علامہ عسکری شیعہ بزرگ علماء میں سے ہیں۔ مذاہب اسلامی کے بارے میں ان کی قیمتی کتابیں ہیں جن میں سے "معالم المدرستین"، "نقش ائمہ در احیای دین"، "عبد اللہ بن سبا افسانہ یا واقعیت" ،"150  جعلی صحابہ" وغیرہ کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کچھ عرصہ عراق میں گزارا۔ وہ عراق میں انقلاب اسلامی ایران کے ابتدائی ایام میں تھے۔
مصنف :  رائٹر: مجتبی محیطی ترجمہ: مظاہر علی

حوالہ: ترجمہ معالم المدرستین، عسکری، سید مرتضی، انتشارات دانشکدہ اصول الدین، ج1، ص30-31۔
علامہ عسکری کا انقلاب اسلامی کی حمایت اور مختلف مذاہب کے علماء کے درمیان تحریک اسلامی ایران کو بیان کرنے میں بڑا کردار ہے۔ انہوں نے اسلام کے بزرگ علماء سے بہت سى ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں انہوں نے جمہوری اسلامی ایران کی عدالت خواہ تحریک پر روشنی ڈالی ہے۔ جس طرح سے علامہ عسکری نے نقل کیا ہے کہ انقلاب کے ابتدائی دنوں میں وه مکہ کی طرف ایک سفر پر نکلے جس میں اسلامی دنیا کی بڑی شخصیات سے ملاقات کی جن میں سے سعید رمضان البوطی از علمائے شام، محمد آدم رئیس نہضت ارتیرہ، ابو الحسن ندوی، ابو الاعلی مودودی سربراہ جماعت اسلامی پاکستان وغیرہ کے ساتھ انجام پانے والی ملاقاتوں کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔
لیکن شیخ عبد العزیز بن باز معروف وہابی مفتی اور مدینہ یونیورسٹی کے صدر سے ان کی ملاقات  ايك دلچسپ کہانی رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے علامہ عسکری کی زبان سے یہ کہانی سننے کے لیئے آپ کو دعوت دیتے ہیں۔
علامہ عسکری نے اس کہانی کو کتاب معالم المدرستین کے شروع میں ذکر کیا ہے، کہانی یوں ہے:

جب ہم مدینہ میں تھے تو ہماری اسلامی تنظیموں کے ساتھ ملاقاتوں کی خبر عبد العزیز بن باز تک پہونچ گئی۔ اس سے کہا گیا تھا کہ علمائے بغداد میں سے ایک عالم اس طرح کے اوصاف کے ساتھ مدینہ منورہ میں موجود ہے۔ اس نے مجھے مکتب پیروان خلفاء سے سمجھا اور خواہش کی کہ میں مدینہ میں تازہ بننے والی یونیورسٹی کا وزٹ کروں اور  اس نےیونیورسٹی کی گاڑیاں بھیج دیں تاکہ ہمیں بغداد کے علماء، مفکرین اور اپنے معتمد افراد کے ساتھ وہاں لے چلیں۔ یونیورسٹی کے اساتذہ ایک بڑی بلڈنگ میں ہماری ملاقات اور استقبال کے لیئے جمع تھے۔ طلباء کا ایک گروہ بھی ہمیں دیکھنے کے لیئے عمارت کی کھڑکیوں کے پاس موجود تھا۔ مطلوبہ جگہ پہونچنے کے بعد، خدا کی حمد وثنا بجا لائی اور اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ کی تاسیس کی خاطر علمائے عراق کی طرف سے انہیں تبریک وتہنئت عرض کی اور کہا: رسول خدا جب اس سرزمین میں داخل ہوئے تو مسلمان مہاجر اور انصار کے درمیان اخوت کا پیمان باندھا اور عظیم اسلامی معاشرے کی بنیاد اسی اخوت پر رکھی اور آپ ابھی 45 ممالک سے طلباء جو یہاں تشریف لائے ہیں، رکھنے کے باوجود بھی آنحضرت (ص) کی اقتدا نہیں کر سکتے اور اس واضح خدمت کو اسلام اور مسلمانوں کے لیئے پیش نہیں کر سکتے جسکی آج مسلمان شدید محتاج ہیں۔ کیونکہ وہ ہر جگہ دشمن کافر استعمار کے رو برو ہیں۔ بعض ڈائرکٹ اس کی سازشوں کے شکار ہیں اور بعض اس کے زیر تسلط مزدوروں کے نفوذ کے ماتحت ہیں اور  مسلمانوں نے اس استعمار اور اسکے فضلہ خوروں سے مقابلہ شروع کیا ہے۔ یہ الجزائر ہے کہ جس کے مسلمان فرانس کے ساتھ مشکل میں ہیں۔ اور جو ان پر گزرتی ہے وہ قابل توصیف نہیں۔ ارتیرہ کے انقلابی ہیلاسلاسی بادشاہ حبشہ کے خلاف برسرپیکار ہیں اور جو ان ہر گزرتی ہے  وه قابل بیان نہیں اور ایران میں مسلمان علماء طاغوت اور استعمار کے خلاف جہاد کر رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ روئے زمین پر بے رحم ترین کافر استعمار کو پرے پھینک دیں اور اسلامی احکام کو اسلامی ملک کی طرف پلٹا دیں جسکی وجہ سے ان پر یہ مشکلات آگئیں۔۔۔۔۔۔
میں نے یہ باتیں مسلمانوں کے درمیان تفرقہ کے نقصان پر تفصیلی گفتگو کے بعد کہیں اور مثالیں بیان کیں اور اپنی بات ختم کی اور میزبان "بن باز" کی گفتگو کی باری آگئی۔ وہ نابینا تھا اور اسے ابھی تک پتہ چل چکا تھا کہ میں مکتب اہل بیت سے تعلق رکھتا ہوں، اپنا گلہ صاف کیا اور صرف ایک جملہ کہا: "تم مشرک ہو۔ اسلام لے آو اور اس کے بعد مسلمانوں سے چاہو کہ تمہارے ساتھ متحد ہوجائیں"۔
عبد العزیز بن باز کی بات سے میرا خون کھولنے لگا اور اس کے ساتھ تفصیلی بحث ومناقشہ کیا جس کو یہاں پر ذکر کرنا مورد نظر موضوع سے خارج ہے۔  
یہ حکایت، اسلامی دنیا کے مسائل کے بارے میں شیعہ اور وہابی علماء کی نظر کے درمیان فرق کو آشکار کرتی ہے۔ ابھی فیصلہ آپکے ہاتھ میں ہے!

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ