پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا مشہد کا دورہ اور امام رضا(ع) کی زیارت سے کیا مطلب نکالا جائے؟ کیا وہ اس زیارت کے ذریعہ تکفیری سلفیوں کو کوئی پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟

 

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ایک اعلی سطحی وفد کے ساتھ  اسلامی جمہوریہ  ایران کے عہدیداروں سے ملاقات کے لیے سفر کیا، انہوں نے اپنے سفر کے آغاز امام رضا علیہ السلام کی زیارت سے کیا، اس سے یہ ظاہر ہوا کہ وہ سلفی نقطہ نظر سے متفق نہیں ہیں، کیونکہ سلفی پیغمبر اکرم(ص) اور اهل بیت(ع) کی زیارت اور ان سے توسل و تبرک کو شرک گمان کرتے ہیں۔

اپنے حالیہ دورۂ ایران کے دوران، پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے سب سے پہلے امام رضا کی زیارت کی اور آٹھویں امام کی ضریح مقدس کو بوسہ دے کر ائمۂ اطہار(ع) سے اپنی دلی عقیدت کا اظہار کیا۔ جب وہ مشہد ائیرپورٹ پہنچے تو انہوں نے مشہد کے گورنر سے کہا:«ہر صاحب ایمان مسلمان، بطور یقینی پیغمبر اسلام(ص) اور ان کے اهل بیت(ع) سے محبت اور عقیدت رکھتا ہے اور میں بھی ہمیشہ سے ہی چاہتا تھا کہ مشہد میں فرزند حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی زیارت کروں۔»[خبرگزاری اسپوتنیک انتشار: 21/04/ 2019.]

پاکستانی وزیر اعظم کا ایران کی طرف یہ  پہلا دورہ تھا، سفر کے آغاز میں، وہ مشہد گئے اور امام رضا(ع) کی زیارت کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام سے ملاقات کے لئے تہران کا سفر کیا۔

عمران خان حنفی اهل سنت میں سے دیوبندی مسلک کے پیروکار ہیں، ان کے اس عمل نے ثابت کردیا ہے کہ وہ  سلفی طرز عمل کے مخالف ہیں، سلفی سمجھتے ہیں کہ زیارت،توسل، اور تبرک مشرکانہ عمل ہے، جبکہ کتاب و سنت کی گواہی کے مطابق ایسی چیزیں جائز ہیں۔

ایک ایسا انسان کہ جو اہل بیت سے محبت کا دعوی کرتا ہے اس عملی طور پر بھی اپنی محبت کا ثبوت دینا پڑتا ہے؛ ضریح کو چومنا اور ائمہ اهل بیت(ع) کی زیارت اهل بیت(ع) سے محبت کی نشانی ہے۔

[1]. خبرگزاری اسپوتنیک، عمران خان: «امیدواریم امکان سفر زمینی زائران پاکستانی به مشهد فراهم شود»، تاریخ انتشار: 21/04/ 2019.

تحریر: مجتبیٰ محیطی

ترجمہ و تحقیق: سیدلیاقت علی

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ