اندراج کی تاریخ  9/29/2020
کل مشاہدات  257

نویسندہ : (ایک خیر خواہ مسلمان) میم ۔ ف

بنوریہ ٹاون کے ایک فتوا کا تجزیاتی مطالعہ

سب و شتم اور گالم گلوچ ایک قبیح اور غیر اخلاقی فعل ہے، لیکن ہر غیر اخلاقی فعل کے ارتکاب سے انسان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ اسے فقہ و فقاہت سے تعلق رکھنے والے لوگ بخوبی سمجھتے ہیں۔

اگرچہ بر صغیر میں فقہ و فقاہت کی روایت عرصہ دراز سے ظاہر پسندی اور حدیثی طرز فکر کی نذر ہوچکی ہے، لیکن اسی کمزور روایت کے اندر رہ کر بھی، ابھی تک فقہی ملحوظات کا خیال رکھا جاتا ہے۔

 

بنوریہ ٹاون سے صادر ہونے والا مندرجہ ذیل فتوا اسی فقہی طرز فکر کی نشانی ہے۔

جوا کہ ایک سوال اور اس کے جواب کے ضمن میں بیان ہوا ہے۔

ملاحظہ فرمائیں

سوال

کیاصحابہ کرام کو گالی دینے والااوران پرتبرّاکرنے والا کافر ھوجاتاہے؟

جواب

صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا مقام اور ان سے محبت یا بغض یاعداوت رکھنے والوں کا مقام اور حکم خود حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے بیان فرما رکھا ھے،اس کی روشنی میں ایسے لوگوں کا حکم بالکل واضح ھے۔ چنانچہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے اس سلسلے میں چندارشادات ملاحظہ ھوں: 1: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو،میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو،ان کو میرے بعدہدف اورنشانہ ملامت مت بنانا،،یادرکھو جو شخص ان کودوست رکھتا تو وہ میری وجہ سے ان کو دوست رکھتا ھے اور جو ان سے دشمنی رکھتا ھے تو وہ مجھ سے دشمنی رکھنے کے سبب ان کو دشمن رکھتا ھے، اورجس شخص نے ان کو اذیت پہنچائی اس نےگویا مجھے اذیت پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی اس نے گویا خدا کو اذیت پہنچائی،اور جس نے خدا کو اذیت پہنچائی تو وہ دن دور نہیں جب خدا اس کو پکڑے گا۔ جامع الترمذی،ابواب المناقب، باب فی من سبّ اصحاب النبیّ صلی اللہ علیہ وسلّم، 2225، ط:قدیمی کراچی 2: تم میرے صحابہ کو برا نہ کھو، حقیقت یہ ھے کہ تم میں سے کوئی شخص احدپہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اس کا ثواب میرے صحابہ کے ایک مدیاآدھے مد کے ثواب کے برابربھی نہیں پہنچ سکتا۔ صحیح مسلم، باب تحریم سبّ الصحابہ، 2310، ط: قدیمی کراچی 3: میرے اصحاب کی تعظیم وتکریم کرو کیونکہ وہ تمھارے برگزیدہ اور بزرگ ترین لوگ ہیں۔ مشکوۃ المصابیح بحوالہ نسائی، باب مناقب الصحابہ، الفصل الثانی، ص: 554، ط: قدیمی کراچی اس کے علاوہاور بھی متعدّداحادیث سے یہ بات واضح ھوتی ھے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو گالی دینا، براکہنا یا ان پر تبرّا کرنا حرام اور باعثِ فسق وگمراہی ہے، نیز اس سے ایمان ضائع ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ فتاوی شامی، 4236، ط: ایچ ایم سعید کراچی۔ واللہ اعلم

 

فتوا ختم ہوا۔

 

اب اس فتوے پر چند ایک ملاحظات قابل غور ہیں۔

اس فتوے میں کہا گیا ہے کہ صحابہ کو گالی دینا، یا ان پر تبرا کرنا حرام ہے، یہ بالکل ویسے ہی ہے، جیسے جھوٹ ، غیبت ، تہمت، بہتان ، چغل خوری ، سب حرام ہیں۔

دوسرے  یہ کہ اس حوالے سے کسی بھی آیت کا سہارا نہیں لیا گیا۔

اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ فقہاء کو قرآن کریم کے اندر صحابہ کے سب و شتم کے حوالے سے کوئی ایک آیت نہیں مل سکی۔ لہذا آج عوام کے اندر جذباتی فضا پیدا کرنے کے لیے جو آیات پڑھی جاتی ہیں، وہ کسی طوردلالت کے اعتبار سے قانونی و فقہی حیث کی حامل نہیں بنتیں۔

جیسا کہ ملا علی قاری نے اپنی کتاب ذم الروافض میں صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ سب صحابہ کے مسئلے میں نہ کوئی آیت ہے، نہ ہی اجماع فقط  بعض روایات ہیں جو ظنی الدلالہ ہیں۔ (ملاحظہ ہو، شم العوارض فی ذم الروافض، ص۳۳)

تیسری بات جو قابل غور ہے، وہ یہ کہ حدیث کے اندر واضح طور پر فقط اصحاب کے متعلق احتیاطی رویہ رکھنے کا حکم صادر ہوا ہے۔ اس میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والا کافر ہے یا نہیں؟

اس لیے اگر ہم ان احادیث کے صدور کو مان لیں تو اس کی زیادہ سے زیادہ دلالت اس بات پر ہے کہ یہ حرام اور گناہ ہے۔

چوتھی  بات یہ ہے کہ اس استدلال میں اجماع سے تمسک بھی نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ اختلافی نوعیت کا ہے۔

پانچویں بات یہ ہے کہ صحابہ کو صحابی ہونے کے ناطے گالی دینا یا توہین کرنا مقصود ہے، ورنہ ذاتی جھگڑے تو خود صحابہ کے درمیان بھی رہی ہیں۔ 

چھٹے یہ ہے کہ  گالم گلوچ سے ہٹ کر، تنقیدی رویے کے حوالے سے ان صحابہ  کے بارے میں احتیاطی رویہ رکھنا جن کا کردار متنازع رہا ہے، ایک صوابدیدی اور استحسانی نوعیت کا حکم ہے۔ اسے پوری امت پر لاگو کرنا کیسے ممکن ہے۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ تفصیل دی جائےان صحابہ کرام کے بارے میں جن پر اکثریت کا اتفاق ہے، اور ان صحابہ کے درمیان جن کا تاریخ میں نہایت متنازع کردار رہا ہے۔ پہلی قسم کے صحابہ کا احترام ملحوظ رکھا جائے، جبکہ دوسری قسم کے صحابہ پر تنقید روا رکھی جائے۔ البتہ گالی دینا  الگ معاملہ ہے۔ گالم گلوچ تو بت پرستوں تک کے لیے ممنوع ہے۔

 

والسلام۔ ایک خیرخواہ مسلمان (میم ۔ ف)

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ