تکفیری وہابیوں نے اسلامی تعلیمات سے جو گمراہ کن مطالب اخذ کیے ہیں ان میں سے ایک توسل ہے۔
حوالہ :  tasnimnews.com/ur

توسل لغت میں کسی چیز یا شخص کو وسیلہ قرار دینا ہے۔ اصطلاح میں توسل سے مقصود یہ ہے کہ کسی چیز یا شخص کو خدا کے نزدیک وسیلہ قرار دے تاکہ خدا سے اس کے قرب کا وسیلہ بنے۔ قرآن اور دینی کتب میں توسل کی تعریف، پروردگار کی بارگاہ سے قریب ہونے کے لیے کوئی وسیلہ تلاش کرنا ہے۔

 تکفیری گروہ اور وہابی تحریک پیغمبر اور ائمہ علیھم السلام کو خدا کے نزدیک وسیلہ قرار دینے کو حرام اور شرک کے مصادیق میں سے قرار دیتے ہیں۔ ان کی نظر میں اولیاء اور انبیاء سے توسل ایک ایسا امر ہے کہ جو شریعت میں موجود نہیں تھا اور یہ بدعت سمجھا جاتا ہے۔ محمد بن عبدالوہاب توسل کے حرام ہونے کے بارے میں کچھ یوں کہتا ہے: "جو لوگ فرشتوں، پیغمبروں اور اولیائے خدا سے توسل کرتے ہیں اور انہیں اپنا شفیع قرار دیتے ہیں اور ان کے وسیلے سے خدا کا تقرب حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان کا خون حلال اور ان کا مال مباح ہے"۔

 سعودی عرب کا سابق مفتی شیخ عبدالعزیز بن باز توسل کو جائز نہیں سمجھتا ہے اور اسے بدعت اور ایک شرک آلود عمل قرار دیتا ہے۔ مفتی سعودی عرب شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل شیخ کہتا ہے توسل کے حرام ہونے کی دلیل یہ ہے کہ موت کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رابطہ اس دنیا سے منقطع ہو جاتا ہے وہ کسی کے لیے دعا نہیں کر سکتے اور کسی بھی کام کو انجام دینے سے عاجز ہیں۔ اس بنا پر ایک عاجز شخص سے توسل کرنا عقلی طور پر باطل اور شرک کا موجب ہو گا۔

 تکفیری گروہ داعش توسل کا غلط معنی و مطلب سمجھنے کی بنا پر اس وجہ سے کہ  شیعہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اولیائے خدا سے توسل کرتے ہیں، ان کے خون کو مباح سمجھتے ہیں۔ داعش کا سابق ترجمان محمد العدنانی اس بارے میں کہتا ہے: "شیعوں کو قتل کر دینا چاہیے۔ وہ عباس اور فاطمہ سے توسل کرتے ہیں۔ وہ مشرک ہیں۔ ان کے گھروں میں گھس جاؤ اور ان کے سر تن سے جدا کر دو"۔

 تکفیری وہابی صرف اسمائے الہی کو خدا سے تقرب کا وسیلہ سمجھتے ہیں اور دیگر وسیلوں سے توسل کو شرک قرار دیتے ہیں جبکہ قرآن کریم اور پیغبمر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بہت سی روایات میں توسل کی تاکید کی گئی ہے۔

 قرآن کریم کی آیات سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کی بارگاہ میں ایک صالح اور نیک انسان کے مقام و مرتبے کو وسیلہ قرار دینا اور اس ذریعے سے خدا سے اپنی نیاز اور حاجت کے پورا ہونے کی درخواست کرنا، توحید سے کسی بھی طرح منافات نہیں رکھتا۔ خداوند عالم سورہ مائدہ کی آیت پینتیس میں اپنا تقرب حاصل کرنے کے لیے وسیلہ تلاش کرنے حکم دیتا ہے۔

 "اے ایمان والو! خدا سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ"۔

 ایک اور نمونہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں کا اپنے والد سے توسل ہے کہ جو سورہ یوسف کی آیات ستانوے اور اٹھانوے میں آیا ہے: "انہوں نے کہا! اے بابا ہمارے گناہوں کے لیے مغفرت طلب کیجیےکہ بے شک ہم گناہ گار تھے"۔ یعقوب نے کہا کہ میں عنقریب اپنے پروردگار سے تمہارے لیے مغفرت طلب کروں گا بےشک وہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔

 یہ آیات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی خدا کے نزدیک اپنے گناہوں کی مغفرت کے لیے کسی وسیلے کی تلاش میں تھے۔ انہوں نے اپنے والد سے کہ جو بارگاہ الہی میں مقرب تھے، یہ درخواست کی کہ وہ خدا کے سامنے ان کی شفاعت کریں اور ان کے لیے مغفرت طلب کریں۔ حضرت یعقوب خدا کے پیغمبر تھے، انہوں نے اس شفاعت کو رد نہیں کیا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ تمہاری یہ درخواست عین شرک ہے۔ تم خود خدا کے گھر جاؤ اور اس سے دعا کرو کہ تمہارے گناہ معاف کر دے بلکہ اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ میں عنقریب خدا سے تمہارے لیے طلب مغفرت کروں گا۔

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ