اندراج کی تاریخ  12/31/2020
کل مشاہدات  91
سؤال

سوال  : مشرکین  ربوبی توحید میں موَحد تھے یا مشرک  ؟  

جواب

جواب : زمانہ جاہلیت کے مشرکوں کو ربوبیت میں موحد اورربوبیت   مشرک   میں تقسیم کرنا ان بدترین بدعتوں کا حصہ ہے جو بعض کج فہم  اور ظاہر بین افراد کے ذریعہ وجود  میں  آئی ہے جو خود علوم قرآن میں مہارت نہیں رکھتے ۔ 

یہ لوگ کہتے ہیں : کہ اکثر مشرکین خدا وند عالم کو اس کی قدرت میں یکتا اور لا شریک مانتے تھے۔

 اور غیر  اللہ معبودوں کی ،ان کی شان روبی کے قائل ہوئے بغیر  عبادت کرتے تھے ۔ لیکن  جب ہم ان لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ عبادت کیا ہے ؟ تو کہتے ہیں : ظاہر ی  طور پر انتہائی  خضوع اور  تذلل کا انجام دینا ،  بغیر   اسکے کہ انجام دینے والے کی قلبی نیت میں بھی ایسا ہونا لازمی یا ضروری ہو ۔  

یہ حضرات  اپنی اس تعریف کی مطابق کہتے ہیں : کہ اکثر مشرکین خدا وند عالم کو اس کی ذات و صفات و افعال میں اکیلا اورلا شریک جانتے تھے ،وہ  معتقد نہیں  تھے کہ ان کے معبود ان چیزوں میں خدا وند عالم سے  مستقل یا شریک ہوں ۔  

انھوں نے اپنی اس فکری کج روی اور خطرناک بدعت کو ملحوظ رکھ کر ، مشرکین  کو عقیدہ شرک سے پاک کے انھیں  ربوبیت میں موحدثابت کردیا ہے ، اور اس طرح ایک نئی بدعت ایجاد کرکے توحید کو توحید روبوبی اور توحید الوہی میں تقسیم کردیا ہے ۔  

گویا وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص ایک ہی وقت  توحید ربوبی کے اعتبار سے موحد ہو اور غیر خدا کی عبادت کرکے الوہیت میں مشرک ہوجائے ۔

حالانکہ  قرآن وسنت میں کسی   جگہ بھی  ایسی تقسیم نہیں پائی جاتی  قرآن وسنت میں کہیں پر بھی یہ  نہیں  آیا کہ مشرکین واقعا ربوبیت میں موحد ہوں اورکامل  توحید کے معتقد بھی ہوں اور اسی حال میں عبادت میں مشرک اور  غیر خدا کی عبادت کرتے ہوں۔ چونکہ ایک مخلوق کی طرف  روبوبیت کی نسبت دینا اس مخلوق کو معبود قرار دینے کے مترادف ہوتا ہے ۔

کوئی چیز  عبادت کرنے والے کی نظر میں معبود نہیں بن سکتی مگر اس چیز میں پائی جانے والی صفات کمالیہ کی بنا پر کہ جن کا اس کا عبادت گزار معتقد ہو اور اس کی نظر میں مذکورہ صفات کی بنا پر  مستحق عبادت قرار پایا ہو اور وہ صفات اس کے سوا کچھ نہیں  کہ عبادت کرنے والا اس مخلوق میں ربوبی صفات کا معتقد ہوکر عبادت کرے ،۔ جیسے خدا وند عالم سے مستقل ہوکر کسی چیز کا نفع اور نقصان  پہونچانے پر قادر ہونا ، یا نفع اور ضرر پہونچانے میں خدا وند عالم کا شریک ہونا ہے ۔

اگر کوئی شخص کسی معین مخلوق کے لئے ایسی صفات کا قائل نہ  ہو نیز اُسے خدا سے  علیحدہ کرکے بطور مستقل نفع ونقصان  پر قادر ہونے سے خالی جانتا ہو تو عمل  میں بھی  ہرگز اس کی عبادت نہیں کرے گا ۔  لیکن مدور حاضر کے اہل بدعت (وہابیت )کہ جو خوارج کے افکار کو زندہ کرنے والے ہیں کہتے ہیں : مشرکین خدا وند عالم کو اس اس کی ربوبیت میں کامل اور صحیح اعتقاد کے ساتھ یکتا اور اکیلا جانتے تھے اور اپنے بتوں کی کسی بھی طرح   کی ربوبیت کے قائل نہیں تھے اور  اس کے باوجود اپنے بتوں کی عبادت کرتے تھے ۔

جب کہ مشرکین جسیے  ہندو ،سیکھ اور بودھشٹ  وغیرہ اب بھی موجود ہیں  پس  ان سے جاکر کیوں نہیں  پوچھتے  کہ کیا  وہ اپنے  معبود ں کو  ربوبی قدرت کا حامل جانتے ہیں  یا انھیں  ہر طرح کے خیر وشر اور نفع ونقصان سے  خالی سمجھتے ہیں  ؟

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے خوارج آباء واجداد کے مانند کفار وبت پرست کو تو چھوڈ دیتے ہیں اور اُن آیتوں کو جو اُن کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اپنے جہل کے سبب اہل شہادتین مسلمانوں  کے لئے استعمال کرتے ہیں   اور مسلمانوں کو  ناکردہ شرک کے  جرم میں   مشرک گمان کرتے ہیں ؟ ۔

اب ہم تین طریقے سے ان کی بدعت وگمراہی کو جواب سے رد کریں گے ۔

خدا وند عالم نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے مشرکین کو قرآن مجید کی کسی بھی آیت میں ربوبیت میں موحد اور ربوبیت میں مشرک کی طرف تقسیم نہیں کیا ہے ۔

خدا وند عالم نے جہاں بھی مشرکین عرب کا ذکر کیا ہے انھیں بطور مطلق مشرک کہا ہے یہ نہیں کہا ہے کہ ان میں سے بعض ربوبیت میں موحد تھے اور بعض مشرک تھے دوسرے  لفظوں  میں یہ کہا جائے کہ  خدا نے یہ نہیں کہا ہے کہ ان میں بعض اللہ کے ربوبیت میں ایک ہونے پرایمان رکھتے تھے اور دوسرے بعض اللہ کی ربوبیت میں مشرک تھے ۔

'' ایمان رکھنے سے ہمارا مقصد تمام شرعی شرائط کے ہمراہ کامل و صحیح ایمان ہے ،یعنی صاحب ایمان خدا کو اس کی ربوبیت کے علم ، یقین ،قبول ،انقیاد ،صدق اخلاس،اورمحبت، میں یکتا جانتا ہو  ۔ ان شرائط میں سے کسی ایک میں بھی خلل یا نقص  واقع ہوجانا خدا  کی ربوبیت پر ایمان نہ رکھنے کا باعث ہوگا مثال  کے طور پر اگر کوئی شخص زبان سے اقرار کرے اور کہے '' میں جانتا ہوں کہ خدا وند عالم اپنی ربوبیت میں یکتا ہے '' لیکن عمل میں اُس کا پابند نہ ہو اور غیر خدا کی ربوبیت کا قائل ہو جائے  اور غیر خدا کی عبادت کرے تو اس کا زبانی اقرار شرعی ایمان شمار نہیں ہوگا ۔

اور جولوگ جو مشرکین کو روبیت میں موحد قرار دیتے ہیں تو اُنھیں ان تمام شرائط کو ان کے لئے ثابت کرنا ہوگا تاکہ خدا کی روبیت میں یکتا ہونے کے ایمان کو ثابت کریں ، اور وہ ایساس ہرگز نہیں کرسکتے ۔

جب مشرکین نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لات وعزی کی عبادت کی دعوت دی تو خدا وند عالم نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے فرمایا کہ ان کے جواب میں کہیں :  قُلْ أَغَيْرَ اللّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ۔ (۱)۔ ائے ہمارے رسول ان سے کہدو کیا میں غیر خدا کو اپنا رب بنا لوں جبکہ خدا ہرچیز کا رب ہے؟  ۔

یہ آیت بتلاتی ہے کہ مشرکین اپنے خداوں کی ربوبیت کے معتقد تھے اور ربوبی توحید نہیں رکھتے تھے  اس بنا پر پیغمبر  اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جواب  مشرکین کے  اپنے بتوں  کے بارے میں  ربوبیت کے عقیدہ کو  رد کردیتا ہے  ۔

ابن جزی مالکی اس آیت کو اپنی تفسیر التسھیل لعلوم التنزیل  میں غیر خدا کی ربوبیت کی نفی پر برھان ودلیل جانتے ہیں اورکہتے ہیں

«قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبًّا تقرير وتوبيخ للكفار، وسببها أنهم دعوه إلى عبادة آلهتهم وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ برهان على التوحيد ونفي الربوبية عن غير الله (۲)کہہ دو کیا میں غیر خدا کو اپنا  پروردگار مان لوں ؟ یہ آیت کفار کے لئے اقرار  توبیخ اور سرزنش ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ مشرکین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے خداوں کی عبادت کی طرف بلاتے تھے (حالانکہ وہ ہر چیز کا پروردگار ہے ) یہ آیت توحید پربرہان اور غیر خدا  کی ربوبیت کی نفی کی دلیل ہے  ۔

احمد بن مصطفی المراغی اپنی تفسیر میں کہتے ہیں : یہ جو مشرکین غیر خدا کو اپنا رب مانتے تھے یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ انھیں نفع پہچائے  یا اُن سے کسی ضرر کو دور کرے ۔ موصوف کہتے ہیں : «(قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ) أي أغير الله الذي خلق الخلق ورباهم- أطلب ربا آخر أشركه فى عبادتى له بدعائه والتوجه إليه، لينفعنى أو يمنع الضر عنى أو ليقربنى إليه زلفى، وهو تعالى رب كل شىء مما عبد ومما لم يعبد(3)۔

کہہ دو کہ کیا میں غیر خدا کو اپنا رب قرار دوں جبکہ وہ ہر چیز کا پالنے والا ہے، یعنی  کیا اللہ کے علاوہ کہ جس نے سب مخلوق کو خلق کیا ہے اور وہی  سب کا پروردگار ہے کوئی دوسرا پروردگار تلاش  کروں  اور اس  سے دعا کرکے   اور اس سے لو لگا کر  اُسے اللہ کی عبادت میں شریک قرار دوں تاکہ وہ مجھے فائدہ پہچائے یا مجھ سے ضرر کو دور کرنے یا مجھے اللہ کے نزدیک کردے ئے ؟

جبکہ خدا وند عالم ہر چیز کا پالنے والا ہے چاہے اس کی عبادت کی جاتی ہو یا عبادت نہ کی جاتی ہو ۔

اس آیت کے مطابق مشرکین اپنے معبودوں کی ربوبیت کے معتقد تھے اور توحید ربوبی نہیں رکھتے تھے (خدا وند عالم کو ربوبیت میں یکتا قرار نہیں دیتے تھے) ۔ اور اُس ربوبیت کی وجہ سے جس کے وہ اپنے معبودوں کے لئے قائل تھے  اپنےمعبودوں کو پکار تے تھے تاکہ وہ انھیں نفع پہنچایں یا اُن سے ضرر کو دور کریں ،  جبکہ رسول خدا  صلی علیہ وآلہ وسلم نے  ان کے معبودوں کی ربوبیت کا انکار کیا ہے ۔

اسی طرح  پرورگار عالم ارشاد  فرماتا ہے : (الَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِم يَعْدِلُونَ)(۴)۔ جنھوں نے کفر اختیار کیا ہے انھوں نے اپنے پروردگار کے ساتھ دوسرے کو برابر قرار دیا ہے ۔

طبری اپنی تفسیر میں اس آیت کے بارے میں کہتے ہیں:  مشرکوں  کی  بلا استثنی تمام انواع واقسام  اس آیت کے حکم میں شامل ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر قسم کے  مشرک ربوبیت میں مشرک ہیں  ۔ (وأولى الأقوال في ذلك بالصواب عندي أن يقال: إنّ الله تعالى ذكره أخبر أنّ الذين كفروا بربهم يعدلون، فعمّ بذلك جميع الكفّار، ولم يخصص منهم بعضًا دون بعض. فجميعهم داخلون في ذلك:: يهودهم، ونصاراهم ومجوسهم، وعبدة الأوثان منهم ومن غيرهم من سائر أصناف الكفر؛)(۵)۔،

اس بارے میں میرے نزدیک  سب سے  زیادہ حق سے نزدیک قول یہ ہے کہ کہا جائے کہ خدا وند عالم نے خبر دی ہے کہ جو لوگ کافر ہوگئے ہیں وہ  دوسرے  (غیر خدا )کو  اپنے پروردگار کے برابر قرار دیتے ہیں ، لہذا یہ حکم تمام کفار کو شامل ہے ۔اور  کسی نے بھی ان میں سے کسی کو استثنی نہیں کیا ہے  ۔ لہذا اس حکم میں  سب  کفار جیسے یہودی، عیسائی ،مجسوسی ، بت پرست اور  کفار کی دیگر قسمیں شامل ہیں  ۔

اس بنا پر تمام مشرکین ربوبیت میں مشرک ہیں اور کوئی مشرک نہیں مگر یہ کہ وہ خدا ہی کی طرح   اپنےمعبود کو بھی  صاحب ربوبیت  یعنی پروردگار سمجھتا ہے ۔

ابن کثیر شافعی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : «وَقَوْلُهُ: {ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ}۔« أَيْ: وَمَعَ هَذَا كُلِّهِ كَفَرَ بِهِ بَعْضُ عِبَادِهِ، وَجَعَلُوا مَعَهُ شَرِيكًا وَعِدْلًا وَاتَّخَذُوا لَهُ صَاحِبَةً وَوَلَدًا، تَعَالَى عَنْ ذَلِكَ عُلُوًّا كَبِيرًا «(۶) ۔

قول خدا وند : وہ لوگ جو کافر ہوئے انھوں نے اپنے پروردگار کے ساتھ دوسرے کو اُس کے برابر قرار دے لیا ، یعنی تمام چیزوں کے باوجود اُس کے کچھ بندے کافر ہوگئے اور اس کا شریک اور ہم پلہ بنا لیا ،اور اس کے بیوی بیٹے کے قائل ہوگئے ۔ خدا وند عالم ان چیزوں سے بہت بلند و بالا ہے ۔

مراغی اس تفسیر کی آیت میں تحریرکرتے ہیں : مشرکین اپنے  سے نقصان کو دور اور فائدہ حاصل کرنے کے لئے اپنے  بتوں سے  دعا وفریاد کرنے کو اللہ کی طرح اور اللہ کے برابر اور مساوی جانتے تھے  ،جیسا کہ خدا وند فرماتا ہے : ويعدلون أي يعدلون به غيره، أي يجعلون عديلا مساويا له فى العبادة والدعوة لكشف الضر وجلب النفع، فهو بمعنى يشركون به ويتخذون له ‌اندادا(7)﴿يَعدِلُونَ﴾۔یعنی وہ اس کے غیر کو اس کے برابر جانتے ہیں یعنی جلب منفعت اور دفع ضرر کی خاطر اُس کی عبادت کرنے اور پکارنے میں اس کاہم پلہ اور مساوی قرار دیتے ہیں لہذا اس آیت کے معنا یہ ہوئے کہ وہ (مشرکین )اللہ کا شرک کرتے اور اس کا ہم پلہ قرار دیتے ہیں ۔

اس بنا پر کوئی ایسی آیت نہیں کہ جس میں خدا وند عالم نے فرمایا ہو کہ مشرکین خدا کو صحیح اور کامل ایمان کے ساتھ ربوبیت میں یکتا جانتا ہوں اور پھر بھِی غیر  اللہ کی عبادت کرتے ہوں ۔

اور اگر بعض آیتوں مین مشرکین کا خدا وند عالم کے رب، خالق اور رازق ہونے کا اقرار آیا ہے تو جان لو کہ فقط زبانی اقرارکا مطلب  شرعی  اور کامل ایمان نہیں ہے ۔ بلکہ ضروری ہے کہ اس زبانی اقرار کے ساتھ اُن کا قلبی یقین اور غیرخدا کی عباد ت سے دست بردار ہو کر ظاہری  پابندی بھی ضروری ہے ۔ جان لیجئے کہ توحید نفی اور اثبات کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے ،یعنی ربوبی توحید کے لئے ضروری ہے کہ غیر خدا سے  ربوبیت کا انکار  اور خدا کے لئے ربوبیت کو ثابت کرے ۔

لہذا اللہ کی ربوبیت کے   زبانی  اقرار کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ  غیر خدا کی ربوبیت کا انکار ہوگیا ہے  ۔ مثال کے طور پر میں زید کی دوستی کا اقرار کرتا ہوں لیکن اس اقرار کے ہرگز یہ معنا نہیں ہیں کہ میرا زید کے علاوہ کوئی دوست نہیں نہ ہو ممکن ہے کہ زید کے علاوہ میرا کوئی اور بھی دوست ہو ۔

اس بنا پر مشرکین کا خدا کی ربوبیت کا اقرار غیر خدا کی ربوبیت کے انکار  کے مترادف نہیں ہے اور ایسے ہی خدا و ند عالم مشرکین کی جانب سے اپنی ربوبیت کے زبانی اقرارکو نقل کرکے پھر انھیں  خدا کے لئے اولاد قرار دینے اور انھیں متعدد خداووں  کے عقیدہ کی خاطر،ان کے اس اقرار میں جھوتا گردانتا ہے ۔مثال کے طور پر سورہ مومنون  کی آیت نمبر ۸۴ سے ۹۱ تک میں فرماتا ہے : (قُل لِّمَنِ الْأَرْضُ وَمَن فِيهَا إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ۔ سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ۔قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ۔سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ ۔قُلْ مَن بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ۔ سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ فَأَنَّى تُسْحَرُونَ ۔ بَلْ أَتَيْنَاهُم بِالْحَقِّ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ۔ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ ۔ )

ان آیات پر  اچھی طرح  توجہ کرنی چاہئے، اول تو یہ کہ اگر مشرکین اپنے معبودوں کی ربوبیت کے قائل نہ ہوتے تو خدا وند عالم اُن  کے جواب میں ایسا احتجاج نہ کرتا اور کہتا (مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِن وَلَدٍ)خدا وند عالم نے ہرگز  بیٹا اختیار نہیں کیا ہے ، دوسرے یہ کہ خدا وند عالم  ہمیشہ ان  کے زبانی اور  جھوٹے اقرار کی خاطر   اُن کی سرزنش کرتا ہے اور فرماتا ہے (قُلْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ)۔ (أَفَلَا تَتَّقُونَ) (قُلْ فَأَنَّى تُسْحَرُونَ)۔

تیسرے خدا وند عالم مشرکین کو ان کے خدا کے بارے میں ربوبیت پر ایمان اور عقیدہ کے دعوے کو جھٹلاتے ہوئے ان کے جواب میں فرماتا ہے: : (بَلْ أَتَيْنَاهُم بِالْحَقِّ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ)۔ (ایسا نہیں ہے ) بلکہ ہم نے کے لئے حق بیان کیا ، اور بیشک وہ جھوٹے ہیں ۔

اور اللہ نے یہ نہیں فرمایا : (وَإِنَّهُمْ لَمكَاذِبُونَ)۔ یہ نہیں فرمایا : کیونکہ کاذب (جو جھوٹ بولتا ہے ) اور مکذب (جو حق کو جھٹلاتا ہے اور انکار کرتا ہے )میں فرق ہے اور مشرکین خدا وند عالم کی ربوبی توحید کے حوالہ سے اپنے دعوی میں کاذب اور جھوٹے تھے اور مشرکوں کے کاذب ہونے  کی وجہ یہ تھی کہ وہ معتقد تھے کے خدا صاحب فرزند ہے اور خدا کے ساتھ دوسرے  خدا بھی موجود ہیں  ۔تب خدا وند عالم نے  فرمایا اگر خدا کے ساتھ کوئی دوسرا خدا ہوتے تو ہر خدا اپنی ربوبیت  رکھنے کے سبب اپنے خلق کردہ کو اپنی سمت کھینچتا ، اور ہر خدا

 

 

دوسرے خداوں  پر برتری  کا طلب گار ہوتا ۔ لہذا اگر مشرکین کا اپنے خداوں کے سلسلے میں ایسا عقیدہ نہ ہوتا تو  پھر خدا نے انھیں ایسے  زبردست احتجاجات  کے ساتھ جواب  کیوں دیا ہے ؟ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ خدا اپنے بندے کی طرف ایسی نسبت دے جو اس نے نہ کہا  ہو اور نہ اس کا  معتقد ہو؟ لہذا  جان لیجئے  کہ خدا وند عالم کا مشرکین کے  خدا کے رازق اور خالق ہونے کا اقرار اُس کی ربوبی توحید پر ایمان رکھنے کے مترادف نہیں ہے ،کیونکہ اگر وہ خدا کی ربوبی توحید پر ایمان رکھتے تو ہرگز خدا کے فرزند اور شریک کے قائل نہ  ہوتے ۔ اور خدا وند عالم ہر گز ان کے جواب میں اس چیز سے احتجاج نہ کرتا جس کے وہ معتقد نہیں ہیں ، اور یہ جو خدا وند عالم فرماتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خدا وند عالم کو ربوبیت میں یکتا نہیں جانتے تھے ۔

منابع

[1]- سوره انعام، آیه 164.

[2]- ابن جزی، محمد بن أحمد، التسهيل لعلوم التنزيل، محقق: الدكتور عبد الله الخالدي، لناشر: شركة دار الأرقم بن أبي الأرقم – بيروت، چاپ اول، 1416 ق. ج 1، ص 283.

[3]- أحمد بن مصطفى المراغي (المتوفى: 1371هـ)، تفسير المراغي، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابى الحلبي وأولاده بمصر، چاپ اول، 1365 ق- 1946 م. ج 8، ص 91.

[4]- سوره انعام، آیه 1.

[5]- طبري، محمّد بن جرير (م 310)، جامع البيان في تأويل القرآن، تحقيق: أحمد محمد شاكر، مؤسسة الرسالة، بي جا، چاپ اوّل، 1420 هـ.ق. ج 11، ص 254.

[6]- ابن كثير دمشقي، اسماعيل، تفسير القرآن العظيم، تحقيق: محمد حسين شمس الدين، دار الكتب العلمية، چاپ اوّل، 1419ق. ج 3، ص 214.

[7]- أحمد بن مصطفى المراغي (المتوفى: 1371هـ)، تفسير المراغي، ج 7، ص 71.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ