12 ستمبر کو قطر میں بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے بعد سے افغانستان میں قیامِ امن کے حوالے سے کسی معقول پیشرفت کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ چونکہ ابھی تک مذاکراتی ٹیموں، افغان حکومت کے نمائندوں اور طالبان کے درمیان متنازع اُمور پر کوئی تصفیہ نہیں ہو پایا ہے، اسی لیے امن مذاکرات کے اصل مرحلے کا آغاز بھی نہیں ہوا ہے۔ افغانستان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق کوئی بڑی پیشرفت نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ فریقین کے درمیان اس بات پر نظریاتی اختلافات ابھی تک ختم نہیں ہوئے ہیں کہ امن مذاکرات کن اصول و ضوابط کے تحت ہوں گے اور ان کا طریقہ کار کیا ہو گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ فریقین کے درمیان بات چیت کے مزید دور ہوں گے جن میں مذاکرات کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جائے گی، جس کے بعد فریقین مذاکرات کے مرکزی نکات یا ایجنڈا طے کریں گے۔

اب تک کیا ہوا؟

طویل انتظار کے بعد جب ستمبر کے دوسرے ہفتے میں بین الافغان بات چیت کا آغاز ہوا تو دونوں فریقوں نے امن مذاکرات کے اصل دور کی تفصیلات طے کرنے کے لیے دو، دو نمائندوں کا تقرر کیا تھا۔

لیکن چھوٹی موٹی پیشرفت کے سوا، یہ نمائندے امن مذاکرات کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے میں ناکام رہے۔

تولو نیوز ایجنسی کے مطابق افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے رکن، محمد رسول طالب کا کہنا تھا کہ ’ہم نے مذاکرات کے اصول و ضوابط کے حوالے سے پیشرفت کی ہے، تاہم ابھی ایک، دو معاملات طے ہونا باقی ہیں۔‘

افغان ذرائع ابلاغ کی خبروں سے لگتا ہے کہ مذاکرات کے طریقہ کار کے حوالے سے جو 20 نکاتی ایجنڈا طے پایا تھا، دونوں فریق ان میں سے کچھ پر متفق ہو چکے ہیں۔

افغانستان کے اخبار ’اطلاعاتِ روز‘ کے مطابق ایک مشترکہ سیکریٹریٹ اور اختلافی مسائل پر بات چیت کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی کے قیام پر اتفاق کے علاوہ فریقین اس بات پر بھی رضامند ہو گئے ہیں کہ اگر امن مذاکرات میں کوئی رکاوٹ آ جاتی ہے تو بات چیت کو معطل بھی کیا جا سکتا ہے۔

پیشرفت میں سست روی کیوں؟

تولو نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کی تیاری کے لیے جاری ابتدائی مرحلے میں تیزی سے پیشرفت نہ ہونے کی تین بڑی وجوہات ہیں۔

اطلاعات کے مطابق طالبان کا اصرار تھا کہ افغاننستان میں جنگ کو ’جہاد‘ کے نام سے پکارا جائے، تاہم ممکن ہے کہ حال ہی میں دونوں فریق ملک میں جاری موجودہ لڑائی کو ایک بڑا ’مسئلہ‘ کہنے پر متفق ہو گئے ہوں۔

دونوں کے درمیان ایک اور اختلافی مسئلے کا تعلق طالبان کے اس مطالبے سے ہے کہ امن مذاکرات کی بنیاد فقہ حنفی پر ہونی چاہیے۔

تاہم، طالبان کا یہ مطالبہ افغان آئین کی شق نمبر 130 اور 131 کی نفی کرتا ہے کیونکہ ان شقوں کے مطابق ملک کی شیعہ برادری کے نجی مقدمات کا فیصلہ شیعہ فقہ کے تحت ہونا چاہیے جبکہ ایسے مقدمات جن میں کوئی واضح شرعی ہدایت دستیاب نہیں ان میں فقہ حنفی کو ہی قانون کا عمومی ماخذ تسلیم کیا گیا ہے۔

اسی تنازع کی روشنی میں روزنامہ ’ارمانِ ملّی‘ نے اپنے ایک اداریے میں کہا ہے کہ طالبان کا یہ اصرار کہ فقہ حنفی پر عمل کیا جائے دراصل ایک ایسا ’ہتھیار‘ ہے جس کا مقصد ’ملک میں فرقہ وارانہ اختلافات‘ کو ہوا دینا ہے۔

اس حوالے سے افغانستان کے نائب صدر نے 21 ستمبر کو کہا تھا کہ ’شیعہ افغانستان کی جانب سے میں طالبان سے پُرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ افغانستان کے عوام کی آپس میں دوستی اور اتحاد کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش نہ کریں۔‘

ابتدائی مرحلے میں سست روی کی تیسری اور آخری وجہ طالبان کا یہ مطالبہ ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان 21 فروری کو جس معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، اسے حالیہ مذاکرات کی بنیاد تسلیم کیا جائے۔

شاید طالبان سمجھتے ہیں کہ اگر امریکہ اور ان کے درمیان ہونے والے معاہدے سے روگردانی کی جاتی ہے تو بین الافغان مذاکرات کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں۔

مذاکرات کی راہ میں حائل ان مسائل سے قطع نظر افغان عوام ملک میں جاری پُرتشدد کارروائیوں سے پریشان ہیں اور جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

لیکن طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے کہا ہے کہ جب تک کچھ دوسرے مسائل پر بات چیت نہیں ہو جاتی، وہ جنگ بندی پر رضامند نہیں ہوں گے۔

آگے کیا ہوگا؟

ابتدائی مراحل میں سامنے آنے والے مسائل سے لگتا ہے کہ فریقین کے درمیان امن مذاکرات کا باقاعدہ آغاز مقررہ وقت پر نہیں ہو گا۔

افغانستان کی قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات ’مشکل‘ ہوں گے۔

ان کے علاوہ کئی افغان تجزیہ کار بھی اس حوالے سے اپنی ناامیدی کا اظہار کر چکے ہیں اور انھیں بھی مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی امید کم ہی ہے۔

افغانستان کے سابق وزیر دفاع اور ایک تھنک ٹینک سے منسلک تمیم آسی نے تولو نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے چند دن پہلے کہا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ مذاکرات کا عمل طویل اور پیچیدہ ہو گا۔ افغان جنگ کی پیچیدگیوں کی وجہ سے، ہم یہاں راتوں رات امن نہیں لا سکتے۔‘

اس سے پہلے کہ مذاکراتی ٹیمیں اصل مسائل پر بات کریں، دونوں کے درمیان بہت سے اُمور پر اتفاق رائے ہونا ہے، اور ان مسائل پر اتفاق طالبان اور امریکہ کے معاہدے کی روشنی میں ہونا ہے۔ ان مسائل میں نہ صرف جنگ بندی شامل ہے بلکہ یہ بھی شامل ہے کہ مستقبل میں افغانستان میں سیاسی انتظامیہ کی شکل کیا ہو گی۔

اگر دونوں فریق مذاکرات کے طریقہ کار پر متفق ہو بھی جاتے ہیں تو اس کے بعد ہی وہ امن مذاکرات کے اصل دور کے ایجنڈے پر بات چیت کر سکیں گے، اور یہ اگلا مرحلہ بھی اپنے حصے کی پیچیدگیاں لے کر آئے گا۔

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ