اسلام ٹائمز: حضرت عمر بن عبدالعزیز جو اموی بادشاہ تھے، جنہوں نے امام علی علیہ السلام پر ہونیوالے سب و شتم کو ختم کیا، جسکی بنیاد معاویہ نے رکھی تھی۔ انکے مزار کو اس پلید لشکر داعش نے مسمار کیا اور اس سانحے کے 5 ماہ بعد آج انہی کے ہمفکر لوگ اب انکے مزار کو خراب کرنیکا الزام اہل تشیع پر لگا کر فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ دنیا جانتی ہے کہ مزارات کو خراب کرنا وہابیوں کا عقیدہ ہے، نہ کہ اہل سنت و اہل تشیع کا۔ یہ کام انکے لشکر داعش نے 25 جنوری کو انجام دیا، اب اس سانحے کو اٹھا کر تشیع پر الزام لگانے کی ایک وجہ یہ ہے کہ جنت البقیع کو ڈھانے کے اپنے منحوس اقدام کی پردہ پوشی کرسکیں اور دوم یہ کہ فرقہ وارانہ ماحول کو تقویت ملے۔
حوالہ :  islamtimes.org
مصنف :  مظفر حسین کرمانی

 

آل سعود خاندان جو سلطنت عثمانیہ کے خاتمے پر اس سرزمین پاکیزہ پر مسلط ہوا، اس خاندان کو اس سرزمین حجاز میں قابض کرنے میں اس وقت کے استعمار برطانیہ کا بڑا ہاتھ ہے، جن کی خواہش تھی کہ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہو اور ان کے مختلف علاقوں پر جہاں ان کی حکومت کا دائرہ پھیلا ہوا تھا، وہاں ہرج و مرج پیدا ہو۔ سرزمین حجاز کے لئے اس شیطانی گروہ نے اس پلید خاندان آل سعود کا انتخاب کیا، کیونکہ یہ خاندان عبدالوہاب کے نظریات کا حامل تھا اور عبدالوہاب وہ شخص ہے، جس نے ابن تیمیہ کے باطل نظریات کا پرچار کیا، جس نے پہلی بار آکر 7 ہجری میں ایسے عقائد پیش کئے، جو کہ گمراہ کن تھے۔ اس وقت کے اہل سنت و شیعہ علماء نے اسے ایک منحرف شخص قرار دیا۔

 اس کے ان انحرافی عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ تھا کہ بزرگان دین سے شفاعت طلب نہیں کی جاسکتی، قبور پر جانا حرام ہے۔ ان عقائد کو لیکر آل سعود نے ایک تاریخی قبرستان جو کہ جنت البقیع کے نام سے معروف ہے، جہاں اسلام کی نمایاں شخصیات کے مزارات مقدسہ تھے، ان پر بلڈوزر چلا کر انہیں مسمار کر دیا اور وہاں جانے پر پابندی عائد کر دی۔ وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرقد مقدس کو بھی مسمار کرتے مگر چونکہ انہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کی جانب سے غم و غصے کا خطرہ تھا، اس لئے اسے انہوں نے باقی رکھا۔ اس سرزمین کے تاریخی نام حجاز کو بدل کر اپنے خاندان آل سعود کے نام پر سعودی عرب رکھ دیا۔ یہی نہیں بلکہ توحید کو ایک کوڑا بنا کر سب پر برسانے لگے اور اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو کافر و مشرک قرار دیکر ان کا قتل عام کرنا جائز قرار دیا اور فقط اس فتوے پر باقی نہیں رہے، بلکہ اپنی اس منحوس فکر کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جہادی لشکر تیار کئے۔

 یہ جہادی لشکر مختلف ممالک میں مختلف ناموں سے بنائے گئے، ان کا بنایا سب سے بڑا جہادی لشکر جسے داعش کا نام دیا گیا اور ان کا ہدف عراق و شام پر قابض ہو کر ایک حکومت قائم کرنا تھی۔ 2014ء میں انہوں نے اپنا اظہار وجود کیا اور عراق و شام پر چڑھ دوڑے۔ لاکھوں کی تعداد پوری دنیا سے ان جہادیوں کو جمع کیا گیا، جنہوں نے عراق و شام می‍ں جو جرائم کئے، وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ ہزاروں بیگناہ مسلمانوں و غیر مسلم کو موت کے گھاٹ اتارا۔ ہزاروں عورتوں کی عصمت دری کی، شام کے علاقے رقہ کو اپنا دارالحکومت قرار دیکر وہاں کی عورتوں کو مختلف ممالک میں بیچا گیا۔ عراق و شام کے معدنی ذرائع و خصوصاً تیل کو ان سے لیکر امریکہ، اسرائیل، ترکی و سعودیہ نے دنیا کو بیچا۔۔۔

 اس منحوس لشکر کی ایک جنایت مزارات مقدسہ کو خراب و مسمار کرنا تھا۔ انہوں نے دمشق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے مزار پر حملے کئے اور اسے خراب کیا، مگر حزب اللہ و دیگر مقاومتی لشکروں کی مزاحمت کے باعث یہ اپنے شوم مقصد میں مکمل کامیاب نہ ہو پائے، لیکن ادلب کے علاقے میں چونکہ یہ مکمل کنٹرول حاصل کرچکے تھے، لہذا انہوں نے صحابی رسول حضرت حجر بن عدی علیہ السلام کے مرقد مطہر کو بم سے اڑایا اور ان کے مزار کی توہین کی۔

 حضرت عمر بن عبدالعزیز جو اموی بادشاہ تھے، جنہوں نے امام علی علیہ السلام پر ہونے والے سب و شتم کو ختم کیا، جس کی بنیاد معاویہ نے رکھی تھی۔ ان کے مزار کو اس پلید لشکر داعش نے مسمار کیا اور اس سانحے کے 5 ماہ بعد آج انہی کے ہمفکر لوگ اب ان کے مزار کو خراب کرنے کا الزام اہل تشیع پر لگا کر فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ دنیا جانتی ہے کہ مزارات کو خراب کرنا وہابیوں کا عقیدہ ہے، نہ کہ اہل سنت و اہل تشیع کا۔ یہ کام ان کے لشکر داعش نے 25 جنوری کو انجام دیا، اب اس سانحے کو اٹھا کر تشیع پر الزام لگانے کی ایک وجہ یہ ہے کہ جنت البقیع کو ڈھانے کے اپنے منحوس اقدام کی پردہ پوشی کرسکیں اور دوم یہ کہ فرقہ وارانہ ماحول کو تقویت ملے۔ تمام مسلمانوں کو بصیرت کا مظاہرہ کرنے و ان شیاطین کی چالوں سے آگاہ رہنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم ان کے بہکاوے میں آکر آپس میں دست و گریباں نہ ہوں، جو کہ ان کی دیرینہ آرزو ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں ميں اتحاد و اتفاق قائم فرمائے۔آمین

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ