جب ایک وزیر اور تمام سرکاری اور غیر سرکاری اسرائیلی میڈیا نے موساد کے سربراہ یوسی کوہن کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سعودی ساحلی شہر نیوم کے دورے اور بن سلمان، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور کے ساتھ ان کی سہ فریقی ملاقات کی تصدیق کی اورسعودی عرب کی شرمندہ اور کمزور انکار سے ناراض مسلمانوں کو راضی نہیں کرسکتا۔
حوالہ :  اختصاصی سایت الوهابیه

 العالم - آج کا تجزیہ

،  اس خبر    کے سعودی عرب کی ایک  کمزور رد عمل  ،وہ   بھی ایک ٹویٹ   کے   ذریعہ وزیر خارجہ فیصل بن فرحان  اس  ملاقات  کی  تردید کی ہے  ابھی   بھی پوری دنیا کے دو ارب مسلمانوں کو ناراض رکھا ہوا ہے ۔ اگر یہ خبر ثابت ہوجاتی ہے تو ، دنیا کے مسلمانوں کو مکہ و مدینہ کے دو مقدس مقامات اور حج و عمرہ کی تقریبات پر آل سعود کے دائرے کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ کیوں کہ کوئی مسلمان یہ قبول نہیں کرسکتا ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو دو عظیم الشان مقامات کے پاسبان سمجھتے ہیں وہ ان لوگوں سے دوستی اور سمجھوتہ کرتے ہیں جنہوں نے مسجد اقصیٰ کے تقدس کو پامال کیا ہے اور فلسطین کے بوڑھوں اور جوان عوام کو ذبح کیا ہے اور وہ عالم اسلام کو  تباہ  کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اگر اسرائیلی میڈیا یہ دعویٰ  اس ملاقات  کے بارے میں  ثابت  ہو جائے بن سلمان کے یہ  اقدام جو حکومت عربستان کو صیہونی حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے راستے پر ڈالاہے   جس سے  اس ملک کا  ا سلامی دنیا میں اور عوامی طور پر اپنے    کچھ وقار  باقی  رہا ہے تو اسے بھی   محروم ہو جائے گا   اور ان لوگوں کی صف میں شامل ہوجائے گا  جو مسلمانوں کا پہلا قبلہ اور دوسرا مقدسہ مسجد اقصیٰ کو ختم کرکے   اس کھنڈرات پر اپنا خیالی  عبادت گاہ تعمیر  کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کون سا مسلمان ایسی بات قبول کرسکتا ہے اور کیا آل سعود مسلمانوں کو یہ باور کروا سکتا ہے کہ "اسرائیل" ان کا دشمن نہیں بلکہ ان کا دشمن  مقاومت  کا محور ہے جو فلسطین کو آزاد کرانے اور صہیونی حکومت کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سمجھوتہ کے عمل میں تیز   ی لانا، سعودی فضائی  کےحدود اسرائیلی طیاروں    کے لئے کھولنے سے لے کر متحدہ عرب امارات اوربحرین  اسرائیل کے  ساتھ سمجھوتے کے منصوبے کا خیرمقدم کرنے تک ، ہمیں ایک نئی    حالت   کے مقابلہ  میں  قرار دیتا  ہے

 ۔ ایک ایسی   حالت جس نے آل سعود کے  کئی  سالوں کی مخفی کاری اور  خفیہ سمجھوتوں کے پردے ہٹا کر   حقیقی چہرے کو نمایاں کیا  ہے -  صیہونی حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کرنے میں ان کا پوشیدہ کردار سالوں پہلے کا ہے جب انہوں نے  غاصب حکومت(اسرائیل ) کے ساتھ بحرین اور متحدہ عرب امارات اور سوڈان کے مابین ایک سمجھوتہ کے معاہدے پر ثالثی کی تھی۔ یہاں تک کہ جب سعودی انٹلیجنس سروس کے اس وقت کے سربراہ ، ترکی فیصل نے 2014 میں یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ خواہش کرتا ہے کہ وہ الدوریہ میں واقع اپنے گھر پر اسرائیلیوں سے مل سکے ، یہ بلا وجہ نہیں تھا۔ 1981 میں ، سعودی عرب کے اس وقت کے ولی عہد شہزادہ ، فہد بن عبد العزیز نے پہلا سمجھوتہ کرنے والا منصوبہ پیش کیا ، جس کی ایک شق صہیونی حکومت کی  تسلیم کرنا تھا  ۔

انہوں نے فاس سر براہوں   کی  کانفرنس   میں عالم اسلام پر یہ منصوبہ مسلط کرنے کی کوشش کی ، لیکن کانفرنس نے اس منصوبے کو ایجنڈے سے ہٹا دیا۔

پھر 2002 میں وہ ایک اور منصوبہ لے کر آئے اور اس منصوبے کے ساتھ سرکاری طور پر خودکشی کرلی ، اور آخر کار 2018 میں ، ٹرمپ کے "سینچیری ڈیل " کی حمایت کرنے کا اعلان کرکے ، اس نے اسے مکمل طور پر ترک کردیا۔ محمد ابن سلمان نے صدی کے معاہدے کو اپنی حکمرانی قائم کرنے کی بنیاد کے طور پر دیکھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہائٹ ​​ہاؤس میں  نفوذ اور ٹرمپ کی حمایت حاصل کرنے کا واحد راستہ تل ابیب کے ذریعے ہے۔

 آل سعود سے وابستہ میڈیا   خلیج فارس اور عرب دنیا کی اقوام  اس سمجھوتہ کو   قبول  کروانے   کی تمام کوششوں   کے باوجود آل سعود کو یہ جان لینا چاہئے کہ تقدس اور عقائد کبھی تباہ نہیں ہوتے اور آج کے واقعات عارضی ہیں۔ اس سازش سے پر ان کا کوئی اثر نہیں  ہوگا۔ سعودی عوام  دیگر اسلامی   قوم جیسے مصر ، اردن ، متحدہ عرب امارات اور بحرین  کی عوام  ، کی طرح  اس سمجھوتہ کے منصوبے کے مخالف ہیں ، اور اس بات کا امکان کم ہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ صہیونی حکومت کے ساتھ سمجھوتے  داغ  کو قبول کریں گے۔

  فارسی سے ترجمہ 

 تحریر    علاء الحلبي

 مترجم    سید اعجاز موسوی

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ