اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ یہ اخوت اور بھائی چارے کا دین ہے۔ یہ باہمی برابری اور باہمی برادری کا درس دیتا ہے۔ یہ مسلمانوں کی جان و مال و ناموس کا تحفظ کرتا ہے۔ جو شخص کلمہ توحید و رسالت کے تحت اس میں داخل ہوتا ہے یہ اس کی جان و مال اور ناموس کو تحفظ دیتا ہے۔
حوالہ :  اختصاصی سایت الوهابیه
مصنف :  محمد فرقان گوہر


یہی وہ دین ہے جو ہمیں عقل و فکر و تدبر کی دعوت دیتا ہے۔ تقلید و جمود سے چھٹکارے کا اصول دیتا ہے۔ یہ وہی اسلام ہے جس نے ایک مسلمان کو تمام بت پرستیوں سے آزاد کر کے ایک خالق کے دروازے پر جھکنا سکھایا۔
یہ وہی اسلام ہے جس کا رسول( ص) ایک بڑھیا کو دلاسہ دینے کے لیے اپنی انسانی حیثیت کا تعارف عام انسان کی سطح پر کرواتا نظر آتا ہے۔
اسلام ہی کے بنیادی اصول کے تحت اس کے دائرہ میں داخل ہونے والے تمام مسلمان برابر ہیں۔ ہاں جو لوگ اس میدان میں سابقین/پہل کرنے والے تھے انہیں خداوند اجر دے گا۔ اگر انہوں نے کوئی علمی خدمات انجام دی ہیں تو انہیں یاد رکھا جائے گا۔ انکا احترام کیا جانا ضروری ہے۔
لیکن اس سے آگے جتنا کچھ ہے وہ سب مقدس مآبی کا ایسا گھناونا کھیل ہے جس کی آڑ میں پورے اسلامی معاشرے کو جمود و محدودیت کی دلدل میں پھنسا یا جا رہا ہے۔ اسے ایک آزاد مسلمان کے طور پر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کر رہا ہے۔
اسی تقدس کی بنیاد پر، وہ ماضی میں اسلاف کے لیے تقدس تراشتا اور حقائق کو چھپاتا نظر آتا ہے، اسے اپنی ہی تاریخ سے خیانت کرنا پڑتی ہے، اسے کہیں یہ نظر نہیں آتا کہ صحابہ جب ایک دوسرے کا نام لیتے تو حتما ساتھ میں رضی اللہ عنہ یا علیہ السلام کا دعائیہ جملہ بھی کہنا ہوتا۔ جب ایک عام آدمی دیکھتا ہے کہ اسے امام مالک، شافعی، ابوحنیفہ، احمد بن حنبل سے لیکر، بخاری، مسلم، نسائی ترمذی، ابو داود تک سب کے سب اصحاب پیغمبر کا نام لیتے وقت اس چیز کو ضروری ہی نہ سمجھتے تھے کہ حتما ان کے ساتھ کوئی نہ کوئی دعائیہ جملہ لکھیں تو آج کا پاکستانی مسلمان اس پر کیوں مر مٹ رہا ہے۔ ؟؟
اس سے بڑھ کر جب وہ شافعی ، حنبلی، مالکی اور حنفی و جعفري فقہ کا مطالعہ کرتا ہے تو کہیں بھی شرعی لحاظ سے اس کام کا وجوب ثابت ہوتا دکھائی نہیں دیتا ؟ اسے کوئی آیت یا حدیث بھی نظر نہیں آتی جس میں دعائیہ جملات کہنے کو لازمی قرار دیا گیا ہو؟؟
ایسے میں یقینا سوال تو بنتا ہے کہ جب ایک چیز کسی بھی شرعی اور عقلی اور فقہی قانون میں واجب نہیں ہے تو پاکستان کا سیکولر مسلمان اسے نماز سے زیادہ واجب فریضے کے طور پر منوانے پراتنا اصرار کرتا کیوں دکھائی دیتا ہے؟؟
میرے جیسا عام مسلمان بڑی شدت سے محسوس کرتا ہے کہ یقینا کہیں نہ کہیں تو اس کے فہم و شعور کے ساتھ خیانت ہو رہی ہے۔؟
شرعی طور پر ایک غیر واجب کو واجب کی حیثیت دینا بدعت کے زمرے میں آتا ہے اور ان سب پر جنہوں نے ایسے قانون کو پاس کروانے میں کردار ادا کیا ہے، اہل بدعت کا عنوان جاری و ساری ہے۔ یہ لوگ تشریع کے ناجائز فعل کے ارتکاب پر شرعی طور پر تعزیر کے مستحق ہیں، جس پر انہیں معافی مانگنا ہوگی۔
طرفہ یہ ہے کہ ایک عام ریاستی آفیسر کو علمی و فکری مسائل کا نگران بنایا گیا ہے جو اپنی ذاتی رائے سے کسی بھی دانشور کی سالہا سال کی محنت کو اپنی جہالت کے تحت کھڈے لائن لگا سکتا ہے۔
لہذا اس بل کے بجائے، اگر بل پاس کروانا ہے تو اسلام کے بنیادی اصول یعنی برادری اور برابری کی پاسداری کا کروائیں، قرآن کے اس اصول کو عملی سطح پر لاگو کروائیں کہ تمام مسلمان چاہے وہ پہلی صدی کا ہو یا پندرہویں صدی کا ، ایک مسلمان ہونے کے ناطے برابر حقوق رکھتے ہیں۔ اس لیے ایک مسلمان کا احترام، اس کی فکر و عقیدے اور مذہب کا احترام ہم سب پر فرض ہے، اگر کہیں فکری انحراف کا شکار ہے تو اس کی رہنمائی کرنا فرض ہے۔ کسی بھی پاکستانی مسلمان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے پاکستانی مسلمان کو اپنے سے گھٹیا یا دوسرے درجے کا مسلمان سمجھے۔ سب کے سب مسلمان ہونے کے ناطے برابر ہیں۔ باقی تقوا کے درجات کا فرق اللہ ہی جانتا ہے۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم۔ نہ کہ عند الناس۔
آج کے معاشرے کو گذشتہ امتوں کی وجہ سے نفرت کی آگ میں دھکیلنا قرآن کی واضح آیات کی خلاف ورزی ہے، جہاں اخوت اور بھائی چارے کا صریح حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی فرمادیا کہ تلک امۃ قد خلت لہا ما کسبت ولکم ما کسبتم ولا تسءلون عما کانوا یعملون۔ وہ امت گزر چکی، اس نے اپنے کیے کا حساب دینا ہے تم نے اپنے کیے کا۔ تم سے ان کے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔
در اصل ہمارے سماج میں گذشتہ قبروں کو پھوڑنے اور اکھاڑنے کی ریت جو عرصہ دراز سے چل نکلی ہے، اس نے بہت سے لوگوں کو یہ میدان فراہم کیا ہے کہ اسی آڑ میں وہ جائز علمی و فکری تنقید پر بھی پابندی لگوا کر اس معاشرے کی فکری بنیادوں کو کھوکھلا کر دیں۔ اور ایک ارتھوڈوکس تفکر کے تحت اپنی مرضی کی تعبیر و تفسیر پیش کر سکیں۔ ہمیں یقینا ایسی بحثوں سے کوئی دلچسپی نہیں

ہے، جن میں محض دوسرے فرقوں کی دل آزاری کا سامان ہوتا ہو، لیکن اتنا  ضرور ہے کہ   آزادی کا ناجائز استعمال ، ہمیں ایسے قوانین بنانے کی اجازت نہیں دے سکتا  جس کی کوئی عقلی و شرعی حیثیت نہ ہو۔ یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی بصیرت کے تحت دین و مذہب کا انتخاب کرے۔ اور اپنی اپروچ کے تحت اس مذہب کی تبلیغ و ترویج کرے، جیسا کہ یہ بھی بنیادی حق ہے کہ  اگر کوئی غیر علمی بات کی جارہی ہے تو اس  پر کھل کر علمی تنقید کی جائے۔ 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ