اندراج کی تاریخ  12/31/2020
کل مشاہدات  58
حوالہ :  اختصاصی سایت الوهابیه
سؤال
سوال
مشرکین توحید ربوبی میں موحد تھے یا مشرک؟ 

جواب

جواب
زمانہ جاہلیت کے مشرکین کو موحد در ربوبیت اور مشرک در ربوبیت میں تقسیم کرنا بدترین بدعتوں میں سے ہے جو کچھ کج فہم اور ظاہر بین لوگوں جنہیں علوم قرآن میں کوئی مہارت نہیں، کی طرف سے وجود میں آئی ہے۔ ان کی گمراہی اور بدعت تین محوروں کی بنا پر رد ہوتی ہے۔
پہلے محور: کی توضیح اس مجموعے کے پہلے حصے میں دی جا چکی ہے جس کے مطابق خداوند متعال نے کسی آیت میں زمانہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشرکین کو موحد در ربوبیت اور مشرک در ربوبیت میں تقسیم نہیں کیا۔
دوسرا محور: کسی حدیث میں، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے زمانے کے مشرکین کو موحد در ربوبیت اور مشرک در ربوبیت میں تقسیم نہیں کیا۔
تیسرا محور: کچھ دلائل ہیں جو مشرکین کا ربوبیت میں شرک پر دلالت کرتے ہیں: کوئی دلیل نہیں جو ثابت کرے کہ ایک مشرک حقیقت میں صحیح ایمان کے ساتھ خدا کا اپنی ربوبیت میں یکتا ہونے پر ایمان رکھتا ہے اور اسی وقت غیر خدا کی بھی پرستش کرتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں بہت سارے دلائل ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ مشرکین ہر زمان ومکان میں اپنے باطل معبودوں کی ربوبیت کے قائل تھے اور اپنے معبودوں کو خداوند کی صفات ربوبیت میں شریک ٹھہراتے تھے۔ نمونے کے طور پر چند موارد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:  
اول: ہر قوم کے مشرکین نے، پیغمبران خداندمنجملہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے معبودوں کے غضب اور نفرین سے ڈرایا ہے اور کہتے تھے کہ اگر تم ہمارے خداوں کو برا کہو گے تو وہ تمہیں نقصان پہنچایں گے۔ اور یہ بات اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرکین کا عقیدہ تھا کہ ان خداوں کے پاس ربوبی طاقت ہے اور نفع اور نقصان پہنچا سکتے ہیں جیسا کہ خداوند متعال فرماتا ہے: «أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَاد"[1]؛ آیا خداوند اپنے بندے کے لیئے کافی نہیں؟ اور آپ کو غیر خدا سے ڈراتے ہیں، اور جسے بھی اللہ گمراہ کرے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
ابن عطیہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتا ہے: «وقوله تعالى: أَلَيْسَ اللَّهُ بِكافٍ عَبْدَهُ تقوية لنفس النبي عليه السلام، لأن كفار قريش كانت خوفته من الأصنام، وقالوا يا محمد أنت تسبها ونخاف أن تصيبك بجنون أو علة، فنزلت الآية في ذلك... وقوله: مِنْ دُونِهِ يريد بالذين يعبدون من دونه، وروي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث خالد بن الوليد إلى كسر العزى، فقال سادنها: يا خالد، إني أخاف عليك منها، فلها قوة لا يقوم لها شيء، فأخذ خالد الفأس فهشم به وجهها وانصرف".[2]
خداوند کا یہ قول (آیا خدا اپنے بندے کے لیئے نہیں) پیغمبر (علیہ السلام) کے لیئے حوصلہ  افزائى ہے، کیونکہ کفار قریش آپ (ص) کو اپنے بتوں سے ڈراتے تھے اور کہتے تھے: اے محمد! آپ انہیں برا بلا کہتے ہو اور ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ وہ آپ کو پاگل یا کسی مصیبت میں ڈال دینگے۔ اور یہ آیت اس حوالے سے نازل ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔اور یہ قول (اس خدا کے علاوہ) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرتے تھے اور روایت میں ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے خالد بن ولید کو بت العزی کو توڑنے کے لیئے بھیجا تھا اور مخفیانہ اس سے کہا: اے خالد، مجھے آپ کے لیئے اس سے ڈر لگتا ہے کیونکہ اس کے پاس ایسی قوت ہے کہ کوئی بھی چیز اس کا سامنا نہیں کر سکتی۔ خالد نے بھی ڈھال اٹھائی اور اس بت کو توڑ کر واپس آگیا۔


قرطبی اپنی تفسیر میں لکھتا ہے: خداوند نے فرمایا (آپ کو غیر خدا سے ڈراتے ہیں) کیونکہ وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتوں کے غضب سے ڈراتے تھے اور کہتے تھے: کیا تم ہمارے خداوں کو برا بلا کہتے ہو؟ اگر ان کی بدگوئی سے باز نہیں آئے تو وہ آپ کو مرض اور جنون میں مبتلا کریں گے یا کسی مصیبت میں ڈال دیں گے۔ قتادہ نے کہا ہے: اس کے بعد خالد بن ولید عزی کی طرف چلا تا کہ اسے کلہاڑی سے توڑ دے۔
اس کے خادموں نے کہا: اے خالد، آپ کو ان کے ضرر سے تنبیہ کرتے ہیں کیونکہ عزی کے پاس ایسی قدرت ہے کہ کوئی بھی چیز اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ خالد عزی کی طرف چلا گیا اور اس کے سر پر وار کیا یہاں پورے بت کو کلہاڑی سے ٹکڑے کر دیا۔ [3].


بغوی جو کہ وہابیت کے نزدیک مورد اعتماد مفسرین میں سے ہے، اس آیت کی تفسیر میں لکھتا ہے: "{وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ}، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ خَوَّفُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَرَّةَ معاداة الْأَوْثَانِ. وَقَالُوا: لَتَكُفَّنَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا أَوْ لَيُصِيبَنَّكَ مِنْهُمْ خَبَلٌ أَوْ جُنُونٌ"[4] (اور آپ کو خدا کے علاوہ کسی اور چیز سے ڈراتے ہیں) کونکہ وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتوں سے دشمنی کے انجام کے بارے میں ڈراتے تھے اور کہتے تھے: یا ہمارے خداوں کو برا بلا کہنے سے بچو یا وہ یقینا آپ کی عقل کو خراب کرینگے یا تمہیں دیوانہ بنا دینگے۔
کیا یہ اعتقاد کہ مشرکین یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ کہ ان کے بت اتنی قدرت رکھتے ہیں کہ کوئی بھی چیز ان کا سامنا نہیں کر سکتی اور وہ انسان کو دیوانہ بنا سکتے ہیں اور اس کی عقل بگاڑ سکتے ہیں یا اس پر کوئی مصیبت نازل کر سکتے ہیں، آیا اس طرح کا عقیدہ اس بات کی نشانی نہیں کہ مشرکین اپنے خداوں اور بتوں کے لیئے صفات ربوبیت اور نفع وضرر پہنچانے کے قائل تھے؟


دوم: ضمام بن ثعلبہ کے اسلام لانے کا قصہ بھی قابل غور ہے، کیونکہ اس داستان میں آیا ہے کہ مشرکین، نے ضمام کو اپنے خداوں سے ڈرایا اور مقابلے میں ضمام نے بھی ان کے خداوں کی طرف سے کوئی بھی نفع اور ضرر پہنچانے کی نفی کی۔ اس کا مطلب ہے کہ مشرکین اپنے خداوں کے بارے خدا کے علاوہ نفع اور ضرر پہنچانے کے قائل تھے۔ جیسا کہ ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: " بعث بنو سعد بن بكر ضمام بن ثعلبة إلی رسول الله صلی الله عليه وسلم... حتی إذا فرغ قال: فإني أشهد أن لا إله إلا الله وأنك عبده ورسوله... حتی قدم علی قومه فاجتمعوا إليه فكان أول ما تلكم به وهو يسب اللات والعزی فقالوا: مه يا ضمام إتق البرص والجذام والجنون فقال: ويلكم إنهما والله لا يضران ولا ينفعان"[5]؛ طائفہ سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو (اپنا نمائندہ بنا کر) رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیجا۔۔۔آخر میں ضمام نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائے کوئی معبود نہیں اور آپ اس کے بندے اور رسول ہو۔۔۔اس کے بعد وہ اپنی قوم کے پاس گیا اور وہ اس کے پاس جمع ہوگئے اور سب سے پہلی بات جو اس کی زبان سے نکلی وہ لات اور عزی کی برائی تھی۔ اس کی قوم نے کہا: اے ضمام، آپ کو ہو گیا ہے، برص، جذم اور جنون سے ڈرو۔ ضمام نے کہا: وائے ہو تم پر، خدا کی قسم لات اور عزی نہ کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی نفع۔

شیخ شعیب ارنؤوط نے اس روایت كو صحیح کہا ہے کیونکہ اس روایت میں آیا ہے کہ مشرکین نے ضمام بن ثعلبہ سے کہا: "اتق البرص، اتق الجذام، اتق الجنون" یعنی ان کا عقیدہ تھا کہ لات اور عزی نفع اور ضرر پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں اور جو شخص انہیں برا بلا کہتا ہے اسے برص کی بیماری، جذام اور ديوانگی میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ اور ضمام بن ثعلبہ نے ان کے جواب میں کہا کہ وہ نفع اور ضرر نہیں پہنچا سکتے۔ اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین کا عقیدہ تھا کہ لات اور عزی اور دوسرے بت نفع اور ضرر پہنچاتے ہیں اور نفع اور ضرر پہنچانا ربوبیت کی واضح خصوصیات میں سے ہے۔ اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ تمام مشرکین ربوبیت میں مشرک تھے اور کبھی بھی توحید در ربوبیت کے قائل نہیں تھے۔


سوم: "زنیرہ" ایک رومی کنیز تھی اور اسلام لایا تھا اور اولین اور سابقین میں سے تھی اور ان سات غلاموں میں سے تھی جو آزاد ہوگئے تھے جیسا کہ ابن حجر عسقلانی زنیرہ کے حالات زندگی کے بارے میں سعد بن ابراہیم سے روایت کرتے ہوئے لکھتا ہے: " كانت زنيرة رومية فأسلمت فذهب بصرها فقال المشركون أعمتها اللات والعزى فقالت إني كفرت باللات والعزى فرد الله إليها بصرها وأخرج محمد بن عثمان بن أبي شيبة في تاريخه من رواية زياد البكائي عن حميد عن أنس قال قالت لي أم هانئ بنت أبي طالب أعتق أبو بكر زنيرة فأصيب بصرها حين أعتقها فقالت قريش ما أذهب بصرها إلا اللات والعزى فقالت كذبوا وبيت الله ما يغني اللات والعزى ولا ينفعان فرد الله إليها بصرها"[6].
زنیرہ روم سے تھی اور اسلام لانے کے بعد آنکھیں کھو دی، مشرکین نے کہا کہ لات اور عزی نے اسے اندھا کر دیا ہے۔ زنیرہ نے کہا: بے شک میں نے لات اور عزی کا انکار کیا ہے، لہذا خداوند اس کی بینائی اسے لوٹا دے۔ اور محمد بن عثمان بن ابی شیبہ نے اپنی تاریخ میں ایک روایت جسے زیادہ  البكائي نے حمید سے، اس نے انس سے نقل کی ہے، نقل کرتے کہئے کہتا ہے: ابو طالب کی بیٹی ام ہانی نے مجھ سے کہا: ابو بکر نے زنیرہ کو آزاد کیا اور آزادی کے وقت اس کی آنکھوں کو بیماری لگی، اور قریش نے کہا اس کی بینائی سوائے لات وعزی کے کسی اور نے نہیں چھینی، زنیرہ نے کہا: وہ جھوٹ بول رہے ہیں، کعبہ خدا کی قسم، لات اور عزی کسی چیز  سےبے نیاز نہیں، کسی کو نفع نہيں دیتے، پس خداوند نے اس کی بینائی لوٹا دی۔
جیسا کہ اس روایت میں آیا ہے کہ مشرکین عرب کا اعتقاد تھا کہ لات اور عزی نے اپنی قدرت کے زریعے زنیرہ کی بینائی چھین لی۔

چہارم: فیروز آبادی راشد بن عبد ربہ جو کہ مسلمان ہونے سے پہلے اس کا نام غاوی بن عبد العزی تھا، کے بارے میں کہتا ہے: " كانَ غاوي بنُ عبدِ العُزَّى سادناً لصَنَمٍ لبني سُلَيْمٍ، فَبَيْنا هو عنْدَهُ إذ أَقبَلَ ثَعْلَبانِ يَشْتَدَّانِ حتى تَسَنَّمَاهُ، فَبالاَ عليه، فقالَ البَيْتَ [أربّ يبول الثّعلبان برأسه ... لقد هان من بالت عليه الثّعالب]، ثم قال: يا مَعْشَرَ سُلَيْمٍ، لا واللَّهِ لا يَضُرُّ ولا يَنْفَعُ، ولا يُعْطي ولا يَمْنَعُ، فَكَسَرَهُ ولَحِقَ بالنَّبيّ صلَّى الله عليه وسلَّم فقال: "مااسْمُكَ"؟ فقال: غاوي بنُ عَبْد العُزَّى، فقال: "بل أنْتَ راشدُ بنُ عَبْدِ رَبّه"[7].
"غاوی بن عبد العزی بنی سلیم کے ایک بت کا ہمراز اور خدمت گزار تھا، ایک دن وہ بت کے پاس تھا کہ دو لومڑیاں آگئیں اور بت پر چڑھ گئیں اور اس کے اوپر پیشاب کیا۔ اور غاوی بن عبد العزیز نے یہ شعر پڑھا (یہ کس طرح کا خدا ہے جس کے سر پر لومڑی پیشاب کرتی ہے۔۔۔۔بے شک جس کے اوپر لومڑیاں پیشاب کریں وہ حقیر اور ذلیل ہے)۔ اس کے بعد کہا: اے گروہ بنی سلیم، خدا کی قسم یہ بت نہ کوئی فائدہ دیتا ہے نہ کوئی نقصان، نہ کوئی چیز دیتا ہے نہ کوئی چیز چهین لیتا ہے، لہذا اس بت کو توڑا اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے ملحق ہوگیا، پیغمبر نے فرمایا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: غاوی (گمراہ) بن عبد العزی، آپ (ص) نے فرمایا: بلکہ تم راشد (ہدایت یافتہ) بن عبد ربہ ہو۔
 
اس کہانی میں ہم دیکھتے ہیں کہ راشد بن عبد ربہ اپنے گذشتگان کے بارے میں بات کرتا ہے، اس کا گمان تھا کہ وہ بت- جس کا نام کتاب الاصابہ میں ابن حجر کی روایت کے مطابق، سوع تھا- نفع اور ضرر اور عطا ومحروم کرنے پر قادر ہے، لیکن جب اس نے دیکھا کہ ایک لومڑی اس كے سر پر پیشاب کر رہی ہے لیکن وہ بت اپنا دفاع نہیں کر سکتا، تو ایک شعر کہا اور اس شعر میں اس بت کو "رب" کہتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین اپنے بتوں کو رب مانتے تھے اور اپنے بتوں کے لیئے جو ارباب غیر اللہ تھے، صفات ربوبیت کے قائل تھے اور نفع اور ضرر ان کے ہاتھ میں ہے، یا عطا اور منع ان کے ہاتھ میں ہے۔

 

پنجم: فتح مکہ کے دوران رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مختلف قبیلوں کے بتوں کو توڑا اور وہ تمام قبیلے یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ ان کے سارے بت قدرت ربوبیت رکھتے ہیں اور انہیں خراب کرنے والوں کو روک سکتے ہیں یا انہیں نقصان پہنچانے والوں کو مصیبت میں ڈال سکتے ہیں اور يہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ سارے قبائل ربوبیت میں مشرک تھے. ابی یعلی نے ابی طفیل سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا: " لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى نَخْلَةٍ، وَكَانَتْ بِهَا الْعُزَّى، فَأَتَاهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَكَانَتْ عَلَى تِلَالِ السَّمُرَاتِ، فَقَطَعَ السَّمُرَاتِ وَهَدَمَ الْبَيْتَ الَّذِي كَانَ عَلَيْهَا، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: «ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا»، فَرَجَعَ خَالِدٌ، فَلَمَّا نَظَرَتْ إِلَيْهِ السَّدَنَةُ ـ وَهُمْ حُجَّابُهَا ـ أَمْعَنُوا فِي الْجَبَلِ وَهُمْ يَقُولُونَ: يَا عُزَّى خَبِّلِيهِ، يَا عُزَّى عَوِّرِيهِ، وَإِلَّا فَمُوتِي بِرَغْمٍ، قَالَ: فَأَتَاهَا خَالِدٌ، فَإِذَا امْرَأَةٌ عُرْيَانَةٌ نَاشِرَةٌ شَعْرَهَا تَحْثُوا التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهَا، فَعَمَّمَهَا بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، قَالَ: تِلْكَ الْعُزَّى".[8]
جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے مکہ کو فتح کیا تو خالد بن ولید کو منقطہ نخلہ بھیجا جہاں العزی بت تھا. خالد بن ولید وہاں گیا اور عزی بت کو تین خاردار درختوں پر لٹکایا، خالد نے ان درختوں کو کاٹا اور جو گھر ان تین درختوں کے اوپر بنا تھا  اسےبرباد کیا. اس کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے پاس آیا اور اس کی خبر دی. پیغمبر نے فرمایا: دوبارہ چلے جاؤ کیونکہ تم نے ابھی تک کوئی کام نہیں کیا. خالد دوبارہ وہاں چلا گیا، جب عزی کے ہمراز اور درباریوں نے خالد کو دیکھا تو خود کو ایک دامن پہاڑ میں چھپایا اور کہا: اے عزی اسے مفلوج اور دیوانہ کرو، اے عزی اسے اندھا کرو ورنہ ہماری موت ذلت کے ساتھ ہوگی. ابی طفیل کہتا ہے:خالد عزی بت کے پاس آیا اور دیکھا کہ ایک عورت جس كے بال اس کے بدن پر بکھرے ہوئے تھے اپنے سر پر خاک ڈال رہی ہے، خالد نے تلوار کے ذریعے اس کا محاصرہ کیا اور اسے قتل کر دیا. اس کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے پاس آيا، پیغمبر نے فر مایا: وہ عورت بت عزی تھا.
اس بنا پر وہابیت اور نجدی قبائل عرب میں سے ایک قبیلے کا نام نہیں لے سکتے جو اپنے بتوں کے لیے صفات ربوبیت کے قائل تھے. اگر وہابی عرب قبائل سے نہیں لا سکتے ہیں تو اسلام سے پہلے کی قوموں سے لائیں اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو طول تاریخ میں کسی ایک مشرک کا نام بتائیں جو خداوند کو صحیح ایمان کے ساتھ اس کی ربوبیت ميں یکتا مانتا تھا لیکن اسی وقت خداوند کے ساتھ کسی اور موجود کی عبادت کرتا تھا. اور اس کے نفع ونقصان پہنچانے کے قائل نہ تھا.

 

نتیجہ
جو کچھ گزر گیا اس کی روشنی میں:
اول: مشرکین کو موحد در ربوبیت اور مشرک در ربوبیت میں تقسیم کرنا قرآن اور سنت میں اس کی کوئی اساس نہیں اور اس طرح کی بدعت کا بطلان واضح ہے. لہٰذا جو مشرکین کو موحد در ربوبیت مانتے تھے انہوں نے قرآن اور سنت کی مخالفت کی ہے اور اس مخالفت اور انحراف کا نتیجہ بھی ان کے عمل میں معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح اہل قبلہ کی تکفیر کرتے ہیں اور انہیں مشرک سمجھتے ہیں اور اسلامی ممالک کو فساد میں ڈال دیا ہے.
دوم: ایک مشرک خدا کے سوا کسی اور موجود کی عبادت نہیں کرتا لیکن اس کے لئے خداوند کی طرح صفات اور قدرت ربوبی کا قائل ہے اور اگر وہ اس موجود کو ہر قسم کے خير وشر اور نفع ونقصان سے خالی سمجھتا تو اس کی عبادت میں اپنا وقت برباد نہ کرتا چہ جائے اس سے دشمنی کرے اور اس کے ساتھ جنگ کرے! دیوانے بھی ایسا کام کرنے کے لیے تیار نہیں. پس عبادت میں شرک کا لازمہ ربوبیت میں شرک ہے.
سوم: جو چيز کسی کی عبادت کا باعث بنتی ہے وہ اس کی طرف سے بصورت مستقل یا خدا کے ساتھ شریک ہوکر یا شفاعت کے ساتھ، نقصان کا خوف ہے اور فائدہ پہنچانے کا طمع اور امید ہے. اس خوف یا طمع کا زیادہ یا کم ہونا اس کی عبادت نہ ہونے پر کوئی اثر نہیں کرتا. اور ایک موجود سے خوف یا لالچ ان تینوں شروط میں سے ایک کے ہوتے ہوئے ہر حال میں عبادت شمار ہوگی. اور اگر نافع یا ضار کے لیے ان تینوں شروط میں سے کوئی ایک شرط کے قائل نہ ہو، تو اس کی طرف سے نقصان پہنچانے کا خوف اور فائدہ پہنچانے کی امید اگرچہ زیادہ نہ ہو تو وہ عام اسباب کے دائرے میں ہوگا اور اس کی طرف نفع ونقصان کی نسبت دینا از باب مجاز ہے نہ کہ حقیقت. جس طرح درندہ شیر سے خوف اور مالدار سے عطا کی امید.

 

[1]- سوره زمر، آیه 36.

[2]- ابن عطيه اندلسي، عبد الحقّ، المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز، تحقيق: عبد السلام عبد الشافي محمد، دار الكتب العلمية، بيروت، چاپ اوّل، 1422ق. ج4، ص 532.

[3]- قرطبي، محمّد، الجامع لأحكام القرآن، تحقيق: أحمد البردوني وإبراهيم أطفيش، دار الكتب المصرية، القاهرة، چاپ دوّم، 1384ق. ج15، ص258.

[4]- بغوي، حسين بن مسعود، معالم التنزيل في تفسير القرآن، تحقيق: عبد الرزاق المهدي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، چاپ اوّل، 1420ق. ج4، ص 90.

[5]- ابن حنبل شيباني، أحمد، مسند أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط وعادل مرشد و ديگران، مؤسسة الرسالة، چاپ اوّل، 1421ق. ج4، ص211- دارمي، عبد الله، سنن الدارمي، تحقيق: حسين سليم أسد الداراني، دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية، چاپ اوّل، 1412ق. ج1، ص516.

[6]- ابن حجر عسقلاني، أحمد بن علي، الإصابة في تمييز الصحابة، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود، وعلى محمد معوض، دار الكتب العلمية، بيروت، چاپ اوّل، 1415ق. ج8، ص151.

[7]- فیروزآبادی، محمد بن يعقوب،القاموس المحيط، تحقيق: مكتب تحقيق التراث في مؤسسة الرسالة، بإشراف: محمد نعيم العرقسُوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان، چاپ هشتم، 1426ق - 2005 م. ص63.

[8]- أبو يعلى موصلي، أحمد، مسند أبي يعلى، تحقيق: حسين سليم أسد، دار المأمون للتراث، دمشق، چاپ اوّل، 1404ق. ج2لإ ص196.

 

 

 

 

بدعت تقسیم مشرکان به «موحد در ربوبیت و «مشرک در ربوبیت» (3)


نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ