو لوگوں کو توحید قصوری اور صاحبان قصر اور فاسد حکام کے خلاف قیام کی طرف بلانے کی بجائے انکو توحید قبوری اور قبروں کے مقابلے میں کھڑا کیا ہے۔ اس بنا پر غیر سیاسی اسلام سے مراد وہ اسلام ہے جس میں توحید در عبادت پر تاکید ہو نہ کہ توحید در حاکمت۔

[3]. عثیمین، محمد بن صالح، القول المفید علی کتاب التوحید، ج 1، ص 15 _ 14؛ بن فوزان، صالح، اعانة المستفید بشرح کتاب التوحید، ج1، ص 11؛ بن باز، عبدالعزیز و عثیمین، محمد بن صالح، فتاوی مهمة لعموم الامة، ص 8؛ خميس، محمد بن عبدالرحمن، اصول الدین عند الامام ابی حنیفه، ص 220.

[4]. تعبیر "توحید قبوری اور قصوری" محمد قطب کے انٹرویوز اور ملاقاتوں میں بیان ہوئی ہے اور اس کے کسی بھی مکتوب اثر میں درج نہیں ہے۔ آغا علیرضا میرزائی اپنے ایک مقالے بنام "بازنگری مفاھیم قابل تامل اندیشه هاى محمد قطب در پرتو سلفی گری اعتدالی اعتزال نوین" کے ذیل میں لکھتا ہے: میں نے "آیت اللہ سید ہادی خسروشاہی اور دکتر علیرضا موسوی سے ایک ملاقات میں اس تعبیر (توحید قبورى وقصوری) کے اصل منبع کے بارے میں پوچھا۔ دونوں محقیقن ارجمند نے تصدیق کی کہ اس جملے کو سعودی عرب میں محمد قطب کے ساتھ ملاقات میں اس سے سنا ہے"

. [5]عثیمین، محمد بن صالح، القول المفید علی کتاب التوحید، ج1، ص 15 _ 14؛ بن فوزان، صالح، اعانة المستفید بشرح کتاب التوحید، ج1، ص 11؛ بن باز، عبدالعزیز و عثیمین، محمد بن صالح، فتاوی مهمة لعموم الامة، ص 8؛ خمیس، محمد بن عبدالرحمن، اصول الدین عند الامام ابی حنیفة، ص 220.

[6]. بن عبدالوهاب، محمد، تعلیم الصبیان التوحید، ص 2؛ بن عبدالله بن محمد بن عبدالوهاب، سلیمان، التوضیح عن توحید الخلاق فی جواب اهل العراق و تذکرة اولی الالباب فی طریقة شیخ محمد بن عبدالوهاب، ص 90.

[7]. بن حسن بن محمد بن عبدالوهاب، عبدالرحمن، المورد العذب الزلال فی کشف شبه اهل الضلال، ص 300؛ آل شیخ، عبداللطیف بن عبدالرحمن، مصباح الضلام فی الرد علی من کذب الشیخ الامام و نسبه الی تکفیر اهل الایمان و الاسلام، ج 1، ص 211.

[8]. الگارد، حامد، وهابیگری، ص 45.

[9]. مزيد مطالعے كے لئيے ر.ک: دهقانی، جلال، سیاست خارجی جمهوری اسلامی ایران، ص 13 _ 57.

[10]. ايضا، ص 61.

[11]. مزيد مطالعے كے لئيے ر.ک: ویکی پيڈیا / دانشنامه آزاد، مداخله نظامی در یمن به رهبری عربستان سعودی، لینک:

https://fa.wikipedia.org/wiki/مداخله_نظامی_در_یمن_به_رهبری_عربستان_سعودی.

[12]. " گارڈین: سعودیہ کا داعش کے ساتھ تعلقات واضح ہیں۔"، خبرگزرای صدای افغان (آوا)، 4 دلو 1394، لینک:

https://www.avapress.com/fa/report/121864/گاردین-ارتباط-عربستان-داعش-آشکار

[13]. دهقانی، جلال، سیاست خارجی جمهوری اسلامی ایران، ص 81.

[14]. ايضا.

[15]. دنیا میں مسلمانوں کی تعداد، ویب سایٹ خبری فردا، 17 مهر 1388، لینک:

https://www.fardanews.com/fa/news/92923/آمار-تعداد-مسلمانان-در-جهان

[16]. جهان اسلام، ویکی پيڈیا ، لینک:

https://fa.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D9%87%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85

[17]. تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ سعودی عرب کا بادشاہی نظام بریطانیہ کا خلافت عثمانی کے ساتھ ملاقات اور اس ملک کا آل سعود کی حمایت کا نتیجہ ہے۔ (الگارد، حامد، وهابیگری، ص 39 _ 43؛ سجادی، صادق، دائرة المعارف بزرگ اسلامی / مدخل آل سعود، ج2، ص 39 _ 24).
عبد العزیز بن عبد الرحمن بن فیصل جو کہ ملک عبد العزیز کے نام سے معروف ہے، سعودی عرب کی بنیاد رکھنے والا اور اس کا پہلا بادشاہ ہے جو ریاض پر ابن رشد کے کنٹرول کے بعد اپنی جان بچانے کے لیئے ملک کویت فرار کر گیا اور شیخ مبارک سکنی کے پاس پناہ لی (لوتسکی، ولادیمیر، تاریخ عرب در قرون جدید از قرن شانزدهم میلادی تا پایان نخستین جنگ جهانی، ص 534).

برطانیہ جس کا ہدف عثمانی خلافت کے خلاف عرب قبائل سے فائدہ اٹھانا تھا، نے  دوبااثر افسروں توماس ادوار لارنس اور ویلیام شکسپیر کو شبہ جزیرہ سعودی عرب کے دو موثر خاندانوں یعنی آل سعود اور مکہ کے بزرگان کے پاس بھیجا۔ توماس شریف حسین اور شکسپیر ملک عبد العزیز کے پاس چلا گیا اور ملک عبد العزیز اور ابن رشد کے درمیان جنگ میں اس کے قتل کے بعد اس کی جگہ سنٹ جان فیلبی آیا (الگارڈ، حامد، وهابیگری، ص 39 _ 43؛ سجادی، صادق، دائرة المعارف بزرگ اسلامی / مدخل آل سعود، ج 2، ص 39 _ 24).
برطانیہ نے ان دو افسروں کے زریعے ان دو افراد یعنی ملک عبد العزیز اور شریف حسین کو خلافت عثمانی کی شکست کے بعد شبہ جزیرہ سعودی عرب کی بادشاہت دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس وعدے اور برطانیہ کی حمایت کے نتیجے میں ملک عبد العزیز نے سال 1319ھ کو ریاض پر قبضہ کیا  (سعید سلیمان، احمد، تاریخ الدول الاسلامیة و معجم الاسر الحاکمیة، ج 1، ص 225).
اور سال 1322ھ۔ق میں سعودی مملکت کو سابقہ بونڈری کی  طرف پلٹا دیا  (لوتسکی، ولادیمیر، تاریخ عرب در قرون جدید از قرن شانزدهم میلادی تا پایان نخستین جنگ جهانی، ص 536 _ 537). سال 1323ه.ق ميں آل رشید كو بهى برى طرح شكست دى. (ايضا).
سال 1323ھ۔ق میں، شریف حسین نے اپنی ناپختہ فکر کے زریعے خود کو تمام مسلمانوں کا خلیفہ قرار دیا  (الگارڈ ، حامد، وهابیگری، ص 39 _ 43؛ لنچافسکی، ژرژ، تاریخ خاورمیانه، ص 438).
نتیجے میں ملک عبد العزیز نے کمیٹی خلافت اسلامی ہندوستان جو کہ برطانیہ کے زیر اثر تھی، کے دستور سے اس کے ساتھ جنگ کی۔ (الگارڈ، حامد، وهابیگری، ص 39 _ 43؛ سجادی، صادق، دائرة المعارف بزرگ اسلامی/ مدخل آل سعود، ج 2، ص 39 _ 24).
اشراف مکہ کی شکست کے بعد، ابن سعود سال 1344ھ۔ق میں حجاز، نجد اور ان کے اطراف کا سلطان بن کر تخت سلطنت پر بیٹھا (ایضا) .
سال 1352ھ۔ق کو عبد العزیز کے زیر تسلط سرزمینوں کو یکجا کرنے کا حکم صادر ہوا اور بادشاہی مملکت سعودی عرب کی بنیاد رکھی گئی۔ (ایضا) .
برطانیہ ہمیشہ سعودی عرب کا بیرونی حامی رہا ہے، یہاں تک کہ آل سعود نے تیل  كى ثروت  حاصل کی، اور تیل کی بنیاد پر امریکہ اور سعودیہ کے درمیان اقتصادی ہمکاری شروع ہوگئی اور بریطانیہ نے اپنی جگہ امریکہ کو دے دی اور یہ ملک سعودیہ کا نیا حامی بن گیا۔ (الگارڈ، حامد، وهابیگری، ص 42).
اسی بنا پر سعودیہ ہمیشہ مغربی ممالک خصوصا برطانیہ اور امریکہ پر تکیہ کرتا ہے اور اپنی امنیت کو بڑی طاقتوں کے ساتھ اتحاد کی مرہون منت قرار دیتا ہے۔
در نتیجہ، اگر سعودی عرب جہان اسلام کی ام القری بننے کا منصب حاصل کرتا ہے، تو اس جہان کو عالمی استکبار اور بڑی طاقتوں کے ساتھ اتحاد کے راستے میں قرار دے گا۔

 

. مزيد مطالعے كے لئيے ر.ک: ال شیخ، محمد بن ابراهیم، فتاوی و رسائل سماحة الشیخ محمد بن ابراهیم بن[18]  عبداللطیف آل شیخ، ج 12، ص 169؛ بن باز، عبدالعزیز بن عبدالله، مجموع فتاوی، ج 7، ص 118.

[19]. مزيد مطالعے كے لئيے ر.ک: بن حسن بن محمد بن عبدالوهاب، عبدالرحمن، المورد العذب الزلال فی کشف شبه اهل الضلال، ص 300؛ آل شیخ، عبداللطیف بن عبدالرحمن، مصباح الضلام فی الرد علی من کذب الشیخ الامام و نسبه الی تکفیر اهل الایمان و الاسلام، ج 1، ص 211.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ