لاہور (ایس چودھری )آج بہت سے اسلامی ممالک اسلام کے نام پر بننے والی جہادی تنظیموں کے خلاف جنگ کررہے ہیں ۔اس موقع پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ جب القاعدہ سمیت دیگر تنظمیں جہاد کے نام پر مسلمانوں کا ہی قتل کررہی ہیں تو انہوں نے اسلام کے کس سکول آف تھاٹ کو دلیل بنایا ہے۔اس پر بلاشبہ علما و مفتیان امہ نے بے شمار وضاحتیں دی ہیں اور ان کے دلائل کو رد کیا ہے اور کوئی بالغ العقل اسلام کے نام پر انسانیت کشی کی اجازت نہیں دیتا ۔اسلامی ممالک کے علما نے ان جہادی تنظیموں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے رکھا ہے۔ تاہم ان تنظمیوں کے پاس قتال کی جو دلیل موجود ہے وہ امام ابو تیمیہ ؒ کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے انسداد دہشت گردی کے سابق رابطہ کار ڈینیئل بنجمن نے اپنی کتاب میں دور جدید کی اسلامی تحریکوں کو ابن تیمیہ کے بچے قرار دیا تھا۔ان اسلامی تحریکوں کے پس پردہ کیا ہورہا ہے اور کون سے اسلام دشمن ملک انکی سرپرستی کرتے ہیں یہ واضح ہوچکا ہے کہ اسلام کو بدنام کرنے کے لئے مسلم امہ کی دشمن قوتیں اسلامی فکر اور جہاد کو بدنام کررہی ہیں ۔تاہم یہ دلیل اپنی جگہ موجود ہے کہ داعش و القاعدہ سمیت جو تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف جنگ کرتی ہیں ،وہ امام ابن تیمیہ ؒ کا مبینہ فتوٰی استعمال کرتے ہوئے اپنے عمل کو جائز سمجھتی ہیں۔
حوالہ :  dailypakistan

امام ابن تیمیہؒ امت مسلمہ کی گراں قدر شخصیت تھے جنہوں نے علمی اور عملی جہاد بھی کیا ،سات سو سے زائد کتابیں لکھیں۔انہوں نے جہاد کا جو مشہور فتویٰ جاری کیا اسکا القاعدہ اور دیگر جہادی تنظیمیں اپنے مقاصد کے لیے حوالہ بھی دیتی ہیں۔ ایک مسیحی پادری اصف النصرانی نے جب توہین رسالتکی توحکومت نے النصرانی کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اورکہا کہ اس طرح اسکی جان بخشی کردی جائے گی ۔ وہ راضی ہو گیا۔ لیکن امام ابن تیمیہؒ نے فتویٰ دیا کہ مسلمان ہو یا کافر اگر بقائمی ہوش و حواس توہین رسالت کرے گا تو اس کی گردن اڑائی جائے گی۔ اس پر حکومت نے انہیں قید کر دیا۔ اسی قید میں انہوں نے اپنی پہلی معرکہ آرا کتاب ’’الصارم المصلول علی شاتم الرسول‘‘ لکھی تھی ۔ امام ابن تیمیہؒ نے اپنایہ مشہور فتویٰ بھی جاری کیا کہ تاتاری جو اگرچہ اسلام قبول کرچکے ہیں لیکن ان کے خلاف جہاد فرض کفایہ ہی نہیں بلکہ جہاد فرض عین ہے، کیونکہ وہ شریعت کی بجائے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے تحت نہ صرف حکومت کرتے ہیں بلکہ انہیں شریعت سے بہتر بھی سمجھتے ہیں لہذا وہ حالت جاہلیت میں ہی ہیں۔ دراصل تاتاریوں نے اسلام تو قبول کر لیا تھا لیکن اپنے پرانے ’’الیاسق قانون‘‘ کو برقرار رکھا تھا اور شریعت کو نافذ نہیں کیا تھا۔ یہ کسی عالم کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف طاقت کے استعمال کا پہلا فتویٰ تھا۔ اور آج جہادی تنظیمیں اسی کو اپنا جواز بناتی ہیں۔ جب مصر و شام کی اسلامی فوج اور تاتاری فوج میں جنگ ہوئی تو امام ابن تیمیہؒ نے خود بھی اس میں شرکت کی۔

 امام ابن تیمیہؒ نے دنیا کو چار خانوں میں تقسیم کرتے ہوئے یہ فکری تصور دیا تھا ۔۔۔ دارالاسلام ۔۔۔جہاں مسلمان بستے ہوں اور شریعت نافذ ہو۔

دارالکفر۔۔۔ جہاں کفار بستے ہوں اور کفر کی حکومت ہو۔

دارالحرب کفار ۔۔۔ وہ ملک جس سے دارالاسلام کی جنگ ہورہی ہو ۔

دارالمرکب ۔۔۔مسلمانوں کا وہ علاقہ جہاں شریعت نافذ نہ ہو۔

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ