اندراج کی تاریخ  12/31/2020
کل مشاہدات  63
حوالہ :  اختصاصی سایت الوهابیه
سؤال

کیا توحید ربوبی میں مشرکین، موحد تھے یا مشرک؟

جواب

جواب

زمانہ جاہلیت کے مشرکوں کو موحد در ربوبیت اور مشرک در ربوبیت میں تقسیم کرنے کی بدعت ان بد ترین بدعتوں میں سے ایک ہے جو علوم قرآن میں مہارت سے عاری بعض کج فہم اور ظاہر بین افراد کی توسط سے ایجاد کی گئی ہے۔انکی گمراہی اور بدعت تین محوروں میں رد کی جائے گی۔

پہلے محور کی وضاحت اس مقالہ کے پہلے حصہ میں کی گئی ہے کہ کسی آیت میں اللہ تعالی نے پیغمبر (صلی الله علیه وآله وسلم) کے زمانے کے مشرکوں کو موحد در ربوبیت اور مشرک در ربوبیت میں تقسیم نہیں کیا ہے۔

دوسرا محور: کسی حدیث میں پیغمبر (صلی الله علیه وآله وسلم) نے اپنے زمانے کے مشرکوں کو موحد در ربوبیت اور مشرک در ربوبیت میں تقسیم نہیں کیا ہے۔

پیغمبر (صلی الله علیه وآله وسلم) نے تمام مشرکوں کو توحید اور «لا إله إلا الله» کہنے کی طرف دعوت دی ہے، سچ تو یہ ہے کہ پیغمبر (صلی الله علیه وآله وسلم) کے زمانے کے مشرک اس زمانے کے بدعت گزاروں سے بہت عاقل ہے اور بہت ہوشیار تھے۔ کیونکہ رسول خدا (صلی الله علیه وآله)، مشرکوں کو «لا إله إلا الله» کہنے کی دعوت دیتے تھے، اور مشرکین اس جملہ کے معنی کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اسی لیے اس بات پر تعجب کا اظہار کرتے تھے کہ محمد (صلی الله علیه وآله) «لا إله إلا الله» کہنے کی دعوت دیتے ہیں اور تمام معبودوں کو ایک معبود قرار دیتے ہیں اور کہتے تھے کہ ایک معبود بغیر کسی شریک، معاون اور مددگار کے اکیلا ان تمام مخلوقات کی حاجات کو کیسے پوری کر سکتا ہے اور کیسے ان تمام مخلوقات کی آواز کو سن سکتا ہے۔

جیسا کہ اللہ تعالی مشرکوں کے بارے میں فرماتا ہے: «أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ»[1]؛ (مشرکوں نے کہا) کیا (محمد) نے تمام معبودوں کو ایک معبود قرار دیا ہے؟ بے شک یہ ایک عجیب چیز ہے۔

طبری اس آیت کی تفسیر میں کہتا ہے: «وقوله (أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا) يقول: وقال هؤلاء الكافرون الذين قالوا: محمد ساحر كذاب: أجعل محمد المعبودات كلها واحدا، يسمع دعاءنا جميعنا، ويعلم عبادة كل عابد عبدَه منا (إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ): أي إن هذا لشيء عجيب. كما حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة (أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ) قال: عجب المشركون أن دُعوا إلى الله وحده، وقالوا: يسمع لحاجاتنا جميعا إله واحد! ما سمعنا بهذا في الملة الآخرة»[2]؛ وہ کافر جو کہتے تھے کہ محمد ساحر اور کذاب ہے انہوں نے کہا: کیا تمام معبودوں کو ایک معبود قرار دیا ہے جو ہم سب کی فریاد سنتا ہے اور جب ہم عبادت کرتے ہیں تو ہم سب کی عبادت سے آگاہ ہوتا ہے؟ بے شک یہ عجیب بات بات ہے۔ جیسا کہ بشر نے ہمارے لیے نقل کیا یزید سے، اس نے سعید سے، اس نے قتادہ سے اس آیت کے بارے میں: " کیا (سب) معبودوں کو ایک معبود بنایا ہے؟" قتادہ نے کہا: ایک خدا کی طرف بلائے جانے پر مشرکوں نے تعجب کیا اور کہا: ہماری تمام حاجتوں کو ایک خدا سنتا ہے؟ اس طرح کی بات کسی اور ملت کے بارے میں نہیں سنی تھی۔!

سمرقندی اس آیت کی تفسیر میں لکھتا ہے: «أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلهاً واحِداً يعني: كيف يتسع لحاجتنا إله واحد إِنَّ هذا لَشَيْءٌ عُجابٌ يعني: لأمر عجيب»[3]؛ "کیا (تمام) معبودوں کو ایک معبود قرار دیا ہے" یعنی: ایک معبود کس طرح ہماری حاجتوں کو پوری کر سکتا ہے؟ ( بے شک یہ ایک عجیب چیز ہے) یعنی ایک عجیب امر ہے۔

بغوی اس آیت کی تفسیر میں کہتا ہے: " جب عمر بن خطاب نے اسلام قبول کیا تو قریش کو سخت تکلیف ہوئی اور مومنین کو خوشی ہوئی۔ ولید بن مغیرہ نے قریش کے سربراہوں – جو پندرہ افراد پر مشتمل بزرگان اور عالی رتبہ اشخاص تھے اور ان میں سب سے بڑی عمر کا شخص ولید بن مغیرہ تھا – سے کہا: ابو طالب کے پاس چلے جاؤ تو وہ ان کے پاس گئے اور ان سے کہا: آپ ہمارے محترم اور بزرگ ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ ان نادانوں نے کیا کیا ہے اور ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے اور اپنے بھتیجے کے درمیان فیصلہ کریں۔ پس ابو طالب نے پیغمبر (صلی الله علیه وآله) کو بلانے کے لیے کسی کو بھیج دیا اور کہا: بیٹے یہ آپ کی قوم ہے آپ کے ساتھ مساوات کے خواہاں ہیں پس مکمل طور پر اپنی قوم کی طرف داری نہ کریں۔  پیغمبر نے فرمایا: مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہمارے معبودوں کی بدگوئی اور انکے عیب بیان کرنا چھوڑ دو او ہم بھی آپ اور آپ کے معبود کو آزار چھوڑ دیتے ہیں۔ پیغمبر (صلی الله علیه وآله) نے فرمایا: کیا مجھ سے ایک کلمہ بولو گے جس سے عرب کے مالک ہو جاؤ گے اور عجم آپ کے سامنے جھک جائنگے؟ ابوجہل نے کہا: خدا آپ کے باپ کو بخش دے ہم اس کے دس برابر بولینگے، پیغمبر (صلی الله علیه وآله) نے فرمایا: بولو لا إله إلا الله. انہوں نے یہ کلمہ زبان پر جاری کرنے سے انکار کیا اور کھڑے ہو گئے اور کہا: آیا تمام معبودوں کو ایک معبود قرار دے چکے ہو؟ تمام مخلوقات کا جواب ایک معبود کیسے دے سکتا ہے؟ یہ عجیب چیز ہے۔[4]"

جیسا کہ آپ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ قریش کے بزرگان اور سربراہان تقریبا پندرہ نفر تھے سب کا یہی اعتقاد تھا اور معتقد تھے کہ ایک معبود اس جہان کو نہیں چلا سکتا ہے اور تمام مخلوقات کی آواز نہیں سن سکتا ہے اور سب کی حاجات پوری نہیں کر سکتا ہے۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب ربوبیت میں مشرک تھے۔

سیوطی اس آیت کی تفسیر میں لکھتا ہے: «أخرج عبد بن حميد وَابْن جرير عَن قَتَادَة {وعجبوا أَن جَاءَهُم مُنْذر مِنْهُم} يَعْنِي مُحَمَّدًا صلى الله عَلَيْهِ وَسلم {وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا سَاحر كَذَّاب أجعَل الْآلهَة إِلَهًا وَاحِدًا إِن هَذَا لشَيْء عُجاب} قَالَ: عجب الْمُشْركُونَ أَن دعوا إِلَى الله وَحده وَقَالُوا: إِنَّه لَا يسمع حاجتنا جَمِيعًا إِلَه وَاحِدًا»[5]۔

فخر رازی، مظهری وغیرہ نے انہی مطالب کی طرف اشارہ کیا ہے[6].

لفظ «إله» اور جملہ «لا إله إلا الله» سے جو کچھ مشرکوں کو سمجھ میں آیا تھا وہ یہی تھا۔ مشرکین وہابیوں کی طرح ہرگز معتقد نہیں تھے کہ الہ فقط ایک بے قدرت، بے خاصیت اور ہر قسم کے نفع و ضرر سے عاری معبود کو کہتے ہیں، بلکہ وہ معتقد تھے ان کے بت ایسی موجودات ہیں جو بذات خود قدرت رکھتی ہیں اور جب ان سے حاجات مانگی جاتی ہیں تو انکی حاجات پوری کرتے ہیں اور معتقد تھے کہ ان کے بت انکی حاجات کو خداوند کے پاس لے جاتے ہیں اور اللہ کی اجازت کے بغیر اپنے پاس موجود شفاعت کی قدرت سے انکی حاجات کو پوری کرتے ہیں۔ رسول خدا (صلی الله علیه وآله) نے اپنے زمانے کے مشرکوں کو «لا إله إلا الله» کی طرف دعوت دی اور وہ عرب زبان ہونے کی وجہ سے الہ کے معنی کو دوسروں سے بہتر سمجھتے تھے اسی لیے وہ تعجب کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ ایک الہ تمام مخلوقات کے حالات سے کیسے آگاہ ہو سکتا ہے اور کیسے انکا جواب دے سکتا ہے اور کیسے انکی آواز سن سکتا ہے۔

لہذا اس زمانے کے بدعت گذاروں ( وہابیت) سے درخواست کی جاتی ہے کہ ہمیں دکھائیں کہ رسول خدا (صلی الله علیه وآله) نے کہاں پر مشرکوں کو موحد در ربوبیت اور مشرک در ربوبیت میں تقسیم کیا ہے اور کونسا عرب یا غیر عرب قبیلہ ربوبیت میں موحد تھا۔

ربوبیت میں مشرکوں کے شرک پر بہترین گواہ قرآن ہے، چونکہ مشرکین کچھ معبودوں کو اللہ کا شریک سمجھتے تھے لہذا محمد (صلی الله علیه وآله) کی اس بات پر تعجب کر رہے تھے کہ انہوں نے تمام معبودوں کو ایک معبود قرار دیا ہے اور الہ کو ایسی موجود سمجھتے تھے جو ربوبی قدرتوں کی حامل ہے اور اللہ تعالی نے بھی مشرکوں کے باطل معبودوں کے بارے میں یہی فرمایا ہے اور ارشاد کرتے ہیں کہ اگر اللہ کے ہمراہ دوسرے معبود بھی ہوتے تو کائنات کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ جیسا کہ آیہ فساد[7]  اور آیہ تمانع [8] میں ذکر ہوا ہے۔

اگر الہ سے مراد ایسا معبود ہو جو نفع اور ضرر پہنچانے سے عاری ہو اور خلق کرنے اور رزق دینے اور تدبیر کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو اس قسم کا بے فائدہ اور بے ضرر الہ زمین اور آسمانوں کے نظام میں خلل کا باعث کیسے ہو سکتا ہے؟ بلکہ اس آیت کا معنی اور استدلال اس وقت درست ثابت ہوتا ہے کہ الہ کو ایسی ذات سمجھیں کہ ربوبیت کی صفات اسکی ذاتی قدرتوں میں سے ہیں۔ چونکہ فقط ربوبیت کی قدرت رکھنے والے دو یا متعدد معبودوں کے ارادے میں ٹکراؤ کی صورت میں ہی زمین اور آسمانوں کا نظام درہم برہم( آیت فساد) ہونے کا احتمال ہے یا فقط اسی صورت میں یہ احتمال ہے کہ ہر الہ اپنی مخلوقات کی طرف کھینچے اور دیگر معبودوں پر برتری اور غلبہ کا طالب ہو( آیت تمانع)۔ آیت "تمانع" اس بات کی تصریح کرتی ہے مشرکین معتقد تھے کہ انکے معبود خلق کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور اللہ تعالی نے بھی انکو انکے عقیدہ کے لازمی نتیجہ کا پابند کیا اور فرمایا: اگر اللہ کے ہمراہ کوئی دوسرا اللہ موجود ہوتا تو ان معبودوں میں موجود ربوبیت کی قدرت کی وجہ سے آپس میں ٹکراؤ ہو جاتا۔

 

[1]- سوره ص، آیه 5.

[2]- طبري، محمّد بن جرير، جامع البيان في تأويل القرآن، تحقيق: أحمد محمد شاكر، مؤسسة الرسالة، بي جا، چاپ اوّل، 1420ق. ج21، ص149.

[3]- سمرقندی، أبو الليث نصر بن محمد، بحر العلوم، ج3، ص158.

[4]- بغوي، حسين بن مسعود، معالم التنزيل في تفسير القرآن، تحقيق: عبد الرزاق المهدي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، چاپ اوّل، 1420ق. ج4، ص53 و 54.

[5]- سيوطي، عبد الرحمن، الدر المنثور في التفسير بالمأثور، دار الفكر، بيروت، بي تا. ج7، ص146.

[6]- فخر الدين رازي، محمّد، مفاتيح الغيب، دار إحياء التراث العربي، بيروت، چاپ سوّم، 1420ق. ج26، ص368- مظهري، محمّد ثناء الله، التفسير المظهري، تحقيق: غلام نبي التونسي، مكتبة الرشدية، باكستان، 1412ق. ج8، ص155.

[7]- سوره انبیاء، آیه 22: «لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصفُونَ».

[8]- سوره مومنون، آیه 91: «مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَهٍ إِذًا لَذَهَبَ كُلُّ إِلَهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصفُونَ».

 

 

 

 

 

بدعت تقسیم مشرکان به «موحد در ربوبیت و «مشرک در ربوبیت» (1)

 

 

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ