حوالہ :  اختصاصی سایت الوهابیه
سؤال

توسُّل کے عدم جواز پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ چونکہ مشرکین بتوں کی پوجا کرتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ ہم تو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ان کی عبادت کرتے ہیں لہذا جس طرح تقرب الٰہی کے لئے ان بتوں کی عبادت کرنا ناجائز اور ناپسندیدہ فعل ٹھہرا، اسی طرح اب اگر کوئی اللہ کے قرب کے لئے کسی کا توسُّل کرے تو وہ بھی اسی طرح ناجائز ہے۔ منکرین توسُّل بطور دلیل قرآن پاک کی یہ آیت کریمہ پیش کرتے ہیں:

مَا نَعبْدُھُمْ إِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ إِلَی اللهِ زُلْفٰی۔

زالزمر،39 : 3

ہم تو ان کی پرستش محض اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہم کو اللہ کا مقرب بنا دیں۔

جواب

حقیقت یہ ہے مذکورہ بالا آیت کریمہ توسُّل کے انکار اور رد میں ہے ہی نہیں۔ توسُّل کے عدم جواز پر یہ بالکل جاہلانہ اور متعصبانہ استدلال ہے۔ یہ آیت کریمہ غیر اللہ کی عبادت کے حرام ہونے پر نصِّ قطعی کا حکم رکھتی ہے، اور اس حرمت کو کوئی دلیل جواز و حلّت میں نہیں بدل سکتی۔ مشرکین بتوں کی عبادت کرتے تھے، اسلام نے اسے ناجائز قرار دے دیا، اور اسے شرک و کفر قرار دیا جب ان کی بت پرستی کو اسلام نے حرام اور شرک قرار دیا تو اس کے جواز میں انہوں نے یہ دلیل پیش کی اور بجائے اس کے کہ وہ بتوں کی عبادت سے برات کا اظہار کرتے اور اس حرام فعل کو ترک کردیتے، وہ ڈھٹائی سے دلیل ِجواز کے در پے ہوئے کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں مگر معبود سمجھ کران کی عبادت نہیں کرتے بلکہ اس لیے ان کی عبادت کرتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے ہمیں اللہ کا قرب نصیب ہوجائے یعنی ہم تقرب الی اللہ کیلئے انہیں وسیلہ بناتے ہیں۔

مذکورہ آیت کریمہ میں اس دلیل کو رد کردیا گیا کہ اگر کوئی تقرب اور وسیلہ کے ارادے سے بھی غیر اللہ کی عبادت کرے تو پھر بھی یہ شرک اور حرام قطعی ہے، کوئی دلیل اس کو جائز نہیں کرسکتی۔

اب سوال یہ ہے کہ مشرکین نے اپنے مشرکانہ اور حرام فعل کو جائز ثابت کرنے کیلئے توسُّل کی دلیل کیوں دی؟ یہ بڑی بدیہی بات ہے کہ دلیل دینے والا ہمیشہ اپنے مخاطب کے نظریات و عقائد کو سامنے رکھتا ہے، اسی تناظر میں وہ ایسی دلیل لاتا ہے جو اس کے فریق مخالف و مخاصم کیلئے نہ صرف قابل قبول بلکہ اس کے اعتقاد کا حصہ بھی ہوتی ہے۔ اس دلیل پر انحصار کرتے ہوئے وہ اپنے مخاطب کو وہ دلیل دیتا ہے کہ شاید اس دلیل کی وجہ سے اس کا فعل جائز ہوجائے جبکہ اس کے برعکس اگر اسے یہ معلوم ہو کہ بت پرستی مخاطب کے نزدیک مردود ہے اور بتوں کا توسُّل بھی مردود ہے تو ایسی دلیل وہ کبھی بھی نہیں دے گا۔ یا یوں کہہ لیں اگر انہیں یہ معلوم ہو کہ بت پرستی شرک ہے اور توسُّل بھی شرک ہے تو ایسی صورت میں بت پرستی کے جواز کیلئے وہ توسُّل کی دلیل کیوں دیتے ؟گویا مشرکین کا بت پرستی کے مشرکانہ فعل کے جواز کیلئے توسُّل کی دلیل دینا اس بات کا اظہار تھا کہ شاید اس جائز فعل… دلیلِ توسُّل سے امرِ حرام یعنی بت پرستی کا کوئی جواز نکل آئے۔ وہ بخوبی جانتے تھے حضور نبی اکرم ﷺ اورصحابہ کرام توسُّل کو جائز سمجھتے ہیں اگر انہیں معلوم ہوتا کہ اسلام توسُّل کو جائز نہیں سمجھتا تو وہ کبھی بھی حضور نبی اکرم ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بت پرستی کے جواز کیلئے توسُّل کی دلیل پیش نہ کرتے۔ بت پرستی کے جواز کیلئے توسُّل کی دلیل پیش کرنا اس بات کا واضح اظہار تھا کہ توسُّل اسلام میں جائز ہے۔

اللہ رب العزت نے ان کی اس دلیل کو رد کر کے انہیں یہ باور کرایاکہ تمہارا توسُّل عنداللہ بے شک مقبول اور جائز ہی کیوں نہ ہو مگر اس سے شرک جائز نہیں ہوسکتا شرک قطعی حرام ہے۔ توسُّل جیسی ارفع دلیل بھی بت پرستی کو شرک سے پاک نہیں کرسکتی۔ لہذا شرک شرک ہی رہا۔اس کے جواز کیلئے دی جانے والی دلیل کو اللہ رب العزت نے قبول نہیں کیا۔ اسی لیے باری تعالی نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا:

إِنَّ اللهَ لَا یَغْفِرُ أَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ۔

النساء، 4 : 48

بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم تر (جو گناہ بھی ہو) جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔

وہ ہر گناہ کو معاف کردیتا ہے مگر فعلِ شرک کو معاف نہیں کرتا۔ گویا شرک ایسا فعل ہے جو ہر حال میں ناقابل قبول اور ناقابل معافی ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذکورہ آیہ کریمہ کی رو سے شرک رد ہوا، توسُّل رد نہیں ہوا۔

پہلی تمثیل

یہ بات بالکل اسی طرح ہے جیسے (معاذ اللہ) کوئی بیٹاماں کو جوتی سے مار رہا ہو اور باپ بیٹے کا ہاتھ روک کر پوچھے کہ ماں کو کیوں مار رہے ہو؟ بیٹا جواب میں کہے کہ میں ماں کو کبھی بھی نہ مارتا اور مجھے معلوم ہے کہ یہ ناپسندیدہ کام ہے مگر میں نے یہ سارا کچھ اس لیے کیا کہ وہ غلیظ گالیاں دے رہی تھیں۔ مارنے کے جواز کے بارے میں بیٹے کی اس دلیل کے پیچھے اس کا یہ خیال کارفرما تھا کہ باپ کو گالیاں دینے سے شدید نفرت تھی۔ اُس کی اِس نفسیات کو جان لینے سے بیٹے کا گمان غالب یہ تھا کہ شاید گالیاں دینے والی دلیل کام کر جائے گی اور اس کی حرکت پر باپ کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا اور وہ کہے گا : بیٹا !تم نے اپنی ماں کو مار کر اچھا کیا ہے اور تمہیں ایسا ہی کرنا چاہئے تھا۔ غلیظ گالیاں دینے پر اسے ایسا ہی سبق ملنا چاہئے۔ مگر باپ نے یہ کہنے کی بجائے بیٹے کو دو چار تھپڑ رسید کردیئے اور اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے گندی گالیاں دینا اچھی بات نہیں مگر پھر بھی وہ تمہاری ماں ہے، تمہیں اس کو مارنے کا کوئی حق نہیں۔ اس طرح بیٹے نے اپنی ماں کو مارنے کی جو دلیل دی وہ بلاجواز تھی اور باپ نے اسے رد کردیا۔

بتوں کی پوجا کے بارے میں جب کفار و مشرکین سے پوچھا جائے گا تو اسی طرح وہ کہیں گے کہ ہم انہیں معبود تو نہیں سمجھتے محض توسُّل کے لئے ان کی عبادت کرتے ہیں۔ غیر اللہ کی پرستش کے جواز میں ان کی دلیل توسُّل کو اس بنا پر رد کردیا جائے گا کہ تمہاری اس دلیل سے بت پرستی کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

دوسری تمثیل

ایک ناپاک چیز کو پاک چیز کی دلیل سے پاک نہیں کیا جاسکتا۔ یا ایک حرام فعل کو محض دلیل جواز سے حلال نہیں کیا جاسکتا جیسے کوئی کہے کہ میں شراب پیتا ہوں۔ اس سے کوئی پوچھے کہ شراب کیوں پیتے ہو؟ اوروہ کہے : غم غلط کرنے کیلئے پیتا ہوں۔ تو اسے کہا جاسکتا ہے کہ غم دور کرنے کے شراب نوشی کے فعل حرام کے سوا اور بھی بے شمار طریقے ہیں، مثلا انسان باغ میں سیر کرے، ورزش کرے، صبح کی ٹھنڈی فضا میں سانس لے، ذکر و اذکار کرے، عبادات و نوافل ادا کرے وغیرہ۔

اب جہاں تک فی نفسہ غم غلط کرنے کی دلیل کا تعلق ہے تو یہ جائز ہے مگر اس دلیل سے شراب کیسے حلال ہوسکتی ہے۔ دلیل جواز سے شراب کی حرمت ختم نہیں ہوسکتی کہ غم غلط کرنے کی دلیل سے شراب کا پینا حلال سمجھا جائے۔ اسی طرح جب کفار و مشرکین سے پوچھا جائے کہ بت پرستی کیوں کرتے ہو؟ اور وہ کہیں : ہم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے اللہ کا قرب مل جائے۔ ان کی اس دلیل کو اس لئے رد کر دیا گیا کہ توسُّل سے بت پرستی اور شرک جائز نہیں ہوسکتا۔

جہاں تک باری تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا تعلق ہے تو اس کے بے شمار جائز طریقے موجود ہیں۔ بت پرستی اس کا قرب حاصل کا طریقہ نہیں ہے، یہ تو حرام اور شرک ہے۔ اس لیے اللہ تعالی کا قرب پانے کیلئے جائز طریقوں کو استعمال میں لایا جائے تاکہ اس کا حقیقی قرب اور اس کی رضا و خوشنودی ملے، جبکہ بت پرستی قرب الٰہی کا نہیں بلکہ عذاب الٰہی کا باعث بنتی ہے۔

 

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ