اس تحقیق میں  غیر خدا کی قسم کھانے سے متعلق ابن تیمیہ کے نظریئے کی جانچ پڑتال کی گئی ہے۔ عموم فقہا کے برعکس ،ابن تیمیہ  از نظر فقہی غیر خدا کی قسم کھانے کو  حرام قرار دیتا ہے۔ لیکن  دوسرے علمائے اسلام سے ابن تیمیہ  کا  بنیادی  فرق اس موضوع کے بارے میں اس کی اعتقادی نظر میں ہے۔ وہ ایک حدیث مرسل   پر استناد کر کے غیر خدا کی قسم کھانے کو شرک اور مخالف توحید الوہی سمجھتا ہے۔یہ مقالہ ان احادیث سے استفادہ کرکے جنہیں ابن تیمیہ قبول کرتا ہے اس مسئلے کی جانث پڑتال کرتا ہے اور یہ  بات واضح ہوجاتی ہے کہ غیر خدا کی قسم  کھانے کی وجہ سے مسلمانوں کو مشرک جاننا برخلاف ظاهر آیات و سنت صحیح پیامبر(ص) اور سیره صحابه ہے۔اس کے علاوہ، غیر خدا کی قسم کھانے کو شرک قرارد ینا ، ابن تیمیہ کے عبادی اصولوں اور خلف پر سلف کی برتری کے مبنا کے خلاف ہے۔اسی طرح ابن تیمیہ روایات کے معانی و مطالب بیان کرنے میں بھی  دچار مشکل ہوا ہے اور اپنی سمجھ و فہم   کو روایت پر مسلط کردیا ہے۔اس کے علاوہ، مقام عمل میں بھی ابن تیمیہ اپنی بات پر قائم نہیں رہا اور کئی بار غیر خدا کی قسم کھائی ہے۔

مصنف :  ابوذر فروتنی:مدرسہ اہل البیت کے انسٹیٹیوٹ دارالإعلام کے محقق ہیں
حوالہ :  سراج منیر شماره 35

مقدمه

مسلمان معاشرے میں ایک  رایج  عادت، انبیا ، صالحین ،  ما ں باپ اور بچوں کی قسم کھانا ہے جسے فقہا " غیر خدا کی قسم" کا نام دیتے ہیں ؛ جمہور فقہا کے نزدیک  اس طرح کی قسم اٹھانا جایز ہے؛ لیکن سلفی اور وہابی عام مسلمانوں کے برعکس اس طرح کی قسم کو شرک سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کو اس طرح کی قسم اٹھانے کی وجہ سے مشرک قرار دیتے ہیں ۔اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ وہابی اور سلفی مسلمانوں کی تکفیر میں سب سے زیادہ  فائدہ ابن تیمیہ کے نظریات سے اٹھاتے ہیں ، ضروری ہے  کہ ہر مسئلے میں ابن تیمیہ  کے نظریئے پر کافی  توجہ دی جائے اور ہر جہت سے اس  کا جائزہ لیا جائے۔ لیکن ابھی تک غیر خدا کی قسم کھانے والے مسئلے پر ابن تیمیہ   کے نظریئے کی  جانچ پڑتال نہیں ہوئی ہے۔صرف چند ایک کتابوں میں ابن تیمیہ کے نظریات اور ادلہ کی طرف  جزئی طور پر اشارہ ہوا ہے جیسے الحلف بغیرالله عتبه عباسیه و  الوهابية والمباني الفكرية۔

اس بناء پر موجودہ تحقیق  میں اس کمی کو درک کرتے ہوئے،اس موضوع کے متعلق  ابن تیمیہ  کی باتوں کو اکھٹا کیا گیا ہے اور پھر اسے دو حصوں ، فقہی اور اعتقادی، میں تقسیم کرکے اس کی ادلہ  کی جانچ پڑتال کی گئی ہے اور  کتاب و سنت،اقوال بزرگان دین کی بنیاد پر اور خود ابن تیمیہ  کی دوسری باتوں اور  مبانی پر تکیہ  کرکے اس پر تنقید کی گئی ہے۔

غیر خدا کی قسم کھانے کے متعلق ابن تیمیہ کا فقہی نظریہ

قسم کا مطلب ہے  کہ  انسان   کسی بڑی چیز یا بڑے شخص کی قسم کھاکراپنی بات یا نظریئے پر زور دے۔ دینی علما کے نزدیک قسم کا رایج معنی یہی ہے۔ قسم   کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے؛ خدا کی قسم اور غیر خدا کی قسم ۔فقہا کی نظر میں ، اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی قسم کھائے تو ضروری ہے کہ وہ اپنی قسم پر عمل کرے اور اگر اپنی قسم کو توڑے گا تو پھر اس پر قسم توڑنے کا کفارہ واجب ہوجائے گا۔ لیکن غیر خدا کی قسم کے بارے میں فقہا نے دو طرح سے بحث کی ہے۔ ایک یہ کہ غیر خدا کی قسم ، شرعی قسم نہیں ہےاور اس کا توڑنا کفارہ نہیں رکھتا ۔ابن تیمیہ کی نظر بھی یہی ہے وہ کہتا ہے: غیر اللہ کی قسم منعقد نہیں ہوتی اور اس کے توڑنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا.[1]

 اور دوسری بحث یہ کہ غیر خدا کی قسم کھانا جایز ہے یا نہیں ؟ ابن تیمیہ کی نظر میں غیر خدا کی قسم کھانا حرام ہے اور جایزنہیں کہ مسلمان پیامبر(ص) اور دوسرے مقدسات کی قسم کھا ئیں .[2]وہ اپنے نظریئے کے اثبات کےلیے دو روایتوں سے استدلال کرتا ہے:

  1. لا تحلفوا إلاّ بالله؛
  2. 2.      ۲إن الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم فمن كان حالفا فليحلف بالله أو ليصمت؛[3]

ابن  تیمیہ  مذکورہ روایات میں نہی کو تحریمی جانتا ہے اور معتقد ہے کہ جو بھی شخص پیامبر(ص) یا دوسری مخلوقات کی قسم کھائے گا ،اس نے فعل حرام انجام دیا ہے .[4]وہ اپنی نظر کی تایید میں کہتا ہے: جمہور علما بھی غیر خدا کی قسم کھانے کو حرام سمجھتے ہیں [5] اس بناء پر ، ابن تیمیہ از نظر فقہی  غیر اللہ کی قسم کو حرام قرار دیتا ہے۔

ابن تیمیہ کے نظریئے پر نقد

ابن تیمیہ کا نظریہ دو طرح سے مخدوش ہے؛ پہلا یہ کہ ان روایات میں نہی تحریمی نہیں ہے؛ دوسرا یہ کہ علما ء، غیر خدا کی قسم کھانے کو جایز سمجھتے ہیں کہ آگے ان دو مسئلوں پر بحث ہوگی۔

الف: مذ کورہ روایات میں نہی کا تحریمی نہ ہونا

اگرچہ نہی میں اصل ، تحریمی ہونا ہے لیکن جب قرینہ موجود ہو تو پھر قرینے پر حمل ہوتا ہے؛ غیر اللہ کی قسم میں بھی متعدد قرائن موجود ہیں  جو ہمیں یہ بتلاتے ہیں کہ مذکورہ روایات میں نہی تحریمی نہیں ہے؛ ان میں سے ایک یہ ہے: پیامبر(ص) اور صحابہ نے غیر خدا کی قسم کھائی ہے۔ نمونے کے طور پر؛ رسول خدا(ص) نے سائل کے لیے معارف اسلامی بیان کرنے کے بعد فرمایا: أَفْلَحَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ»؛ "اس کے باپ کی قسم اگر وہ سچ بولتا ہے تو وہ کامیاب ہے یا اس نے کہا: میں اس کے والد کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر وہ سچ کہتا ہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔"[6]

اسی طرح متعدد موارد میں  صحابہ نے غیر خدا کی قسم کھائی ہے جیسے دوسرے خلیفہ نے اپنی چوٹوں کی حد کا تعین کرتے وقت اپنی زندگی کی قسم کھائی «لَعَمْرِي لَقَدْ بَلَغَ هَذَا»؛[7] مجھے اپنی جان کی قسم مقدار یہاں تک پہنچی ہےیعنی زخم کی مقدار زیادہ ہے.[8]" اب اگر مذکورہ روایات میں نہی تحریمی ہوتی اور غیر خدا کی قسم کھانا جایز نہ ہوتا تو پیامبر (ص) اور صحابہ غیر خدا کی قسم نہ کھاتے، جب پیامبر (ص) اور صحابہ نے غیر خدا کی قسم کھائی ہے تو یہ اس بات پر قرینہ ہے کہ مذکورہ روایات میں نہی تحریمی نہیں ۔

ب:جمہور علما ءکے نزدیک غیر خدا کی قسم کھانے کا جواز

ابن تیمیہ غیر اللہ کی قسم کھانے کی حرمت کی نسبت جمہور علماء کی طرف دیتا ہے اس حال میں  جبکہ عموم علماء غیر خدا کی قسم کھانے کو جایز سمجھتے ہیں۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اہل سنت کے فقہی مذاہب کا نظریہ  یہاں پر بیان ہوتا ہے۔

۱۔۱. احناف: حنفی غیراللہ کی قسم کو جایز سمجھتے ہیں.[9]بلخی اس بارے میں بیان کرتا ہے:غیر خدا کی قسم کھانا حنفیوں کے نزدیک جایز ہے اور عموم علماء متفق ہیں  حتی اس میں کراہت بھی نہیں ہے.[10]

۲۔۲. شافعیه: ان کے نزدیک غیراللہ کی قسم مکروہ ہے.[11] نووی اس بارے میں بیان کرتا ہے کہ شافعی علماء کی اکثریت کے نزدیک، غیر اللہ کی قسم مکروہ ہے.[12]

۳۔۳  مالکیه: مشہور مالکی بھی غیراللہ کی قسم کو مکروہ سمجھتے ہیں ۔مالک بن انس ،[13] ابن رشد قرطبی،[14] کشناوی،[15] و... نے کراہت کا فتوی دیا ہے۔ کتاب  کتاب الموسوعة الفقهية الكويتية میں بھی مالکیوں کے نزدیک مورد اعتماد قول کراہت بیان ہوا ہے.[16]

۴۔۴. حنابله: حنابلہ کے نزدیک غیر اللہ کی قسم کھانے کے مورد میں پیامبر(ص) و غیر پیامبر(ص) کی قسم میں فرق ہے۔وہ کہتے ہیں: پیامبر(ص) کی قسم کھانا جایز ہے بلکہ شرعی ہے اور اس کا توڑنا موجب کفارہ بنتا ہے[17] لیکن اگر غیر اللہ کی قسم کھائی جائے تو پھر اس میں دو قول ہیں؛مشہور حنابلہ کہتے ہیں غیر پیامبر(ص) کی قسم  کھانا حرام ہے لیکن کراہت کا احتمال بھی ہے[18]۔ ان کے مقابلے میں حنابلہ کا ایک گروہ معتقد ہے کہ غیر پیامبر(ص) کی قسم کھانا مکروہ ہے لیکن حرمت کا احتمال بھی ہے[19]۔

اس بناء پر جمہور احناف، مالکی اور شافعی کی نظر میں غیر اللہ کی قسم کھانا جایز ہے؛ نتیجے کے طور پر، ابن تیمیہ جمہور فقہا کی طرف جو نسبت دیتا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔

غیر خدا کی قسم کھانے کے متعلق ابن تیمیہ کا اعتقادی نظریہ

ابن تیمیہ  پہلا شخص  ہے جس نے قسم  کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے ؛  مسلمانوں کی قسم) اللہ تعالی کی قسم( اور مشرکین کی قسم [20] )غیر اللہ کی قسم( اس تقسیم کے ساتھ، اس نے غیر اللہ کی قسم کو شرک قرار دیا ہے [21]اور وہ  اسے توحید عبادی کی خلاف ورزی سمجھتا ہے .[22]ابن تیمیہ اس بارے میں کہ کس طرح سے غیر اللہ کی قسم کھانا توحید عبادی کی خلاف ورزی ہے، کہتا ہے:قسم اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص حقوق میں سے ہے [23] اور اللہ تعالی کے خاص حقوق عبادت شمار ہوتے ہیں [24] اور جو بھی غیر اللہ کی قسم کھاتا ہے اس نے غیر خدا کی قسم کھائی ہے اور غیر خدا کو محبت، بغض اور امید میں خدا وند کے مساوی قرار دیا ہے [25]۔ اس بناء پر غیر خدا کی قسم کھانا ابن تیمیہ کے نزدیک توحید الہی کی خلاف ورزی ہے۔

ایک اور نکتہ یہ کہ ابن تیمیہ کے کلام میں موجود زیادہ تر قرائن اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں  کہ وہ غیر خدا کی قسم کھانے کو شرک اکبر سمجھتا ہے چونکہ اس کا عقیدہ ہے کہ جو بھی انبیاء کی قسم کھائے گا تو اس نے انہیں خدا وند کا "ند" [26] قرار دیاہے اور دوسری بات یہ کہ خدا کےلیے " ند" قرار دینا ابن تیمیہ کی نظر میں شرک اکبر ہے [27]۔ اس بنا ء پر، غیر اللہ کی قسم میں ابن تیمیہ کا مقصود شرک اکبر ہے۔

غیر خدا کی قسم  کا  شرک ہونے پر ابن تیمیہ کے دلائل

اپنے مدعی کو ثابت کرنے کےلیے ابن تیمیہ  دو روایتوں کا سہارا لیتا ہے:

۱۔ اس کی مہم ترین دلیل یہ روایت ہے: «   من حلف بغير الله فقد کفر او أشرك »[28] جو بھی غیر خدا کی قسم کھائے گا وہ مشرک اور کافر ہے۔ یہ روایت شرط و جزا پر مشتمل ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ابن تیمیہ اس بات پر اعتقاد رکھتا ہے کہ جملہ شرط "من حلف بغيرالله" عموم پر دلالت کرتا ہے اور غیراللہ کی تمام قسموں کو شامل ہے اور شارع نے بھی  ظاہر جملہ "جزاء فقد أشرک" کا ارادہ کیا ہے۔

۲۔ ابن تیمیہ کی دوسری دلیل ابن مسعود کا یہ کلام ہے: لأن أحلف بالله كاذبا أحب إلي من أن أحلف بغيره صادقا»؛[29]  اللہ تعالی کی جھوٹی قسم کھانا میرے نزدیک غیر اللہ کی سچی قسم کھانے سے بہتر ہے۔ابن تیمیہ کہتا ہے ابن مسعود کا غیر اللہ کی قسم کو ناپسند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کا عمل اس کے نزدیک شرک ہے لیکن اللہ تعالی کی جھوٹی قسم کھانا توحید ہے .[30]

غیر خدا کی قسم کھانے کے متعلق ابن تیمیہ کے اعتقادی نظریئے پر نقد

ابن تیمیہ کا غیراللہ کی قسم   کو شرک قرار دینے کی بنیاد  قسم کو عبادت  سمجھنا اور ظاہر روایات سے تمسک کرنا ہے؛اس بناء پر ابن تیمیہ  کے کلام پر ان دو جہات سے تنقید ہوگی۔

الف:ابن تیمیہ کے معیار کے مطابق قسم کا عبادت نہ ہونا

ابن تیمیہ نے عبادت کےلیے جو معیار بیان کیا ہے اس حساب سے غیر اللہ کی قسم عبادت نہیں ہے چونکہ وہ قائل ہے کہ افعال عبادی ایسے افعال ہیں  جن کی تشریع پیغمبر اکرم ص نے کی ہے اور یہ افعال واجبات اور مستحبات  میں منحصر ہیں۔اور اگر کوئی عمل مستحب یا واجب نہ ہو تو وہ عبادت نہیں[31]۔ اور دوسری بات یہ کہ قسم کے استحباب اور وجوب پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ زیادہ قسم کھانے کی مذمت کی گئی ہے، یہاں تک کہ ابن تیمیہ بھی اس شخص کو ذلیل ترین شخص سمجھتا ہے جو قسم زیادہ کھاتا ہے[32] ؛ لہذا قسم عبادت شمار نہیں ہوتی۔

ایک اور دلیل جو کہ ثابت کرتی ہے کہ غیر خدا کی قسم کھانا عبادت نہیں ، یہ ہے کہ ابن تیمیہ کی نظر میں عبادت کے مفہوم میں دو  بنیادی رکن موجود ہیں : «نهایت حب» اور «نهایت خضوع»[33] اگر ان میں سے ایک رکن  بھی نہ ہو تو  وہ عمل عبادت شمار نہیں ہوتا، در حالیکہ غیر اللہ کی قسم میں یہ دو رکن موجود نہیں بلکہ جو لوگ غیر خدا کی قسم کھاتے ہیں ان سے بے انتہا محبت اور خضوع نہیں رکھتے بلکہ اللہ تعالی سے ہی یہ لوگ بے انتہا محبت کرتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں خاضع ہیں۔پس نتیجہ یہ ہوا کہ ابن تیمیہ کے بیان کردہ معیارات کے مطابق غیراللہ کی قسم عبادت شمار نہیں ہوتی، اگر کوئی شخص غیر اللہ کی قسم کھاتا ہے تو وہ شرک الوہی کا مرتکب نہیں ہوا۔

 

ب۔ ادلہ، غیر خدا کی قسم کے شرک ہونے پر دلالت نہیں کرتیں

ابن تیمیہ نے اپنے ادعا کے اثبات کےلیے جو دلائل پیش کیے ہیں الگ سے ان کی جانچ پڑتال ہوگی اور یہ ثابت ہوگا کہ ان میں سے کوئی بھی دلیل غیر خدا کی قسم   کےشرک ہونے پر دلالت نہیں کرتی۔

۱۔ روایت «من حلف بغیرالله فقد اشرک»کی جانچ پڑتال

یہ حدیث ابن تیمیہ کی غیر اللہ کی قسم کے شرک ہونے پر اہم ترین دلیل ہے کہ جس کی سند اور دلالت دونوں مخدوش ہیں ۔اس روایت کی سند کو ماہرین حدیث جیسےبیهقی،[34] طحاوی[35] اور وادعی[36]  نے منقطع جانا ہے۔البتہ اگر اس کی سند کو قبول بھی کیا جائے تب بھی اس صورت میں حدیث ابن تیمیہ کے مدعا پر دلالت کرتی ہے کہ پیامبر اسلام ص نے جملہ شرط: «من حلف بغیر‌الله» سے عموم کا ارادہ کیا ہو، جبکہ ایسا نہیں  ، پہلی بات تو یہ کہ خود  نبی گرامی اسلام(ص) نے   بنا بر روایات صحیح اور متعدد غیر اللہ کی قسم کھائی ہے؛ مثال کے طور پر،  آنحضرت ص امر بہ معرف اور نہی از منکر کی سفارش کرتے ہوئے  اپنی جان کی قسم کھاتے ہیں ، فرماتے ہیں: «فلعمري لأن تكلم بمعروف، وتنهى عن منكر خير من أن تسكت»؛[37]  مجھے اپنی قسم اگر امر بہ معروف اور نہی از منکر کرو گے تو یہ خاموش رہنے سے بہت بہتر ہے؛ اسی طرح آپ ص نے صدقہ کے حوالے سے ایک صحابی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے اس کے باپ کی قسم کھائی ہے، فرمایا: «أَمَا وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّهُ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَخْشَى الْفَقْرَ»؛تمہارے باپ کی قسم میں تمہیں آگاہ کررہا ہوں کہ وہ صدقہ بہت قیمتی ہے جو کہ انسان سلامتی اور نیازمندی میں فقر سے خوف کی وجہ سے نکالے۔[38] 

رسول خدا کے علاوہ بزرگان صحابہ نے بھی غیر اللہ کی قسم کھائی ہے۔ مثال کے طور پر، پہلا خلیفہ اپنے ایک خط میں جو اس نے خالد بن ولید کےلیے لکھا تھا، اس میں اس نے اپنی جان کی قسم کھائی ہے ۔ کہتا ہے:

«لعمري يا بن أُمِّ خَالِدٍ، إِنَّكَ لَفَارِغٌ تَنْكِحُ النِّسَاءَ»؛ مجھے اپنی قسم ،ائے خالد تو فارغ ہے اور عورتوں سے نکاح کےلیے تیرے پس فرصت ہے [39]رسول خدا ص اور صحابہ کرام کی جانب سے متعدد قسموں کا واقع ہونا اس بات پر دال ہے  کہ غیر اللہ کی قسم کھانا شرک نہیں  کیونکہ اگر شرک ہوتا تو پیامبر اسلام ص اور صحابہ کرام اپنی قسم نہ کھاتے۔پس جب غیراللہ کی قسم شرک نہیں، تمام مصادیق میں ،تو اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جملہ شرط کا ظاہر آنحضرت ص کا مقصود نہیں تھا۔

دوسری بات یہ کہ  اس طرح کی [40]اور روایات کی طرف رجوع کرکے اس نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں کہ  جملہ شرط سےرسول خدا ص کی مرادمشرکین اور ان کے مقدسات  ہیں ۔  چونکہ رسول خدا   نے اس روایت میں مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ: بِاللَّاتِ وَالعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ[41]» جو کہ مذکورہ روایت کی طرح ہے یعنی جملہ شرط و جزا پر مشتمل ہے- جملہ شرط سے مراد لات و عزی کی قسم کے ساتھ خاص کردی ہے ، اورچونکہ بتوں کی قسم کھانا حرام ہے، [42]اس سے واضح ہوجاتا ے کہ تمام بتوں  کی قسم کھانا عموم جملہ شرطیہ میں باقی ہے۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ مشرک والدین کی قسم کھانا بھی بتوں کی قسم کھانے کے مترادف ہے[43] یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پیامبر اسلام نے مشرکوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔پس اس بنیاد پر یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ جملہ شرط سے رسول خدا کی مرادمشرکوں اور انکے مقدسات کی قسم ہے۔اس کے علاوہ صدور [44]روایت بیان شدہ مطلب کی تایید کرتا ہے۔

اور تیسری بات یہ کہ بہت سارے علماء اس حدیث کو اس مورد پر حمل کرتے ہیں جہاں پر قسم کھانے والا  اللہ تعالی کے ساتھ مختص  تعظیم،  غیراللہ کےلیے بجا لائے.[48]

پس قرائن اور فہم علما کی بنیاد پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ جملہ شرطیہ اپنے عموم پر باقی نہیں  اور رسول خدا  کی مراد غیر اللہ کے تمام مصادیق نہیں تھے اور اتنی سی بات کافی ہے کہ غیر خدا کی قسم کو شرک قرار نہ دیا جائے۔

ایک اور مسئلہ جس پر بحث ہوسکتی ہے وہ یہ کہ  اگر جملہ شرطیہ ، غیر اللہ کے تمام مصادیق کو شامل ہوجائے تو اس صورت میں یہ روایت ابن تیمیہ کے مدعا پر دلالت کرسکتی ہے کہ جملہ جزا "فقد اشرک" بھی اپنے ظاہر پر باقی رہے جبکہ ایسا نہیں ہوا  چونکہ پیامبر اسلام ص اور صحابہ نے  غیر اللہ کی قسم کھائی ہے اگر جملہ جزا کا ظاہر رسول خدا کا مقصد ہوتا تو اس کا لازمہ یہ بنتا ہے کہ پیامبر  اسلام ص اور صحابہ  کرام شرک کے مرتکب ہوئے۔

دوسرا یہ کہ بہت سارے علما نے جزاء کو کراہت پر حمل کیا ہے۔ نمونے کے طور پر هیتمی[49] و ابوالبرکات حنبلی[50] کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے جوکہ مذکورہ حدیث سے کراہت سمجھے ہیں۔اسی طرح بزرگان جیسے حجرعسقلانی[51] قسطلانی،[52] نووی،[53] وغیرہ نے کفر اور شرک کی تعبیر کو مبالغہ اور اظہار ناپسندیدگی قرار دیا ہے[54]۔ اس بناء پر موجودہ قرائن اور علماء کی فہم سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ جملہ جزا اپنے ظاہر پر باقی نہیں ہے۔

پس مذکورہ حدیث اپنے ظاہر پر باقی نہیں اور صرف اس کے ظاہر کی وجہ سے درست نہیں کہ غیر خدا کی قسم کھانے کو شرک قرار دیا جائے۔

ابن مسعود کے کلام کی جانچ پڑتال

غیراللہ کی قسم  کے شرک ہونے پر ابن تیمیہ کی دوسری دلیل ابن مسعود کا کلام ہے۔ ابن مسعود اللہ تعالی کی جھوٹی قسم کھانے کو  غیر خدا کی سچی قسم کھانے سے بہتر سمجھتا ہے۔ ابن تیمیہ ،ابن مسعود کی اس بات کو غیر خدا کی قسم  کے شرک ہونے کے طور پر  معرفی کرتا ہے۔ابن تیمیہ کی یہ دلیل بھی سند اور دلالت کی جہت سے  اشکال رکھتی ہے۔یہاں پر اس  حوالے سے بات ہوگی۔

الف:سند کی جانچ پڑتال

اس روایت کی دو سندیں ہیں اور دونوں کے دونوں ضعیف ہیں۔ایک سند میں وبرہ، ابن مسعود سے نقل کرتا ہے[55]؛ جبکہ وبرہ چھوتھے طبقے سے تعلق رکھتا ہے، بغیر واسطے کے ممکن نہیں کہ وبرہ ابن مسعود سے جو کہ 32 یا 33 میں فوت ہوچکا ہے حدیث نقل کرے[56]۔اس بناء پر مذکورہ سند مرسل ہے۔اور دوسری سند میں ابی بردہ(متوفی 140-130)، ابن مسعود سے بغیر واسطے کے حدیث نقل کرتا ہے پس یہ بھی مرسل ہے[57]۔اس بناء پر ابن مسعود کا کلام مرسل ہے اور قابل استدلال نہیں ہے۔

ب۔ حدیث کی دلالی جانچ پڑتال

ابن مسعود کا کلام ہر  زبان میں موجود ایک  عام سی بات ہے جوکہ مبالغہ اور ناپسندیدگی کے اظہار کےلیے استعمال ہوتی ہے، مثال کے طور پر، شعبہ نے ابان بن ابی عیاش سے نقل حدیث کی ناپسندیدگی کا اظہار ان الفاظ میں کیا:لأن أزني سبعين مرة أحب إلي من أن أحدث عَن أَبَان بْن أَبِي عياش»؛[58] اگر میں ۷۰ بار زنا کروں تو یہ کام مجھے ابان بن ابی عیاش سے حدیث نقل کرنے سے زیادہ محبوب  و پسند ہے۔[59] فارسی زبان میں بھی اس کی ایک مثال موجود ہے: آدم از گرسنگی بمیرد بهتر از آن است که برای فلانی کار کند. فلاں کام کرنے سے بہتر ہے کہ انسان بھوک سے مرجائے۔ ان باتوں کا کہنے والا کسی کام سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ابن مسعود کا کلام کچھ اور کلمات کے ساتھ بھی بیان ہوا ہے جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ مقام مبالغہ اور اظہار ناپسندیدگی میں ہے«لأَنْ أَحْلِفَ بِاللَّهِ وَأَصْدُقَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنَّ أَحْلِفَ بِغَيْرِ اللَّهِ وَأَصْدُقَ»؛[60] اللہ تعالی کی سچی قسم کھانا، غیر خدا کی سچی قسم کھانے سے مجھے زیادہ پسند ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر اللہ کی قسم کھانا ابن مسعود کے نزدیک جایز ہے اور یہ کہنا چاہتا ہے کہ غیر خدا کی قسم کھانا اسے پسند نہیں ، اسی طرح بعض علماء نے کہنے والے کے مقصد کو مبالغہ در نہی جانا ہے۔.[61]

ایک اور اشکال یہ ہے کہ ابن تیمیہ کی بات حجیت قول صحابی کے باب میں خود اس کے اپنے مبانی اور اصولوں کے خلاف ہے؛ابن تیمیہ کے مطابق، قول صحابی اس صورت میں حجت ہے کہ جب کوئی اور صحابی اس کے قول کی مخالفت نہ کرے[62] جبکہ دوسرے اصحاب نے غیر خدا کی قسم کھائی ہے، لہذا ابن مسعود کی بات حجت نہیں اور اس کی بات سے تمسک کرنا ابن تیمیہ کے مبانی کے خلاف ہے۔ان کے کلام  کے ظاہر پر توجہ کرنے سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس طرح کا مطلب خلاف واقع ہے اور در حقیقت روایت پر اپنی سمجھ کو مسلط کرنا ہے۔

ابن تیمیہ کے نظریئے پر کلی نقد

ابھی تک غیراللہ کی قسم کے حرام اور شرک ہونے پر ابن تیمیہ کی ادلہ پر جدا اور مفصل بحث ہوئی لیکن آگے چل کر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ ابن اتیمیہ کی نظر  ظاہر قرآن و سنت اور اس کے اپنے مبانی کے خلاف ہے۔

۱۔ ظاہر قرآن کے مخالف

خدا وند متعال  قرآن مجید کی بہت ساری آیات میں اپنی مخلوقات جیسے  زمین و آسمان ، سورج و چاند  اور دن رات کی قسم کھاتے ہیں ۔ان آیات میں سے ایک سورہ شمس کی آیتیں ہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: )وَالشَّمْسِ وَ ضحُئهَا وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَئهَا وَالنهَّارِ إِذَا جَلَّئهَا وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَئهَا وَ السَّمَاءِ وَمَا بَنَئهَا وَالْأَرْضِ وَ مَا طحَئهَا وَ نَفْسٍ وَمَا سَوَّئهَا(؛ سورج اور اس کی پھیلی ہوئی روشنی کی قسم ،چاند کی قسم جب وہ سورج کے پیچھے آتا ہے۔دن کی قسم جب ہر جگہ کو روشن کرتا ہے۔رات کی قسم جب وہ دن کو ڈھانپ لیتی ہے۔آسمان کی قسم اور اس کی قسم جس نے اسے بنایا ہے۔زمین کی قسم اور اس کی قسم جس نے اسے بچھائی ہے۔ انسان کی جان کی قسم اور اس کی قسم جس نے اسے اس طرح کے کامل نظام  کے ساتھ بنایا ہے.[63]

مفسرین میں سے طبری بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے ان آیتوں میں مخلوقات کی قسم کھائی ہے[64] اور ابن تیمیہ بھی یہ یقین رکھتا ہے کہ ان آیتوں میں اللہ تعالی نے مخلوقات کی قسم کھائی ہے.[65] قرآن کریم میں مختلف مخلوقات کی قسم کا واقع ہونا اس بات پر دلیل ہے کہ غیر اللہ کی قسم جایز ہے۔ اگر غیر اللہ کی قسم کھانا اللہ تعالی کے ساتھ مختص امور میں سے ہوتا ، تو قرآن جو کہ کتاب ہدایت ہے انسانوں کےلیے، یا رسول خدا جو کہ مفسر قرآن ہیں  وہ واضح طور پر بیان کرتے کہ مخلوقات کی قسم کھانا جو کہ قرآن میں مذکور ہیں اللہ تعالی کے ساتھ مختص ہیں۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیات اور روایات میں  اس طرح کی کوئی بات قسم کے متعلق بیان نہیں ہوئی، غیر خدا کی قسم کھانا جایز ہے۔

سنت کے مخالف

غیر خدا کی قسم کھانے کو حرام قرار دینا اور اسے شرک قرار دینا ، یہ سنت رسول خدا(ص) اور  سیره صحابه کے خلاف ہے۔رسول خدا(ص) اور صحابه کرام نے متعدد مقامات میں غیر خدا کی قسم کھائی ہے جن میں سے بعض کی طرف یہاں پر اشارہ کیا جاتا ہے:

الف: پیامبر(ص) کا غیر اللہ کی قسم کھانا

ان مورارد کے علاوہ جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے،رسول خدا  نے کچھ اور موارد میں  بھی  غیر اللہ کی قسم کھائی ہے،مثال کے طور پر ، ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے انتہائی مستحق لوگوں کے بارے میں پوچھا تو رسول خدا ص  نے جواب دینے کے بعد ارشاد فرمایا: : «نَعَمْ، وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّ»؛[66] تمہارے باپ کی قسم تجھے بتایا گیا۔ اسی طرح سے پیامبر(ص) جابر سے گفتگو کے دوران اپنی جان کی قسم کھاتے ہیں :لعمري ما نفعناك لننزلك عنه»؛[67]۔

 مجھے اپنی قسم اگر ہم آپ سے اونٹ لے لیں تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔اس بناء پر غیر اللہ کی قسم کا حرام اور شرک ہونا مخالف عمل رسول خدا(ص) ہے۔

صحابہ کی قسمیں

بہت سے صحابہ جیسے ابوبکر ، عمر بن الخطاب ، علی ابن ابی طالب (ع) ، عائشہ ، ابن عباس  وغیرہ نے غیر اللہ کی قسم کھائی ہے۔ پہلے خلیفے نے خالد بن سعید کےلیے ایک خط میں اپنی جان کی قسم کھائی ہے: : «أَقِمْ مَكَانَكَ، فَلَعَمْرِي إِنَّكَ مِقْدَامٌ مِحْجَامٌ»؛[68] اپنی جگہ کھڑے رہو (حملہ نہ کرو)؛ میں تمہاری قسم کھاتا ہوں ، کہ تم  وہ ہو جو بہت حملہ کرتے ہو اور خوف کے مارے بہت پیچھے ہٹتے ہو۔ خلیفہ دوم نے بھی بہت سارے موارد میں اپنی قسم کھائی ہے: : «فَلَعَمْرِي لَقَدْ دُفِنَ فِي هَذَا الْبَقِيعِ...»؛[69] مجھے اپنی قسم بقیع میں کچھ لوگ دفن ہوگئے ہیں۔احد سے واپسی پر ، امام علی علیہ السلام نے فاطمہ 3 سے خطاب کیا: «..لعمري لقد أعذرت في نصر أحمد..»؛[70] میں اپنی زندگی کی قسم کھاتا ہوں ، میں نے رسول اللہ (ص) کی مدد کے لئے ایسی کوشش کی کہ میں اپنے رب سے معافی مانگتا ہوں۔

رسول خدا (ص) کی اہلیہ عائشہ نے متعدد مواقع پر خدا کے سوا کسی اور کی قسم کھائی ہے۔مثال کے طور پر بخاری نقل کرتا ہے: «لَعَمْرِی لقد اسْتَیْقَنُوا بِذَلِکَ...»؛[71] مجھے اپنی قسم انبیاء اس مسئلے پر یقین رکھتے ہیں۔ مسلم نے یوں بیان کیا ہے:لَعَمْرِي، مَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ»؛[72]  مجھے اپنی قسم رسول خدا ص رجب میں عمرہ بجا نہیں لائے۔ابن عباس دانشمند و مفسر بزرگ قرآن[73] نے بھی بارہا اپنی قسم کھائی ہے: «فَلَعَمْرِي، لَقَدْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلَى عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ»؛[74]مجھے اپنی قسم رسول خدا کے زمانے میں صحابہ متعہ کرتے تھے۔صحابہ مذکور کے علاوہ حفصہ،[75] اسما بن عمیس،[76] خالدین بن ولید،[77] معاذ بن جبل[78]  اور دیگر صحابہ نے بھی غیر اللہ کی قسم کھائی ہے۔لہذا، غیر اللہ کی قسم کو حرام اور شرک قرار دینا ،خلفا، زوجات رسول خدا اور بہت سارے صحابہ کی سیرت کے خلاف ہے۔

۳۔سلف کا خلف پر برتری  والے مبنی کی مخالفت

غیر اللہ کی قسم کا حرام  اور شرک ہونا ابن تیمیہ کے مبنی   ؛خلف پر سلف کی برتری کے خلاف ہے۔ابن تیمیہ اس مبنا کے مطابق ،سلف کو تمام امور (اعم از علم و عمل، عقل و دین، ایمان و عبادت)، میں خلف سے بہتر جانتا ہے[79]۔اس بنیا پر، اگر صحابہ کا کسی علم سے تعلق ہو  تو وہ عمل مشروع ہوگا ؛اب جب کہ بہت سارے صحابہ نے غیر اللہ کی قسم کھائی ہے اور حتی ان میں سے بعض (عثمان بن أبی العاص)، کی یہ سیرت رہی ہے کہ وہ غیراللہ کی قسم کھاتے تھے[80] غیر خدا کی قسم مشروع ہوجائے گی اور اس طرح کی قسم کا حرام اور شرک ہونا ابن تیمیہ کے مبنا اور خلف پر سلف کی برتری کے خلاف ہوگا۔

۴۔عدم التزام عملی

ابن تیمیہ نے  اس کے باوجود کہ  بیان فتوا میں اپنے مبانی کے بر خلاف عمل کیا ہے، عمل میں بھی اس نے اپنے فتوے پر عمل نہیں کیا  اور غیر خدا کی قسم کھائی ہے۔ اس کی کتابوں  میں  ایک سادہ تحقیق سے  پتہ چل جاتا ہے کہ اس نے اپنی قسم کھائی ہے۔نمونے کے طور پر ذیل میں چند موارد کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

۱۔ هذا لعمری فی الاختلاف الذی هو تناقض حقیقی»؛[81] مجھے اپنی قسم  یہ مطلب اختلافی بحث میں ہے جس سے مراد وہی تناقض حقیقی ہے۔

۲۔«هذا لعمری عن منفعته فی سایر العلوم»؛[82] مجھے اپنی قسم یہ دوسرے علوم کے فوائد میں سے ہے۔

۳۔  . «وهذا لعمری فی الحدود التی لیس فیها باطل»؛[83] مجھے اپنی قسم یہ مسئلہ اس مرحلے میں ہے کہ  جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔لہذا ابن تیمیہ مقام عمل میں بھی اپنے فتوے پر پابند نہیں ۔

نتیجہ

جو مطالب بیان ہوئے ان کی بنیاد پر واضح ہوجاتا ہے کہ ابن تیمیہ سے پہلے، غیر خدا کی قسم  سے بحث صرف فقہ میں ہوتی  تھی لیکن ابن تیمیہ نے  نگاہ اعتقادی کا اس میں اضافہ کیا ۔ مباحث فقہی میں غیر خدا کی قسم پر دو طرح سے بحث ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ  غیر خدا کی قسم توڑنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا ۔ابن تیمیہ بھی عموم فقہا کی طرح  اس بات پر اعتقاد رکھتا تھا  کہ اس طرح کی قسم پر عمل کرنا واجب نہیں  اور اس کے توڑنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا ۔ ابن تیمیہ کا فقہی اختلاف دوسرے علماء سے  اس بات میں ہے کہ ابن تیمیہ عموم فقہا کے برعکس  معتقد تھا کہ غیر خدا کی قسم حرام ہے۔ابن تیمیہ اس حال میں  حرمت کا قائل ہوا  کہ اس کے دلائل اس کے مدعا  کو ثابت نہیں کرتے  بلکہ اس نے غیر حقیقی انداز میں اپنی نظر کی نسبت جمہور علما کی طرف دی ہے۔

ابن تیمیہ کا ایک اور اختلاف مذا ہب اسلامی سے غیر خدا کی قسم کے موضوع میں اس کا اعتقادی نظریہ ہے۔اس نے غیر خدا کی قسم کھانے کو توحید عبادی کے منافی جانا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ابن تیمیہ نے اس  وقت  ایسے نظریئے کا اظہار کیا   کہ جب  بحث عبادت میں اس کے اپنے مبانی کے مطابق قسم عبادت کا حصہ شمار نہیں ہوتی کہ  جس کی وجہ سے مسلمان غیر خدا کی قسم کھانے کی وجہ سے  شرک الوہی سے دوچار ہوں ۔

دوسری بات یہ کہ  اس کی ادلہ غیر خدا کی قسم کھانے کو شرک ثابت نہیں کرسکیں  اور اس کی اہم ترین دلیل کی جانچ پڑتال سے  یعنی حدیث «من حلف بغیرالله» یہ معلوم ہوا  کہ حدیث اپنے ظاہر پر باقی نہیں  اور وہ ان روایات کے مفہوم میں سوء تفاہم کا شکار ہوا ۔

تیسری بات یہ کہ اس طرح کی نظرظاهر قرآن و سنتِ صحیحِ پیامبر(ص) اور  سیره صحابه کے خلاف ہے۔ خلاصہ  یہ کہ  اس طرح کا حکم ابن تیمیہ کے خلف پر سلف کی برتری والے مبنا کے خلاف ہے۔

ابن تیمیہ کی باتوں کا جائزہ لینے سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ اس نے  ایک روایت کے ظاہر سے تمسک کرکے اور اپنے ظاہری مبانی کی بنیاد  پر مسلمانوں کو مشرک جانا ہےاور اس نظریہ کو بیان کرتے ہوئے ، اس نے اپنے دوسرے اصولوں پر بھی توجہ نہیں دی ہے۔ایسا لگتا  ہے  کہ ابن تیمیہ کا اپنے مبانی سے تضادات اور  ابن تیمیہ کی نظر میں غیر خدا کی قسم کے حرام نہ ہونے کے بارے میں تحقیق کرنے  کی ضرورت ہے۔

 

منابع

  1. 1.      قرآن کریم.
  2. 2.       ابن أبی شيبه، عبدالله، المصنّف في الأحاديث والآثار، محقق: كمال يوسف الحوت، ریاض: مكتبة الرشد، چاپ اوّل، 1409ق.
  3. ابن تيميه، أحمد، اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم، تحقيق: ناصر عبدالكريم العقل، بیروت: دار عالم الكتب، چاپ هفتم، 1419ق.
  4. ابن تیمیه، احمد، الإخنائية، جده: دارالخراز، 1420ق.
  5. ابن تیمیه، احمد، الاستقامة، محقق: محمد رشاد سالم، مدینه: جامعة الامام محمد بن سعود، چاپ اول، 1403ق.
  6. ابن تيميه، أحمد، المستدرك على مجموع فتاوى، گردآورنده: محمد بن عبدالرحمن بن قاسم، بی جا: چاپ اول، 1418ق.
  7. ابن تيميه، احمد، جامع المسائل، محقق: محمد عزیز شمس، مکه: دار عالم الفوائد للنشر والتوزيع، چاپ اول، 1424ق.
  8. ابن تيميه، احمد، مجموع الفتاوى، تحقيق: عبدالرحمن بن محمد بن قاسم، مدینه: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، 141(ص)ق.
  9. ابن جرير طبری، محمّد، تاريخ الرسل والملوك، بیروت: دارالتراث، چاپ دوّم، 138(ع)ق.

    10. ابن حجر عسقلانى، احمد، تهذيب التهذيب، هند: مطبعة دائرة المعارف النظامية، اوّل، 132(ص)ق.

    11. ابن حجر عسقلانى، احمد، فتح الباري شرح صحيح البخاري، بيروت: دارالمعرفة، 13(ع)9ق.

    12. ابن حنبل شيبانی، أحمد، مسند احمد، محقق: شعيب الأرنؤوط و ديگران، بیروت: مؤسسة الرسالة، چاپ اوّل، 1421ق.

    13. ابن رفعه، أحمد بن محمد، كفاية النبيه في شرح التنبيه، بیروت: دارالكتب العلمية، چاپ اول، 2009م.

    14. ابن عابدين، محمّد امين بن عمر، رد المحتار على الدر المختار، بيروت: دارالفکر، چاپ دوّم، 1412ق.

    15. ابن عامر اصبحی، مالک بن انس، المدونة، بیروت: دارالكتب العلمية، چاپ اول، 1415ق.

    16. ابن عبدالبر، يوسف، الاستذكار، تحقيق: سالم محمد عطا، محمد علی معوض، بیروت: دارالكتب العلمية، چاپ اوّل، 1421ق.

    17. ابن عساکر، أبوالقاسم علی بن حسن، تاريخ دمشق، محقق: عمرو بن غرامة العمروي، بیروت: دارالفكر للطباعة والنشر والتوزيع، 1415ق.

    18. ابن قدامه مقدسی، شمس الدین، الشرح الكبير على متن المقنع، بیروت: دارالكتاب العربي للنشر والتوزيع، بی تا.

    19. ابن قدامه مقدسی، عبدالله بن أحمد، الكافي في فقه الإمام أحمد، بیروت: دارالكتب العلمية، چاپ اول، 1414ق.

    20. ابن قدامه مقدسی، عبدالله بن أحمد، المغني، قاهره: مكتبة القاهرة، 1388ق.

    21. ابن مفلح، ابراهيم بن محمد، المبدع في شرح المقنع، بيروت: الكتب العلمية، چاپ اول، 1418ق.

    22. ابن ملک حنفی، محمد بن عزالدین، شرح مصابيح السنة للإمام البغوي، بی جا: إدارة الثقافة الإسلامية، چاپ اول، 1433ق.

    23. ابن منظور، محمد بن مكرم، لسان العرب، بيروت: دار صادر، چاپ سوم، 1414ق.

    24. ابوداود سجستانى، سليمان، سنن أبى داود، تحقيق: شعَيب الأرنؤوط، بیروت: دارالرسالة العالمية، اول1430ق.

    25. اصفهانی، أبونعيم، أخبار أصبهان، محقق: سيد حسن كسروی، بیروت: دارالكتب العلمية، چاپ اول، 1410ق.

    26. البانی، محمد، سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، ریاض: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، چاپ اوّل، 141(ص)ق.

    27. بخارى، محمّد، صحيح بخاری، تحقيق: محمد زهير بن ناصر، بیروت: دار طوق النجاة، چاپ اوّل، 1422ق.

    28. بلخی، نظام الدین، الفتاوى الهندية، بیروت: دارالفكر، چاپ دوم،1310ق.

    29. بيهقى، أحمد، السنن الكبرى، تحقيق: محمد عبدالقادر عطا، بیروت: دارالكتب العلمية، چاپ سوم، 1424ق.

    30. بيهقی، احمد، دلائل النبوة، تحقیق: عبدالمعطی قلعجی، بیروت: دارالكتب العلمية، چاپ اوّل، 1408ق.

    31. ترمذى، محمّد، سنن الترمذى، تحقيق: بشار عواد معروف، بیروت: دارالغرب الإسلامى، 1998م.

    32. تنوخی حنبلی، أبوالبركات، الممتع في شرح المقنع، مکه: مكتبة الأسدي، چاپ سوم، 1424ق.

    33. جرجانی، أحمد بن عدی، الكامل في ضعفاء الرجال، تحقیق: عادل أحمد عبدالموجود، بیروت: دارالكتب العلمية، چاپ اول، 1418ق.

    34. جمعی از نویسندگان، الموسوعة الفقهية الكويتية، کویت: دارالسلاسل، چاپ دوم، 140(ص)ق.

    35. جوينی، عبدالملك بن عبدالله، نهاية المطلب في دراية المذهب، جده: دارالمنهاج، چاپ اول، 200(ع)م.

    36. حاكم نيشابورى، محمّد، المستدرك على الصحيحين، تعليق: محمد بن أحمد ذهبى، تحقيق: مصطفى عبدالقادر عطا، بیروت: دارالكتب العلمية، چاپ اوّل، 1411ق.

    37. دمیری، محمد بن موسى، النجم الوهاج في شرح المنهاج، جده: دارالمنهاج، چاپ اول، 1425ق.

    38. ذهبى، محمد بن احمد، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، تحقيق: بشار عوّاد معروف، تونس: دارالغرب الإسلامى، چاپ اوّل، 2003م.

    39. ذهبی، محمّد بن احمد، سير أعلام النبلاء، محقق: شعيب الأرناؤوط، بیروت: مؤسسة الرسالة، چاپ سوّم، 1405ق.

    40. رافعی قزوينی، عبدالكريم بن محمد، العزيز شرح الوجيز المعروف بالشرح الكبير، محقق: علی محمد، بیروت: دارالكتب العلمية، چاپ اول، 141(ع)ق.

    41. رويانی، عبدالواحد بن إسماعيل، بحر المذهب في فروع المذهب الشافعي، بیروت: دارالكتب العلمية، چاپ اول، 2009م.

    42. زرکشی، بدرالدین محمد بن عبدالله، البرهان فی علوم قرآن، تحقیق: محمد أبوالفضل إبراهيم، مصر: دار إحياء الكتب العربية، چاپ اول، 13(ع)(ص)ق.

    43. سرخسی، محمّد بن أحمد، المبسوط، بيروت: دارالمعرفة، 1414ق.

    44. شیبانی، محمد بن حسن، المخارج في الحيل، قاهره: مكتبة الثقافة الدينية، 1419ق.

    45. صنعانى، عبدالرزاق، المصنف، محقق: حبيب الرحمن أعظمى، هند: المجلس العلمي، چاپ دوّم، 1403ق.

    46. طبرى، محمد بن جرير، جامع البيان فى تفسير القرآن، بيروت: دارالمعرفه، چاپ اول، 1412ق.

    47. طحاوی، أحمد بن محمد، شرح مشكل الآثار، محقق: شعيب الأرنؤوط، بیروت: مؤسسة الرسالة، چاپ اول، 1415ق.

    48. عمرانی شافعی، يحيى بن أبی الخير، البيان في مذهب الإمام الشافعي، جده: دارالمنهاج، چاپ اول، 1421ق.

    49. فرقانی، فیض محمد، نذر وسوگند از دیدگاه فقه حنفی، زاهدان: نیکو، چاپ اول، 1392ش.

    50. قاری، علی بن محمد، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، بيروت: دارالفكر، چاپ اوّل، 1422ق.

    51. قرطبی، محمد بن أحمد، المقدمات الممهدات، تونس، دارالغرب الإسلامي، چاپ اول، 1408ق.

    52. قسطلانی، احمد بن محمّد، إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، مصر: المطبعة الكبرى الأميرية، چاپ هفتم، 1323ق.

    53. مزی، يوسف بن عبدالرحمن، تهذيب الكمال في أسماء الرجال، محقق: بشار عواد معروف، بیروت: مؤسسة الرسالة، چاپ اوّل، 1400ق.

    54. نسائی، أحمد بن شعيب، السنن الكبرى، محقق: شعیت ارناووط و دیگران، بیروت: مؤسسة الرسالة، چاپ اول، 1421ق.

    55. نووی، يحيى بن شرف، المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، بيروت: دارإحياء التراث العربي، چاپ دوّم، 1392ق.

    56. نيشابورى، مسلم، صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقى، بیروت: دار إحياء التراث العربى، بى تا.

    57. هیتمی ابن حجر، أحمد بن محمد، تحفة المحتاج في شرح المنهاج، مصر: المكتبة التجارية الكبرى، 135(ع)ق.

    58. وادعی، مقبل بن هادی، أحاديث معلة ظاهرها الصحة، قاهره: دارالآثار للنشر والتوزيع، چاپ دوم، 1421ق.

     

    [1]. (ابن تيميه، احمد، مجموع الفتاوى، ج1، ص204)؛ « ابن تیمیہ کی نظر میں خدا وند متعال کی قسم کھانا شرعی ہے اور اس کا توڑنا کفارہ رکھتا ہے»؛ (ابن تيميه، احمد، اقتضاء الصراط المستقيم، ج2، ص326).

    [2]. ابن تيميه، احمد، الفتاوى الكبرى، ج5، ص552.

    [3]. « بیشک اللہ نے تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھا نے سے منع کیا ہے۔ تم یا تو خدا کی قسم کھاؤ یا خاموش رہو”؛ (بخارى، محمّد، صحيح بخاری، ج8، ص27).

    [4]. ایضا، ج1، ص335.

    [5]. ابن تيميه، احمد، مجموع الفتاوى، ج1، ص204؛ همان، ج27، ص349.

    [6]. نیشابوری، مسلم، صحيح مسلم، ج1، ص41 .

    [7]. طبری، محمّد بن جرير، تاريخ الرسل والملوك، ج3، ص386.

    [8]..رسول خدا ص اور صحابہ کرام کی قسموں کے بارے میں آگے کچھ موارد بیان ہونگے۔

    [9]. ابن عابدين، محمّد امين بن عمر، رد المحتار على الدر المختار، ج3، ص705؛ ابن نجيم، زين الدين بن ابراهيم، البحر الرائق شرح كنز الدقائق، ج4، ص301؛ فرقانی، فیض محمد، نذر و سوگند از دیدگاه فقه حنفی، ص45.

    [10]. بلخی، نظام الدین، الفتاوى الهندية، ج2، ص52.

    [11]. «شافعی لکھتا ہے: َكُلُّ يَمِينٍ بِغَيْرِ اللَّهِ فَهِيَ مَكْرُوهَةٌ»؛ (شافعی، محمّد بن ادريس، الأم، ج7، ص64)؛ (جوينی، عبدالملک، نهاية المطلب في دراية المذهب، ج18، ص301)؛ (نووی، يحيى بن شرف، المنهاج، ج11، ص106)؛ (عمرانی شافعی، يحيى، البيان في مذهب الإمام الشافعي، ج10، ص494).

    [12]. نووی، يحیی بن  شرف، المجموع شرح المهذب، ج18، ص18.

    [13]. ابن عامر، مالک بن  انس، المدونة، ج1، ص583.

    [14]. قرطبی، ابن رشد، المقدمات الممهدات، ج1، ص575.

    [15]. کشناوی، أبوبكر بن حسن، أسهل المدارك، ج2، ص21.

    [16]. جمعی از نویسندگان، الموسوعة الفقهية الكويتية، ج7، ص1.

    [17]. مقدسی، ابن قدامه، الشرح الكبير، ج11، ص178؛ ابن مفلح، إبراهيم، المبدع في شرح المقنع، ج8، ص67،

    [18]. مقدسی، ابن قدامه، المغني ج9 ص 489-488؛ ابن مفلح، إبراهيم، المبدع، ج8، ص65.

    [19] . مقدسی، شمس الدین، الشرح الكبير، ج11، ص177؛ تنوخی حنبلی، أبوالبركات، الممتع في شرح المقنع، ج4، ص429.

    [20]. « ابن تیمیہ کی نظر میں پیامبر اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم ، انبیاء،صالحین،کعبہ،اباو اجداد،بچے اور کلی طور پر ہر قسم جو غیر خدا کے نام کھائی جائے مشرکین کی قسمیں ہیں۔»؛ (ابن تيميه، احمد، مجموع الفتاوى، ج33، ص122).

    [21]. ابن تيميه، احمد، مجموع الفتاوى، ج1، ص81.

    [22]. «ابن‌تیمیه نے توحید کو توحید در ربوبیت اور توحید در الوہیت میں تقسیم کیا ہے »؛ (ابن تیمیه، احمد، مجموع الفتاوی، ج10، ص 264) ؛ «توحید ربوبی کا مطلب، خالقیت او ربوبیت کا خدا وند کے ساتھ مختص ہونا ہے. توحید الوهی کا مطلب عبادت کا خدا کےساتھ مختص ہونا ہے»؛ (ابن تیمیه، احمد، درء التعارض العقل و النقل، ج1، ص226)؛ (ابن تیمیه، احمد، مجموع الفتاوی، ج3، ص101)؛ ( ابن تیمیه، احمد، الاستقامة، ج2، ص31)

    [23]. ابن تيميه، احمد، مجموع الفتاوى، ج27، ص93.

    [24]. ابن تیمیه، احمد، الإخنائية، ص208.

    [25]. ابن تيميه، احمد، مجموع الفتاوى، ج27، ص339.

    [26]. "ند،شریک کے معنی میں ہے.

    [27]. ایضا، ج17، ص145.

    [28]. ترمذى، محمّد، سنن الترمذى، ج3، ص162.

    [29]. صنعانى، عبدالرزاق، المصنف، ج8، ص469 .

    [30]. ابن تيميه، احمد، مجموع الفتاوى، ج1، ص81.

    [31]. «أنَّ العبادات مَبْنَاها على توقيفِ الرسولِ وطاعةِ أمرِه والاقتداءِ به، فلا يكون شيءٌ عبادة إلاّ أن يَشرعَه الرسولُ، فيكون واجبًا أو مستحبًّا، وما ليسَ بواجب ولا مستحبٍّ فليسَ بعبادةٍ باتفاقِ المسلمين»؛ (ابن تيميه، احمد، جامع المسائل، ج5، ص106).

    [32]. ابن تیمیه، احمد، مجموع الفتاوی، ج16، ص 66.

    [33]. «العبادة المأمور بها تتضمن معنى الذل ومعنى الحب فهي تتضمن غاية الذل لله بغاية المحبة له»؛ (همان، ج10، ص153).

    [34]. بيهقى، أحمد، السنن الكبرى، ج10، ص52.

    [35]. طحاوی، أحمد، شرح مشكل الآثار، ج2، ص300.

    [36]. وادعی، مقبل، أحاديث معلة ظاهرها الصحة، ص249-248 .

    [37]. شيبانی، أحمد، مسند احمد، ج36، ص286.

    [38]. نيشابورى، مسلم، صحيح مسلم، ج2، ص716.

    [39]. طبری، محمّد، تاريخ الرسل والملوك، ج3، ص300 .

    [40]. «ارجاع به نظیر،قواعد میں سے ایک ہے جوکہ متکلم کی مراد کو کشف کرنے کےلیے استعمال ہوتا ہے »؛ (زرکشی، بدرالدین، البرهان فی علوم قرآن، ج۲، ص199).

    [41]. «جو بھی لات و عزی کی قسم کھائے، اسے چاہیے کہ کلمه لا اله الله کو اپنی زبان پر جاری کرے»؛ (بخاری، محمد، صحيح بخاری، ج8، ص27).

    [42]. «لَا تَحْلِفُوا بِالطَّوَاغِي؛ بتوں کی قسم نہ کھائیں»؛ (نیشابوری، مسلم، صحيح مسلم، ج3، ص1268).

    [43]. «لا تحلفوا بآبائكم، ولا بأمهاتكم، ولا بالأنداد، اپنے ماں باپ اور بتوں کی قسم نہ کھائیں»؛ (سجستانى، سليمان، سنن أبى داود، ج3، ص222).

    [44]. روایت  اس وقت صادر ہوئی جب خلیفہ دوم نے اپنے مشرک باپ کی قسم کھائی.

    [45]. رافعی قزوينی، عبدالكريم، العزيز شرح الوجيز، ج12، ص235.

    [46]. قاری، علی بن محمد، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج6، ص2242.

    [47]. رافعی قزوينی، عبدالكريم، العزيز شرح الوجيز، ج12، ص235؛ دمیری، محمد، النجم الوهاج، ج10، ص9؛ عمرانی شافعی، يحيى بن أبی الخير، البيان في مذهب الإمام الشافعي، ج10، ص493؛ رويانی، أبوالمحاسن، بحر المذهب، ج10، ص368.

    [48]. ابن رفعه، أحمد، كفاية النبيه، ج14، ص412؛ رافعی قزوينی، عبدالكريم، العزيز شرح الوجيز، ج12، ص235؛ دمیری، محمد، النجم الوهاج، ج10،ص9.

    [49]. هیتمی، ابن حجر، تحفة المحتاج في شرح المنهاج، ج10، ص4.

    [50]. تنوخی حنبلی، أبوالبركات، الممتع في شرح المقنع، ج4، ص430.

    [51]. ابن حجر عسقلانى، احمد، فتح الباری، ج11، ص531.

    [52]. قسطلانی، احمد بن محمّد، إرشاد الساري، ج9، ص375.

    [53]. نووی، محيی الدين، المجموع شرح المهذب، ج18، ص17.

    [54].  اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ غیر خدا کی قسم کھانامذکورہ علماء کے نزدیک جایز ہے، بیان شدہ تعابیر سے مراد کراہت ہے۔

    [55]. صنعانى، عبدالرزاق، المصنف، ج8، ص469.

    [56]. مزی، يوسف، تهذيب الكمال، ج30، ص426؛ ذهبى، محمد، تاريخ الإسلام، ج3، ص333؛ عسقلانى، ابن حجر، تهذيب التهذيب، ج11، ص111.

    [57]. عسقلانى، ابن حجر، تهذيب التهذيب، ج12، ص18؛ مزی، يوسف، تهذيب الكمال، ج33، ص66؛ ذهبی، محمّد، سير أعلام النبلاء، ج5، ص5.

    [58]. جرجاني، أحمد، الكامل في ضعفاء الرجال، ج2، ص57.

    [59]. «لأن أكون رأسا فى الضلالة أحب الى من أن أكون ذنبا فى الهداية» و «لأن يذمني ابن زياد حياً أحب إلي من أن يمدحني ميتاً» مذکورہ باتوں کی دوسری مثالیں ہیں.

    [60]. اصفهانی، أبونعيم، أخبار أصبهان، ج2، ص 151.

    [61]. شیبانی، محمد بن حسن، المخارج في الحيل، ص101؛ سرخسی، محمّد بن أحمد، المبسوط، ج30، ص215.

    [62]. ابن تیمیه، احمد، مجموع الفتاوى، ج20، ص14.

    [63]. سوره شمس، آیات 7-1.

    [64]. طبرى، محمد، جامع البيان، ج30، ص133.

    [65]. ابن تیمیه، احمد، مجموع الفتاوى، ج4، ص259.

    [66]. نیشابوری، مسلم، صحيح مسلم، ج4، ص1974.

    [67]. ابن  حنبل شيبانی، أحمد، مسند، ج23، ص151.

    [68]. ابن جرير طبری، محمّد، تاريخ الرسل والملوك، ج3، ص392.

    [69]. ابن أبی شيبه، عبدالله، المصنّف، ج7، ص440؛ حاكم نيشابورى، محمّد، المستدرك على الصحيحين، ج3، ص99.

    [70]. حاكم نيشابورى، محمّد، المستدرك على الصحيحين، ج3، ص27.

    [71]. بخارى، محمّد، صحيح بخاری، ج6، ص77.

    [72]. نيشابورى، مسلم، صحيح مسلم، ج2، ص916.

    [73]. نسائی، أحمد، السنن الكبرى، ج7، ص321.

    [74]. نيشابورى، مسلم، صحيح مسلم، ج2، ص1026.

    [75]. بيهقی، احمد، دلائل النبوة، ج7، ص188 .

    [76]. حاكم نيشابورى، محمّد، المستدرك على الصحيحين، ج3، ص177.

    [77]. صنعانى، عبدالرزاق، المصنف، ج5، ص483 .

    [78]. ابن عساكر، علی، تاريخ دمشق، ج58، ص433 .

    [79]. ابن تیمیه، احمد، مجموع الفتاوی، ج4، ص158.

    [80]. «كانت يمين عثمان بن أبي العاص لعمري»؛ (ابن أبی شيبه، عبدالله، المصنّف، ج3، ص80).

    [81]. ابن تيميه، احمد، مجموع الفتاوى، ج6، ص58.

    [82]. ایضا، ج9، ص25.

    [83]. ایضا، ج9، ص90.

نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ