حوالہ :  اختصاصی سایت الوهابیه
سؤال

  کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام کو حرز اور محافظ  ہونے پر اعتقاد رکھنا  شرک اور توحید کے منافی ہے  ؟

دعوت سلفیہ  کے نائب سربراہ ، ڈاکٹر یاسر براہمی نے ، ایک فتوا میں ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام کو حرز اور محافظ  ہونے پر اعتقاد رکھنے کو  شرک قرار دیتے ہوئے، اسے توحید کے منافی سمجھا ہے ۔.[1]

وہ اپنے فتویٰ کی دلیل کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے قرآن کی کچھ آیات کے مطابق ، صرف خدا ہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔ "الله خَيْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ[2]"  "وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ[3]"

غیر خدا کسی بھی نفع اورضرر کا مالک نہیں ہے. "قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ[4]"

اس شبہے کی وضاحت میں یہ کہنا چاہیے کہ اجمالی طور پر یہ بات سب کے لئے ثابت ہے کہ کچھ الفاظ اور ناموں میں کچھ ایسے آثار چھپے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے یہ الفاظ اور اسماء دوسرے تمام الفاظ اور اسماء سےحکم میں ممتاز اور مختلف ہوجاتے ہیں،  اس بات میں کوئی شک نہیں ہے مثلا قرآن کریم کے الفاظ ،عبارت  اوربعض اسماء متبرکہ کو قرآن کے حکم کے مطابق[5]   "لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ"[6]   بغیر طہارت  مس کرنا جائز نہیں ہے  واضح اور بدیہی ہے کہ یہ فرق ان اسماء کے مسماء کی وجہ سے ہیں اور قرآن میں بھی یہ فرق کلام کے مالک اور خالق کی وجہ سے ہے یہی وجہ ہے کہ اگر قرآن کے کسی لفظ کو غیر قرآن کی نیت سے لکھا جائے تو بغیر شک وتردید اس لفظ کو طہارت کے بغیر مس کرنا جائز ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے ذہن میں چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان کچھ اسماء والفاظ میں ایک اثر ہے اور اسی اثر کی وجہ سے یہ اسماء قابل احترام ہیں۔ لیکن مذکورہ شبہ جس میں پیامبراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اسم مبارک کا موثرہونے اور حرز ہونے کے عقیدے کو شرک اور توحید سے خارج ہونے کے برابر قراردیا تھا ، اس شبہ کا جواب واضح ہونے کے لئے چند ایک جوابات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

 

-[1] https://b2n.ir/309333

[2]- سوره یوسف، آیه 64.

[3]- سوره انعام، آیه 17.

[4]- سوره اعراف، آیه 187.

-[5] https://b2n.ir/173710

[6] . سوره واقعة ، آیه 79.

جواب

پہلا جواب :عالم تکوین میں بعض الفاظ، اسماء اور اعمال  کا موثر ہونا

 بہت ساری روایات اور متعدد تجربی ادلہ موجود ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ عالم تکوین میں بعض افعال موثر ہیں ، ان ادلہ کی طرف اشارہ کریں گے :

گناہ اور رزق کا رابطہ

  مسند احمد جیسی اہل سنت کی کتابوں میں ایک روایت موجود ہے جو اس بات پر دلالت کرتی  ہے کہ گناہ  رزق کو روکتا ہے اور واضح ہے کہ یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ گناہ عالم تکوین میں موثر ہے.[1]

 پانی کا متاثر ہونا

اسماء اور اشیاء کا عالم تکوین میں موثر ہونے کے   ادلہ میں سے ایک دلیل وہ تحقیق ہے جسے سائنسی آزمایشگاہوں میں انجام دے کر ثابت کیا گیا ہے ،[2] ان میں سے ایک پانی کا معجزہ ہے علمی استناد کے ساتھ ثابت ہے کہ الفاظ اور اشیاء پانی کے مالیکیولوں  پر اثر انداز ہوتی ہیں اس علمی مستند میں ثابت ہے کہ برے الفاظ پانی کے مالیکیول کے نظم کو ختم کرتے ہیں.

یہ  تجربی نظریہ ،   مشہور وہابی عالم بن باز کے زمین کی عدم حرکت [3] والے نطریے کے رد کے بعد سلفی  عقاید  پر دوسرےرد  کے طور پر رقم کر سکتے ہیں۔

اگر محمد کے نام پر متعدد صحابہ کے نام رکھنے کا مسئلہ [4]، پیامبر اکرم کا آپ کی کنیت کے ساتھ کسی کی کنیت رکھنے سے منع کرنا [5]، عرش الہی میں پیامبر اکرم کے نام مبارک کا خدا وند کے اسم مبارک کے ساتھ ہونا [6]، بزرگان اهل سنت کا اپنی تالیفات کے شروع  میں پیامبر اکرم کے نام مبارک سے شروع کرنا یا کتاب کے کسی باب کا اسی اسم مبارک سے منسوب کرنا[7]،اہل سنت کا احتلام سے بچنے کے لئے عمر کے نام کے ساتھ تبرک کرنا[8]  اور ان سب سے زیادہ مہم یہ کہ حضرت آدم (علیه السلام) کو ان اسماء میں سے بعض کا تعلیم دینا اور ملائکہ کے لئے تعجب کا سبب بنا [9] اور ...یہ تمام چیزیں کسی بھی بے غرض محقق کے سامنے رکھ دیا جائے تویہ بات واضح اور روشن ہوجاتی ہے کہ کچھ اسماء موثر ہیں اور ان کا موثر ہونا توحید کے منافی نہیں ہے اوریہ توحید اور یگانہ پرستی کے تضاد میں نہیں.

دوسرا جواب: پیامبر اکرم (صلی الله علیه وآله) کے نام کا حرز ہونا

ابوبکر اور پیامبر کا اسم گرامی

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک کے موثر اور محافظ  ہونے کے بارے میں جو روایات  نقل ہوئی ہیں  ان میں سے واضح ترین    ابو بکر کی وہ روایت ہے جس  کو   واقعہ ذی قار کے  حوالے سے نقل کیا ہے ۔.[10]

اس روایت میں ذکر ہوا ہے کہ ہم نے واقعہ ذی قار میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے نام کو اپنا شعار قرار دیا اور ہم فاتح ہوگئے ۔   اس روایت سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ عمل اصحاب میں رایج تھا ۔ اگر  براہمی اپنی بات پر اصرار کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ اصحاب کو مشرک جانے۔

ایک مہم نکتہ یہ ہے کہ اصحاب کا یہ عمل استغاثہ اور توسل کے عنوان سے نہیں تھا بلکہ اصحاب فقط حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کو زبان پر جاری کرتے تھے اور اس عمل کو پیامبر اکرم نے  سکوت بلکہ تصریح کے ساتھ تائید فرمائی ہے  ، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا؛ میرے وسیلہ سے ان کی مدد ہوئی ہے "بی نصروا".

دوسری روایت اہل کتاب کا پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کے ذریعے مدد طلب کرنا ۔

ابن عمر کا یا محمد کہنا

اور ایک روایت جو یہ سمجھاتی ہے کہ پیامبر اکرم (صلی الله علیه وآله) کا اسم مقدس حفاظت کرنے کا اثر رکھتا ہے ، ابن عمر کی روایت ہے یہ روایت ہمارے مدعا کو ثابت کرنے کے ساتھ یہ بھی سمجھاتی ہے کہ اصحاب کے درمیان رائج سیرہ بھی یہی تھا کہ وہ اسم مبارک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کو حافظ سمجھتے تھے ۔

اس روایت میں ہے کہ جب ابن عمر کا پاوں سن ہوگیا تو ان کے ساتھیوں میں سے بعض نے اسے یہ پیش کش کی کہ وہ لوگوں میں سے محبوبترین نام کو اپنی زبان پر جاری کرے، تو اس وقت وہ اسم پیامبر اکرم کو زبان پر جاری کرنے کے ساتھ ہی ٹھیک ہوجاتا ہے ۔[11]

اس حدیث کے بارے میں مزید مطالعہ کے لئے مراجعہ کریں ،الوہابیہ سائٹ.[12]

دلیل اولویت

اس بات کا امکان ہے کہ کوئی یہ اشکال کرے کہ اس روایت میں ابن عمر نے پیغمبر اکرم کے اسم مبارک کو زبان پر جاری کیا ہے حقیقت میں اس نے استغاثہ کرکے شفا پائی  ہے لہذا اس سے رسول اللہ کا  اسم مقدس محافظ ہونا اور حرز ہونا سمجھ میں نہیں آتا بلکہ یہ ایک الگ بات ہے ۔

اس کے جواب میں کہیں گے ؛یہ ایک مسلم عقلی قاعدہ ہے کہ کسی چیز کا رفع اس کے دفع سے زیادہ سخت ہے  پس جب نبی اکرم  (صلی الله علیه وآله)  کا اسم مبارک درد کو رفع کرنے والا ہوسکتا ہے جیسا کہ روایت بیان ہوئی ، تو بطریق اولی یہ اسم مبارک نزول بلاکے لئے مانع اوراس کے مقابلے میں حرز بن سکتا ہے ۔

اهل کتاب کا پیامبر (صلی الله علیه وآله) کے اسم مبارک کے ذریعے مدد طلب کرنا

پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کا موثر ہونے کے دلائل میں سے ایک دلیل سورہ بقرہ کی آیت ۸۹ ہے جس میں ضمنا اشارہ ہے کہ اہل کتاب نبی خدا کے اسم مبارک کے ساتھ مدد طلب کرتے تھے ۔

سورہ بقرہ کی آیت ۸۹ کی تفسیر میں ایک واقعہ ذکرہوا ہے جو اس بات پر  دلالت کرتا ہے کہ اہل کتاب پیامبر اکرم  (صلی الله علیه وآله) کی ولادت اور بعثت سے پہلے آپ (صلی الله علیه وآله) کے اسم مبارک کے ذریعے مدد طلب کرتے تھے ۔نہ یہ کہ آپ  (صلی الله علیه وآله) کے وجود ، حق اور جاہ سے مدد طلب  کرتے ہوں ۔

 اہل سنت کے بہت سارے  مفسروں نے سورہ بقرہ کی آیت ۸۹ کے ذیل میں اسی نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یستفتحون سے مراد پیامبر اکرم (صلی الله علیه وآله) کے ذریعے مدد طلب کرنا.[13]  اور یہ بالکل  برہانی کے قول کے برخلاف اور ان کے اس مسئلہ میں شرک سمجھنے کے نظریےکا نقض اور رد ہے.

مجاهد، بغوی، زجاج، ابن ابی حاتم، طبری، سمرقندی و ... جیسے بزرگان کے کلام کو اس مورد میں اختصار کی خاطر ذکر نہیں کرتے ہیں اور محترم قارئین کو سورہ بقرہ آیت ۸۹ کے ذیل میں ذکر شدہ تفاسیر کی طرف مراجعہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔  [14]

تیسرا جواب : پیامبر (صلی الله علیه و آله)  کے اسم مبارک کو حرز ماننا  اصلا واساسا شرک نہیں ہے

جونکات ذکر ہوئے ان پر توجہ دی جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کے موثر ہونے کا عقیدہ نہ فقط شرک نہیں ہے بلکہ اس پر اصحاب بھی عمل کرتے تھے (یعنی یہ عقیدہ اصحاب کا عملی سیرہ ہے )۔

پیامبراکرم (صلی الله علیه وآله) کے اسم مبارک کے حرز سمجھنے کو شرک قرار دینے کے لئے  برہانی نے جن آیات پر استناد کیا ہے ان کا جواب یہ ہے کہ یہ آیات ،  پیامبر اکرم کے نام کو حرز قرار دینا شرک ہے ،  پر  اصلا دلالت نہیں کرتی ۔قرآن کریم کا اگر وسیع مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جن آیات نے  تمام اموریا خاص طور پر محافظت کے مسئلہ کو خدا کے ساتھ نسبت دیا ہے [15]  ان آیات کے مقابلے  میں کچھ  آیات ایسی بھی  ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عالم کے امور اور لوگوں کی حفاظت میں ملائکہ کا بھی کردار ہے۔  بعض آیات ملائکہ کے محافظ ہونے کے لئے بارے میں صریح ہیں جیسے  سورہ رعد کی آیت ۱۱: 

«لهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللّهِ إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلاَ مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ» {الرعد/11}

یا آیه 61 سوره انعام:

«وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُم حَفَظَةً حَتَّىَ إِذَا جَاء أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لاَ يُفَرِّطُونَ» {الأنعام/61}.

و آیه 10 سوره انفطار و آیه 4 سوره طارق:

«إِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ {الإنفطار/10} كِرَامًا كَاتِبِينَ {الإنفطار/11} يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» {الإنفطار/12}.

«إِن كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ» {الطارق/4}.

یہ ساری آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ غیر خدا کی محافظت اصلا توحید کے منافی  اور متضاد نہیں ہے  اور اگر ایسا نہ ہو تو لازم آتا ہے کہ کہا جائے اللہ تبارک تعالی خود عالم کی تدبیر میں شرک کا شکار ہوا ہے،پس ایسا نہیں ہے بلکہ غیر اللہ کی محافظت کا قائل ہونا عین توحید ہے اس لئے کہ یہ تمام اختیارت اللہ کی  ولایت کے طول میں ہے اور اللہ کے ارادہ اور اس کے اذن سے ہی انجام پاتےہیں جیسا کہ سورہ انعام کی آیت 61 سے بھی یہ بات عیاں ہے  "وَيُرْسِلُ عَلَيْكُم حَفَظَةً" خداوند حفظة کو کام  کےلئے مامور کرتاہے۔

پس برہانی  نے شرک سے مراد اسماء صفات میں شرک لیا ہویا  شرک ربوبی کا قصد کیا  ہو  ہر صورت میں اس کا کلام سیرہ اور صریح کتاب کی رو سے مردود ہے اوریہ مشرک کہنااس کی جہالت یا خود غرضی کی عکاسی ہے ، جہاں  اس نے دوسرے مسلمانوں کو نہایت ناچیز بہانے کے ساتھ مشرک کہا ہے۔

 [1] حدثنا عبد اللَّهِ حدثني أبي ثنا وَكِيعٌ ثنا سُفْيَانُ عن عبد اللَّهِ بن عِيسَى عن عبد اللَّهِ بن أبي الْجَعْدِ عن ثَوْبَانَ قال قال رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ الْعَبْدَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ وَلاَ يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلاَّ الدُّعَاءُ وَلاَ يَزِيدُ في الْعُمُرِ إِلاَّ الْبِرُّ. مسند الإمام أحمد بن حنبل ، اسم المؤلف:  أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني الوفاة: 241 ، دار النشر : مؤسسة قرطبة – مصر، مسند أحمد بن حنبل  ج 5   ص 282

[2] https://b2n.ir/755126

[3] https://www.youtube.com/watch?v=nbzh7p2ZlFQ

[4].  «حدثنا عبد اللَّهِ حدثني أبي ثنا محمد بن جَعْفَرٍ ثنا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قال حدثني شُعْبَةُ قال سمعت قَتَادَةَ يحدث عن سَالِمِ بن أبي الْجَعْدِ قال حَجَّاجٌ في حَدِيثِهِ قال سمعت سَالِماً عن جَابِرِ بن عبد اللَّهِ الأنصاري ان رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ وُلِدَ له غُلاَمٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّداً فَأَتَى النبي صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فقال أَحْسَنَتِ الأَنْصَارُ تَسَمَّوْا باسمي وَلاَ تَكَنَّوْا بكنيتي»: مسند الإمام أحمد بن حنبل ، اسم المؤلف:  أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني الوفاة: 241 ، دار النشر : مؤسسة قرطبة - مصر مسند أحمد بن حنبل  ج 3، ص 298.

[5] . «تَسَمَّوْا باسمي وَلاَ تَكَنَّوْا بكنيتي»: مسند أحمد بن حنبل  ج 3   ص 298، عون المعبود شرح سنن أبي داود ، اسم المؤلف:  محمد شمس الحق العظيم آبادي الوفاة: 1329 ، دار النشر : دار الكتب العلمية - بيروت - 1995م ، چاپ دوم. عون المعبود  ج 13، ص 210.

[6] . ابن تيميه حراني، احمد، مجموع الفتاوى، تحقيق: عبد الرحمن بن محمد بن قاسم، مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، مدينة نبوية، 1416ق. ج2، ص159.

[7] . سير أعلام النبلاء ، اسم المؤلف: محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذهبي أبو عبد الله الوفاة: 748 ، دار النشر : مؤسسة الرسالة - بيروت - 1413 ق، چاپ نهم ، تحقيق : شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي، سير أعلام النبلاء  ج 16، ص 43.

.[8] https://b2n.ir/480485.

[9] . سوره بقره، آیه 31.

[10] . «قلت : هذه الكلمة « وبی نصروا » رواها الطبراني من طريق خالد بن سعيد بن العاص عن أبيه عن جده فذكر قصة إرسال النبي عن أبا بكر الى بكر بن وائل وعرضه الإسلام عليهم وفيه :قالوا : حتى يجيء شيخنا فلان - قال خلاد : « أحسبه قال : المثنی بن خارجة - فلما جاء شيخهم عرض عليهم أبو بكر رضي الله عنه ، قال : إن بيننا وبين الفرس حربة فإذا فرغنا مما بيننا وبينها عدنا فنظرنا . فقال أبو بكر : أرأيت إن غلبتموهم أتتبعنا على أمرنا ؟ قال : لا نشترط لك هذا علينا . ولكن اذا فرغنا فيما بيننا وبينهم عدنا فنظرنا فيما نقول ، فلما التقوا يوم ذي قار هم والنمرس، قال شيخهم : ما اسم الرجل الذي دعاكم الى الله ؟ قالوا : محمد ، قالوا : هو شعاركم فنصروا على القوم . فقال رسول الله علة : بي نصروا »: المعجم الكبير ، اسم المؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب أبو القاسم الطبراني الوفاة: 360 ، دار النشر : مكتبة الزهراء - الموصل - 1404 - 1983 ، چاپ دوم، تحقيق : حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ج 6 ، ص 62.

[11] . «حدثنا محمد بن خالد بن محمد البرذعي، ثنا حاجب بن سليمان، ثنا محمد بن مصعب، ثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن الهيثم بن حنش، قال: كنا عند عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، فخدرت رجله، فقال له رجل: " اذكر أحب الناس إليك. فقال: يا محمد صلى الله عليه  وسلم. قال: فقام فكأنما نشط من عقال»: عمل اليوم والليلة سلوك النبي مع ربه عز وجل ومعاشرته مع العباد: أحمد بن محمد المعروف بـ «ابن السُّنِّي» (م 364)، تحقيق: كوثر البرني، دار القبلة للثقافة الإسلامية ومؤسسة علوم القرآن، بيروت. ص 141.

[12]https://b2n.ir/123261.

[13] . زاد المسير في علم التفسير ، اسم المؤلف:  عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزي الوفاة: 597 ، دار النشر : المكتب الإسلامي - بيروت - 1404 ، چاپ سوم، ج 1، ص 114.

[14] . «وأخرج أبو نعيم في الدلائل من طريق الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس قال : كان يهود أهل المدينة قبل قدوم النبي صلى الله عليه وسلم إذا قاتلوا من يليهم من مشركي العرب من أسد وغطفان وجهينة وعذرة يستفتحون عليهم ويستنصرون يدعون عليهم باسم نبي الله فيقولون : اللهم ربنا انصرنا عليهم باسم نبيك وبكتابك الذي تنزل عليه الذي وعدتنا إنك باعثه في آخر الزمان»: الدر المنثور ، اسم المؤلف: عبد الرحمن بن الكمال جلال الدين السيوطي الوفاة: 911 ، دار النشر : دار الفكر - بيروت - 1993 الدر المنثور  ج 1، ص 216.

«وجاء فى تفسير البغوى : ( ولما جاءهم كتاب من عند الله ) يعني القرآن ( مصدق ) موافق ( لما معهم ) يعني التوراة ( وكانوا ) يعني اليهود ( من قبل ) قبل مبعث محمد صلى الله عليه وسلم ( يستفتحون ) يستنصرون ( على الذين كفروا ) على مشركي العرب ، وذلك أنهم كانوا يقولون إذا حزبهم أمر ودهمهم عدو : اللهم انصرنا عليهم بالنبي المبعوث في آخر الزمان ، الذي نجد صفته في التوراة ، فكانوا ينصرون»: أبو محمد الحسين بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوي الشافعي، معالم التنزيل في تفسير القرآن، تحقیق عبد الرزاق المهدي، دار إحياء التراث العربي -بيروت ج1، ص 141.

«كذلك اليهود الذين كانوا حوالي المدينة كانوا يقرون بالنبي صلى الله عليه وسلم قبل أن يخرج وكانوا إذا حاربوا أعداءهم من المشركين يستنصرون باسمه»: تفسير السمرقندي المسمى بحر العلوم ، اسم المؤلف: نصر بن محمد بن أحمد أبو الليث السمرقندي الوفاة: 367 ، دار النشر : دار الفكر - بيروت ، تحقيق : د.محمود مطرجي تفسير السمرقندي  ج 1، ص 57.

.[15] فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا {النازعات/5}.

«إِنَّ رَبَّكُمُ اللّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الأَمْرَ مَا مِن شَفِيعٍ إِلاَّ مِن بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلاَ تَذَكَّرُونَ»{يونس/3}

«اللّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لأَجَلٍ مُّسَمًّى يُدَبِّرُ الأَمْرَ يُفَصِّلُ الآيَاتِ لَعَلَّكُم بِلِقَاء رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ» {الرعد/2}

«فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلاَ تَضُرُّونَهُ شَيْئًا إِنَّ رَبِّي عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ» {هود/57}

تصاویر
نام
نام خانوادگی
ایمیل ایڈریس
ٹیکسٹ