حوالہ :  /urdu.shafaqna.com

 

شام  کےدارالحکومت دمشق کی مسجد الوسیم کے امام ’’شیخ عبداللہ قطام ‘‘نے ایک بیان میں 13 ویں اور14ویں صدی کے دوران تکفیری مولویوں کی طرف سے انتہاپسندانہ نظریات کی ترویج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ تقی الدین ابن تیمیہ کے نظریات عالم اسلام میں انتہاپسندی کا منبع ہے۔

 انہوں نےکہاکہ تکفیری رجحان اوراس کے حامی مولویوں کی مذہبی تصورات کی غلط تشریحات اسلام اورمسلمانوں کیلئے سب سے بڑے دشمن بن گئے ہیں۔

 انہوں نےکہاکہ عالم اسلام میں نوجوانوں کے درمیان انتہاپسندی اورتکفیری فتوؤں کی ترویج سے آج  دنیا میں اسلام کو بدنام کیاجارہا ہے۔

 انہوں نے مذہب کے سیاسی استحصال کو غلط قراردیتے ہوئے کہاکہ صیہونی رژیم نے مسلمانوں کے خلاف مسلح جد جہد چھیڑ رکھی ہےاورعراق ،شام اورمصر جیسے اسلامی ممالک کو تقسیم کرنے کیلئےفرقہ واریت کی بیج بونے کی کوشش کررہی ہے۔

 انہوں نے انتہاپسندوں اوروہابی دہشتگردوں کو صیہونی رژیم کے آلہ کارقراردیتے ہوئے کہاکہ صیہونی دشمن ،وہابی اورانتہاپسند گروہوں کے ذریعے اسلامی ممالک میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے اس لئے مسلمانوں اوراسلامی حکومتوں کو دشمنوں کی ہرسازش سے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔

 انہوں نے زوردیتے ہوئےکہاکہ اسلام رحمت وامن کا ایسا دین ہے جو ہرطرح کے تشدداورمعصوم لوگوں کے قتل عام،جارحیت اورتباہی کی مذمت کرتاہے۔

 انہوں نےکہاکہ پیغمبراکرم (ص)نے دین مبین اسلام کو رحم دلی امن وسلامتی دوستی وبھائی چارے کے دین کے طورپر متعارف کرایا۔

 شیخ عبداللہ قطام نے اسلامی ممالک اورمذہبی شخصیات سے تکفیری نظریات اورجھوٹے فتوؤں کو مستردکرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اسطرح کے نظریات اورانتہاپسندانہ فتوؤں کی ترویج کو روکنے کیلئے ہمیں فوجی ،سیاسی اوردیگر تمام متبادل پر بھی عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

 شام کے اس معروف عالم دین نے تکفیری نظریات اورجھوٹے فتوؤں کو روکنے میں عدم سنجیدگی کو عالم اسلام کا بنیادی مسئلہ قراردیتے ہوئے کہاکہ بدقسمتی سے اسلامی اسکالراپنے اوراپنے ممالک کے مفادات کے تحٖفظ میں سنجیدہ ہیں اورانہیں دیگر اسلامی حکومتوں اورمسلمانوں کی کوئی پرواہ نہیں ۔

 انہوں نےمزیدکہاکہ مذہبی شخصیات کو یہ جان لینا چاہےکہ اگرایک اسلامی ملک دوسرے ملک پر حملہ کرتا ہے تواس کاالٹا اثرجارح

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ